نبوت کی ضیا باری سے دل روشن ہوا میرا

کہاں وہ ذات عالی مرتبت،نغمہ کجا میرا
ہوا آباد جن کے دم قدم سے میکدہ میرا

غلام مصطفیٰ ہونے کا مجھ کو شرف حاصل ہے
یہ کہدوں گا بروز حشر پوچھے گا خدا میرا

تلاطم خیز موجوں میں پھنسی ہے زیست کی کشتی
مجھے غم کیوں ستائے،ناخدا ہے مصطفیٰ میرا

گھٹا جاتا تھا دم میرا جہالت کے اندھیرے میں
نبوت کی ضیا باری سے دل روشن ہوا میرا

مجھے بھی صفہ نبوی کا علمی فیض پہنچا ہے
کہ شاگردان احمد سے جڑا ہے سلسلہ میرا

تصور سے فزوں تر ہے مقام و مرتبہ ان کا
مسلم ہے عدوئے مصطفیٰ کو مدعا میرا

مری تقدیر پر حیدر فرشتے رشک کرتے ہیں
محمد کی ثنا کرنا ہوا ہے مشغلہ میرا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢