رہ نمائی (ذہنی اذیت)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نیلم علی راجہ کا کیس’’ذہنی اذ یت‘‘ اسٹڈی کیا ،بڑی تکلیف ہوئی کہ رشتۂ ازدواج واحد وہ رشتہ ہے جو آسمان پر طے ہوتا ہے،باقی دنیا کے تمام رشتے اسی دنیا میں بنتے ہیں اور شادی جیسا مقدّس رشتہ ایک سال بھی بمشکل چلا۔معصوم لڑکی پر ظلم ہوا، جو رشتہ خدا کا بنایا ہوا ہو اور اسے انسان اپنی نادانیوں کی وجہ سے خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے کبھی خود ختم کر لے اور کبھی دوسروں کے دباؤ میں آکر ختم کر دے؛اپنی ہی جان پر ظلم کرنا، دوسرے کو اذیت دینا ،سراسراللّٰہ کے فرمان سے سرتابی اور اس کے متعین کردہ حدود کو توڑنا ہے۔دراصل ہم سب اسی معاشرے کا حصّہ ہیں۔اس طرح کی تکالیف پہنچانے والے مسائل اپنے ارد گرد عزیزو اقارب میں بھی دیکھنے سننے کو مل جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔
کیس میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا نفسیاتی مریض نکلا۔یہ بھی بڑا سچ ہے کہ جسمانی مرض میں مبتلا انسان کی دواؤں سے صحتیاب ہونے کی گنجائش ہوتی ہے ،لیکن ذہنی مریض کا علاج صرف اور صرف اپنوں کی محبت ،اور ان کی خصوصی توجہ ہی ہو سکتی ہے۔اور اس کیس میں ایسا ہوا بھی تھا،مگر دنیا کی چاہت رکھنے والی ماں بہنوں نے ایسا ہونے نہیں دیا۔اب بات آتی ہے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟کیا دنیا کی سبھی ماں بہنیں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ کیا اس رشتے کے ختم ہو جانے میں صرف لڑکے والے ہی قصوروار ہوتے ہیں؟کیا سبھی والدین اسی طرح اپنی بیٹی کو بغیر کسی چھان بین کے بیاہ دیتے ہیں؟ لڑکی کے والدین کو بھی پہلے اس بات کا پتہ لگانا چاہیے تھا کہ لڑکا ان کی بیٹی کے لائق ہے یا نہیں؟دنیا کی چکاچوند اور بس بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جانا ہی کافی نہیں ہے۔سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔بے شک ہر کام میں اذن تو الہی کا ہی ہوتا ہے مگر یہ بھی بڑی سچائی ہے کہ کسی برے فعل کا ذمہ دار انسان خود ہوتا ہے ۔

رہ نمائی

اگر ہم غور کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس طرح کے مسائل کیوں پیدا اہوتے ہیں؟اس مقدّس رشتے کو لوگ پامال کیوں کرتے ہیں؟تو میری نظر میں ایک اہم پہلو نکل کر سامنے آتا ہے اور وہ ہے مسلمانوں کی دین سے دوری،قرآن سے دوری،اللّہ کے احکامات کو توڑنے پر ان سے ملنے والی سزاؤں سے بےخبری؛اور ایسا انسان کرتا کیوں ہے؟کیوں اتنا بے خبر ہے؟ کیوں کسی چیز کا اسے خوف نہیں؟قرآن کریم کی چند آیات کی روشنی میں اگر ہم غور و فکر کریں تو اسے سانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔
’’سورۃ العلق ‘‘کی آیت نمبر:6,7,8 ملاحظہ کیجیے!
آیت نمبر 6

أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِیم
بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰٓىۙ‏ ۞

ترجمہ:ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے۔آیت نمبر 7

اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰىؕ ۞

ترجمہ:اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے۔آیت نمبر 8

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجۡعٰىؕ‏ ۞

ترجمہ:(حالانکہ) پلٹنا یقیناً تیرے رب ہی کی طرف ہے۔
یہ تین آیات آخرت کا بہترین فلسفہ سمجھاتی ہیں۔آیت نمبر:6 بتلاتی ہے کہ انسان زیادتی،طغیانی،سرکشی اور ظلم پر آمادہ ہو ہی جاتا ہے۔اب کوئی حساس،ذہین اور سنجیدہ انسان غور کرے کہ یہ سب معاشرے میں کیوں ہو رہا ہے؟ظلم اور زیادتی کیوں کی جارہی ہے؟ غلط روش کیوں اختیار کی جا رہی ہے؟ تو اسکی وجہ آیت نمبر 7 سے سمجھ آتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ وہ مستغنی ہو گیا ہے،اس پر اس کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔اگر انگارہ زبان پر رکھےگا تو زبان جل جائےگی۔جھوٹ بولےگا تو کچھ نہیں ہوگا۔اگر زہر کھا لے تو فوراً مر جائےگا۔سود اور حرام کا مال کھا ئے تو کچھ نہیں ہوگا۔
یہ جو دنیا ہے یہ Physical Laws پر چل رہی یہاں Moral Laws کا کوئی شعور ہی نہیں رہا۔اخلاقی قوانین انسان کے نفس میں تو ہیں کہ یہ اچّھا ہے، یہ صحیح ہے،یہ غلط ہے،مگر دنیا جو چل رہی ہے اس میں ان اخلاقی قوانین کا کوئی دخل نہیں ہے، وہ صرف فزیکل لاز پر چل رہی ہے۔آگ جلا دےگی اور جھوٹ سے ایک چھالا بھی نہ ہوگا۔زہر فوراً اثر کرےگا اور حرام خوری جتنی مرضی کر لیں۔اللّہ تعالیٰ نے انسان کواس کی مرضی اور منشا پر اختیار دےکر دنیا میں بھیجا تاکہ وہ آزمایا جائے،اور بس اسی مرضی کے اختیار کے تحت وہ منمانی کرنے لگتا ہے۔
یعنی Moral law is not operative only physical law operative.بس یہ ہی وجہ ہے کہ انسان سرکشی پر اتر آتا ہے،دوسروں کو تکلیفیں دینے لگتا ہے،رشتے خراب کرتا ہے،رشتوں کی عظمتیں پامال کی جاتی ہیں۔اب بات ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟تو آیت نمبر 8 اس کا بہترین جواب دیتی ہےکہ انسان کا یہ پختہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اسے لوٹ کر اپنے رب ہی کی طرف جانا ہے۔حساب کتاب ہوگا،جواب دہی ہوگی،یہ یقین اگر اسکے اندر بیٹھ جائے تو ایک Self Sensor پیدا ہو جائے گا کہ میں کوئی کام ایسا نہ کروں جس کی جواب دہی مشکل ہو جائے۔
لوٹ کر اسی رب کے حضور پیش ہونا ہے،گویا اس پورے معاملے کا حل یہی ہے کہ اگر کسی معاشرے کا اخلاقی زوال آ چکا ہو تو اس کا علاج ایک ہی ہے،اور وہ ہے آخرت کا یقین۔ہر چیز کی جواب دہی ہوگی،حساب کتاب ہوگا،جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی اسے اسکا بدل ضرور ملےگا۔جس نے ذرہ برابر بھی بدی کی ہوگی،اس کی پکڑ ہونی ہے۔
جب تک انسان یہ نہیں سمجھےگا تب تک اسی طرح سرکشی کرتا رہےگا۔اس لئے میں اس پورے کیس کو اس طرح سمجھ پائی ہوں اور اسی طرح ان معاملات کی رہنمائی بھی کرنا چاہتی ہوں کہ اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا،رب کے احکامات کی پابندی کرنا،قرآن و سنت کی روشنی میں رشتۂ ازدواج کو بہتر بنانا،ایک دوسرے کی عزت کرنا۔یہ سب اخلاقی قدریں ہیں، اگر انسان ان سب پر عمل کرنے لگے تو بہت سے رشتے خوشگوار ہو سکتے ہیں۔اپنی بات کو علامہ اقبال کے اس شعر کے ساتھ ختم کرتی ہوں :

تقدیر کے پابند جمادات و نباتات
انسان فقط اللّہ کے احکام کا پابند

اخلاقی قوانین انسان کے نفس میں تو ہیں کہ یہ اچّھا ہے، یہ صحیح ہے،یہ غلط ہے،مگر دنیا جو چل رہی ہے اس میں ان اخلاقی قوانین کا کوئی دخل نہیں ہے، وہ صرف فزیکل لاز پر چل رہی ہے۔آگ جلا دےگی اور جھوٹ سے ایک چھالا بھی نہ ہوگا۔زہر فوراً اثر کرےگا اور حرام خوری جتنی مرضی کر لیں۔اللّہ تعالیٰ نے انسان کواس کی مرضی اور منشا پر اختیار دےکر دنیا میں بھیجا تاکہ وہ آزمایا جائے،اور بس اسی مرضی کے اختیار کے تحت وہ منمانی کرنے لگتا ہے۔

2 Comments

  1. نیلم علی راجہ

    یہ میرا تحریر کردہ کیس ہے مشاہدہ ہے۔ میرا ذاتی کیس نہیں۔ درستگی کی جائے۔

    Reply
    • مبشرہ فردوس

      نیلم آپ کی جانب سے پیش کیا گیا کیس مراد ہے

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢