درس قرآن
زمرہ : النور

بِسْمِ اللٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِِ
اَلرَّحۡمٰنُۙ ۞ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَؕ ۞ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَۙ ۞ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ ۞ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ۞ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰنِ ۞ وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَۙ ۞ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِى الۡمِيۡزَانِ ۞ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ ۞ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡاَنَامِۙ ۞ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ۖ ۙ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَكۡمَامِ‌ ۞ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ وَالرَّيۡحَانُ‌ۚ ۞ فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۞

حمٰن نے ۞ اِس قرآن کی تعلیم دی ہے ۞ اُسی نے انسان کو پیدا کیا ۞ اور اسے بولنا سکھایا ۞ سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۞ اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں ۞ آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۞ اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۞ انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو ۞ زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا۞ اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ۞ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی ۞
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ۞

رحمان نے قرآن سکھلایا ،انسان کو پیدا کیا ،گویائی سکھائی ، سورج اور چاند کا حساب ہے، ستارے اور بیلیں اور تنے دار درخت سجدہ ریز ہیں ،اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور ترازو قائم کیا،یہ کہ تم ترازو میں عدل میں سرکشی نہ کرو اور سیدھےترازو سے تولو انصاف کے ساتھ اور کم نہ تولو، زمین کو بچھایا مخلوق کے لئے اس میں میوے ہیں اور غلافوں کے اندر پھلوں والی کھجوریں ہیں اور اناج ہے بھوسے والا اور خوشبو دار پھول ہیں، تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے؟
ان آیتوں میں اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں ،قدر توں، خوبیوں اور کمالات و احسانات کے پیش نظر انسانوں کو اور جنات کو شکر گزار بننے کی طرف انتہائی پر اثر انداز میں متوجہ فرمایا ہے ۔اور شکر گزاری کا اولین تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ ہی کو خالق، مالک، حاکم اوررب تسلیم کرے۔ اور اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم عمل ہو اور اس کا مطیع فرمانبردار بندہ بن کر زندگی گزارے۔
آئیے! غور و فکر کریں کہ ان آیات میں کن احسانات کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے۔
پہلا احسان یہ کہ اللہ نے قرآن سکھایا اور اس کی تعلیم دی۔ دوسرا احسان یہ کہ انسان کو پیدا کیا۔ تیسرا احسان یہ کیا کہ اللہ نے انسان کو طرح طرح کی صلاحیتوں ،خوبیوں اور کمالات سے آراستہ کیا، مثلاََاسے گویائی اور بیان کی صلاحیت دی ہے ۔چوتھا احسان یہ کہ اللہ نے شمس و قمر کا نظم قائم کیا اور انہیں باقاعدہ ایک ضابطے اور قانون کا پابند کیا، چنانچہ ان کی رفتار گردش سے انسان کے بے شمار فائدے وابستہ ہیں،ان کا ڈوبنا، گھٹنا بڑھنا، ان کے ذریعہ فصلوں اور موسموں کا بدلنا، یہ سب کچھ باقاعدہ نظم کے ساتھ ہونا اور ان کا ہمہ پہلو انسان کے لئے مفید ہو نا، یہ سب انسان پر اللہ کا کرم اور احسان ہے۔
پانچویں نعمت،کرم اور احسان اس نے یہ گنوایا کہ آسمان کے ستارے اور سیارے اور زمین کے بیل بوٹے، جھاڑیاں اور درخت؛ غرض کہ آسمان کی مخلوقات اور زمین کی مخلوق، سب اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں۔ اللہ نے پوری کائنات اور تمام مخلوقات کو انسان کے لئے مسخر اور مفید بنا دیا ،جو کام جس کے سپرد ہے، جو ڈیوٹی جس کی لگا دی ہے وہ مخلوق اس سے سرتابی نہیں کر سکتی۔ ان نعمتوں، قدرتوں ، حکمتوں اور صفات کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بھی اپنی اختیاری زندگی میں اس کے آگے جھک جائے اور سجدہ ریز ہو کر زندگی گزارے۔
چھٹا احسان اور کرم یہ فرمایا کہ آسمان کو بلند کیا، کائنات زیریں اور کائنات بالا ہر ایک کو عدل و قسط پر قائم کیا، ہر ایک میں توازن ہے ،بیلنس ہے، کہیں کوئی شگاف،دراڑ اور خرابی نہیں ہے،کوئی چیز اَن بیلنس نہیں ہے، کہیں افراط اور تفریط نہیں ہے۔ ایک طرف اس نے قرآن اتارا جو عدل و قسط کی تعلیم دیتا ہے دوسری طرف اس نے اپنی کائنات کے ورق کھول دیے ،جس میں ہر طرف ہر جگہ اور ہر چیز میں عدل ہی عدل کام کر رہا ہے۔ اسی لئے انسان اور جنات کو بھی حکم ہے کہ اللہ کی اتارے ہوئے ترازو قرآن اور قائم کیے ہوئے ترازو آسمان و زمین اور کائنات کے پیش نظر عدل و انصاف قائم کریں، عدل و انصاف کی خلاف ورزی نہ کریں۔ خیالات و عقائد میں، اخلاق و عادات میں، معاشرت اور سماج میں، معیشت اور روزی روزگار میں، سیاست و اجتماعیت میں اور مذہب اور روحانیت میں، تہذیب و تمدن میں، تولنے اور ناپنے میں، معاملات اور تعلقات میں، زندگی کے تمام اطوار میں عدل و انصاف کی خلاف ورزی نہ کریں ۔لینے اور دینے کے پیمانے مختلف نہ رکھیں کسی کو گھاٹا اور نقصان نہ دیں ،پورا پورا تولیں اور ناپیں اور حقوق و فرائض میں تو ازن پیدا کریں اور قائم رکھیں۔
ساتواں احسان یہ بیان فرمایا کہ اللہ نے مخلوقات کے لئے خصوصا ذی شعور، ذی ارادہ اور ذی اختیار مخلوق انسان اور جنات کے لیے زمین پیدا کی، اسے بنایا بچھایا، زندگی کے موافق بنایا۔ آٹھواں احسان یہ کہ اللہ نے زمین میں ہر طرح کے میوے اور ہزار رنگ کے پھل پھلاری پیدا کیے ہیں، اور ان کے خوشے غلاف والے ہیں۔ مختلف پھلوں کے اندر پائے جانے والے خوبصورت حسین نازک ولطیف اصول ریاضی اور اصول جومیٹری کے مطابق آرٹ کے بہترین نمونے پائے جاتے ہیں۔
نواں احسان یہ ہے کہ اس نے صرف پھل ہی پیدا نہیں کیے بلکہ طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے غلے بھی پیدا کیے، جو انسان کی غذائیت اور خوراک کے کام آتے ہیں اور ان کا بھو سہ جانوروں کی غذا بنتا ہے۔
دسواں احسان اللہ نے یہ بتایا کہ اس نے صرف انسان کے ذہن کی تسکین اورصرف سوچنے اور غور و فکر کرنے کے لئے کائنات کے ذرے ذرے میں ، حتی کہ خودجسم انسانی کے اندر بھی دلائل و شواہد اور نشانیاں ہی نہیں بھردیں، صرف ذوق نظر کے لئے حسین مناظر اور خوبصورت سین ہی نہیں بنائے بلکہ دل و دماغ کو معطر کرنے کے لیے خوشبو دار پودے اور پھول بھی پیدا کیے، جن سے عطر تیار ہوتے ہیںاور خوشبوئیں بنائی جاتی ہیں اور انسان کے کام آتی ہیں۔
اللہ تعالی اپنے ان احسانات اور نعمتوں، قدر توں، کمالات اور خوبیوں کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہےکہ انسانوں اور جنات تم دونوں اللہ کے احسانات میں سے کون کون سے احسان اور کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
اسی لئے اللہ تعالی اپنی نعمتیں اپنے احسانات اور کرم فرمائیا ں، نوازشیں اور خوبیاں یاد دلاکر بار بار کہتا اور انسان کی انسانیت اور اس کے ضمیر کو جھنجوڑ تا ہے کہ پھر تم اللہ کی کس کس نعمت اور اس کے کس کس احسان کو جھٹلاؤ گے؟ اور کس کس احسان کو فراموش کروگے؟
اللہ تعالی ہمیں اس کی دی گئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا اور اس کی دی گئی نعمتوں کو صحیح طرح سے برتنے والا بنائے، آمین!

شکر گزاری کا اولین تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ ہی کو خالق، مالک، حاکم اوررب تسلیم کرے۔ اور اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم عمل ہو اور اس کا مطیع فرمانبردار، بندہ بن کر زندگی گزارے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢