دعوتِ اسلامی منصوبہ بند طریق عمل کی ضرورت
اللہ تعالی کا شکر ہے کہ دنیا میں اگر شر کے عناصر و اسباب میں اضافہ ہے اور مغربی تہذیب کے اثر سے مذہب، اخلاق، اور انسانی قدروں کو چیلنج کا سامنا ہے تو خیر کے اسباب و عناصر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور دلوں کے خاکستر میں طلب حق کی چنگاری فروزاں ہے۔
حق کے چاہنے والے اور خیر کے کام کرنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ نیکی کی راہ میں قیمتی سے قیمتی چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔
یہ جہان ِ رنگ و بو ازل سے ہی ایسے روشن و تابناک چہروں اور پاک و سادہ دل نفوس سے معمور رہاہے۔
حق و انصاف کی راہ کے ایسے مجاہد غازی جو شب و روز انسان کی عظمت و کرامت کی فکر و کوشش کرتے رہتے ہیں، جو لوگوں کو تنگ دنیا سے وسعت کی طرف اور باطل مذاہب کے ظلم و تاریکی و خرافات سے نیک بختی کی جانب گامزن کرنے کے در پہ ہیں، یہ روئے زمین ہمیشہ ایسے پاک باطن و نیک خصلت مجاہدوں سے پر رہی ہے، جن کے عزم و حوصلہ اور صلابت و استقامت کو کوئی طوفان متزلزل نہیں کر سکا ۔ ان کے مقاصد کے حصول میں کوئی اشتعال انگیزی حائل نہیں ہوئی ۔ زندگی کی مادی ضروریات ان کے لئے بہانہ نہ بن سکیں ۔ حق کے پیغام کو بلند کرنے کی خاطر ایسے لوگوں کا دل ہمیشہ بے چین رہتا ہے ۔ حق کے لئے انہوں نے ہر طرح کی قربانی دی۔دنیاوی مشکلات سے انہیں لذت محسوس ہوئی ۔محرومیوں اور ظاہری ناکامیوں میں انہوں نے کامیابی کا سرور محسوس کیا ۔
دنیا کا مستقبل روشن و تابناک ہے، اگر ایسے نفوس موجود ہوں جو دنیا کے شور و ہنگامے اور مادی زندگی کے شور و غل کے درمیان حق کی بات بلند کریں۔حق کو تسلیم کریں اور اس کا دل سے اقرار کریں۔داعئ حق کی قدر و عزت کریں اور مخلص داعیوں کی بات کو بغور سننے کے لئے عوام کی توجہ مبذول کروائیں ۔
مختلف قسم کی رکاوٹوں اور بندشوں کے باوجود دعوتی اور تعلیمی کوششوں کی کامیابی کو دیکھ کر دشمنان اسلام دہشت میں پڑ گئے ہیں ۔ صدائے حق کو دبانے کے در پہ ہو گئے ہیں ۔دعوتی، تعلیمی اداروں اور تنظیموں کو نت نئے مسائل و مشکلات، سازشوں اور دیگر مسائل میں الجھانے کی عالمی سطح پر کوشش کرہے ہیں ۔کہیں داعیوں کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں، کہیں معمولی جھگڑوں میں ان کی توانائیوں کو ضائع کیا جارہا ہے ۔کہیں داخلی تنازعات اور اختلافات کو ہوا دیا جارہا ہے ۔کہیں انہیں تعلیم و تربیت اور ترقی کے میدان سے دورکیا جارہا ہے ۔کہیں عوامی بغاوت کے ذریعہ انتشار اور عدم استقرار پیدا کیا جارہا ہے ۔کہیں اصلاح و تبدیلی اور ترقی کے نام پر سامراجی اور الحادی نظام کو رائج کیا جارہا ہے ۔
اسلامی ادارے جو انسانیت کی اصلاح کے لئے سرگرداں ہیں اور مادی سیلاب کو روکنے کے لئے دنیا کے مختلف حصوں میں سر گرم عمل ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ خالص اسلامی تعلیمات کے مطابق منظم طور پر اپنے پیغام عمل کو جاری کریں ۔خود کو تخریب کاری یا تصادم سے بچائیں۔ تاکہ ان کی مساعی ضائع نہ ہوں، یا وہ ایسے مسائل میں الجھ نہ جائیں جو ان کے کام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں۔اسی طرح ان کو اشتعال انگیزی و غیر ضروری پروپگنڈہ سے بھی گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
اب دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے مراکز قائم ہیں جو دنیا کے حالات و امکانات سے واقفیت رکھتے ہیں۔اور ان کے تجربات اور ریسرچ و تحقیق سے اس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔حسب ضرورت وسائل و ذرائع کی فراہمی کے مطابق ان کوششوں کے مابین اتحاد و ہم آہنگی پیدا کی جائے۔کیوں کہ اب ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی راہیں کھل رہی ہیں اور عالمی سطح پر ملاقاتوں، مذاکرات اور سمینار کا بھی انعقاد ہو رہا ہے۔ایسے موقعوں پر ہم اپنی کوششوں کا جائزہ لے سکتے ہیں اور حالات کے مطابق حکمت عملی تیار کرسکتے ہیں، تاکہ دنیا میں کوئی علاقہ حق کی صدا سے خالی نہ رہے اور کوئی فرد جامِ حق سے تشنہ کام نہ رہے ۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں ان کے حالات و مسائل کا جائزہ لیا جائے، اور ان کے حقائق و معاملات کا بھر پور تجزیہ کیا جائے، اور ضرورت کے مطابق عملی و فکری سرمایہ کا تبادلہ و فراہمی کی جائے۔ اس طرح کے علاقے ہر ملک و وطن میں مل جائیں گے۔ جو نظر انداز کر دئیے گئے اور اپنی جانب توجہ کے طالب ہیں۔بعض اداروں کی زیادہ ترتوانائیاں ایسےاشکالات اور الزام تراشیوں کے دفاع پر صرف ہورہی ہیں جس کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ آج ضرورت ہے کام کرنے کے نئے میدان اختیار کئے جائیں ۔ عملی طور پر اسلام کی حقانیت و صلاحیت کو ثابت کیا جائے۔
زندگی کے مسائل کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مؤثر معاصر عملی انداز میں حل کیا جائے۔زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی بہتر نمائندگی پیش کی جائے تاکہ اسلام کی صحیح تصویر سامنے آئے، اور قول و عمل کے درمیان جو تضاد ہے وہ دور ہو۔غرض اسلام دشمنی کے مقابلے میں علم و مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔

عالمی سطح پر ملاقاتوں، مذاکرات اور سمینار کا بھی انعقاد ہو رہا ہے۔ایسے موقعوں پر ہم اپنی کوششوں کا جائزہ لے سکتے ہیں اور حالات کے مطابق حکمت عملی تیار کرسکتے ہیں، تاکہ دنیا میں کوئی علاقہ حق کی صدا سے خالی نہ رہے اور کوئی فرد جامِ حق سے تشنہ کام نہ رہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢