18 سالہ نو عمر کی امریکی اسکول میں فائرنگ
عالمی منظرنامہ
امریکہ کےٹیکساس اسکول شوٹنگ معاملہ میں ایک نوعمر بندوق بردار نے منگل کے روز ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں فائرنگ کرکے 18 طلباء سمیت 21 افراد کو ہلاک کردیا، جو کہ پچھلے برسوں میں امریکی اسکول میں ہونے والی سب سے مہلک فائرنگ ہے۔ اہلکاروں نے کہا کہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے بندوق بردار کو ہلاک کر دیا گیا، بعد ازاں حملے میں دو بالغ افراد بھی مارے گئے۔
یووالڈی میموریل ہسپتال نے ابتدا میں بتایا تھا کہ 13 بچے بس یا ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال لائے گئے، جبکہ ایک 66 سالہ خاتون ٹیچر کو کسی اور ہسپتال پہنچایا گیا۔
راب ایلیمنٹری ا سکول میں بچوں کی کل تعداد 600 سے کم بتائی جاتی ہے۔ یووالڈی کی کل آبادی تقریبا 16 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہ شہر میکسیکو کی سرحد سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر امریکہ میں واقع ہے۔
ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کے اہلکاروں نے صحافیوں کو بتایا کہ بندوق بردار نے دوپہر کے قریب روب ایلیمنٹری اسکول جانے سے پہلے اپنی دادی کو گولی مار دی تھی جہاں اس نے اپنی گاڑی کو چھوڑ دیا اور ایک ہینڈ گن اور رائفل کے ساتھ باڈی آرمر پہنے ہوئے اندر داخل ہوا۔
واقعے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیلی ویژن پر قوم سے مختصر خطاب میں گن لابی پر تنقید کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسے سانحوں کو روکنے اور اس درد کو اقدامات میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ افسردہ نظر آنے والے صدر بائیڈن نے کہا کہ ایک بچے کو کھو دینا ایسا ہے جیسے کسی نے آپ کی روح کو چیر دیا ہو۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نشانہ بنانے والی ایسالٹ رائفل استعمال کی۔
صدر بائڈن نے ایسے ہتھیاروں کی بآسانی خرید و فروخت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گنز بنانے والوں نے دو دہائیاں لگا دیں ایسے ہتھیاروں کی پر زور تشہیر پر، کیونکہ یہ بہت منافع بخش ہیں۔ صدر نے کہا کہ عام امریکی ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق معقول قوانین کی حمایت کرتے ہیں اور جو لوگ ان قوانین کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، انہیں یاد رکھا جائے گا۔
اپنے خطاب سے پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سمیت امریکہ بھر میں تمام سرکاری عمارتوں ، فوج کے اڈوں اور بحری جہازوں پر امریکی پرچم 28 مئی، 2022 ءکے غروبِ آفتاب تک سر نگوں رکھنے کا حکم دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک ریاستی سینیٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماس شوٹنگ کے اس واقعہ میں اٹھارہ بچوں کے علاوہ تین بڑے بھی ہلاک ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں ا ن اعداد میں حملہ آور کو شمار کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ کم از کم دو افراد سنگین حالت میں ہسپتال میں ہیں۔زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں تبدیلی کا امکان ہے۔بتایا جاتا ہے کہ مسلح شخص اسی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک ہینڈ گن اور رائفل کے ساتھ سکول میں داخل ہوا اور فائرنگ شروع کر دی۔تاہم واقعے کی چھان بین ابھی جاری ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢