ادھورا بچپن /سستے مزدور
کسے خبر کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی
دھول میں اٹے محنت سے تھکے ان معصوم چہروں پر سجی کتنی ہی آنکھوں سے ذہانت و فطانت بھی جھلکتی ہیں،جو ان ننھے ہاتھوں کی طرح دھول کھارہی ہیں۔ان چمکتی آنکھوں میں وہ ادھورے خواب بھی ہیں،جن کے پورے ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔امکانات کی اس وسیع دنیا میں تعلیم و ترقی کے در ان کے لئے بندکردیئےگئے ہیں۔خودغرض دنیا کو بس قلیل مزدوری پر دستیاب سستے مزدور چاہئیں،چاہے اس خود غرضی کے پیچھے قوم کا مستقبل تاریک ہو۔ نہ جانے کتنی عمدہ صلاحیتیں ہوں گی،جو ان ننھے ہاتھوں میں تھمائے گئے ٹوکروں کے نذر ہوگئی ہوں گی۔
اس سرمایہ دارانہ بے حسی نے نہ جانے کتنے غزالیوں اور فارابیوں کو قوم سے چھین لیا ہوگا۔
کتنے ہیرے ہونگے جو جوہر شناس ہاتھوں میں جانے کے مستحق تھے،لیکن اس اینٹ اور مٹی میں رل مل گئے ہوں گے۔
یہ معصوم بے گھر جو دوسروں کے گھر بناتے بناتے اپنے قیمتی اوقات کو تمام کرتے نظر آتے ہیں۔
جو بچپن میں ہی بچپن کے لطف سے محروم ہیں۔
نازک کندھوں پر کسب معاش کا بھاری بوجھ لاد دیا گیا۔
خود کی اور گھر والوں کی روٹی کا انتظام تو بمشکل کرلیتے ہیں،لیکن تعلیم بھی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے،اس روحانی غذاسے وہ کیوں محروم ہیں؟
ان کے تاریک ہوتے مستقبل کا ذمہ دارکون؟
کمر توڑ مہنگائی…
عوامُ کی ضرورتوں سے آنکھیں موندے حکومت …
بے حس معاشرہ …
اساتذہ کا سخت گیر یا لا تعلق سا رویہ …
تعلیمی اداروں کی مشکل ڈیمانڈ س…
یا بے شعور والدین…؟؟؟

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢