وفاکےموتی
’ بس بہت ہوگیا اب! میں نے آپ سے کہہ دیا کہ میں ان کےگھر ہر گز نہیں جاؤں گی۔‘‘نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز بلند ہوگئی ۔
’’ لیکن عائشہ! تم خود سوچو ، پہلے اور اب میں کافی فرق ہے، اِس وقت انہیں ہماری ضرورت ہے۔ ‘‘
عمیر نے اسے سمجھانا چاہا، لیکن کوئی خود نہ سمجھنا چاہے تو؟
’’ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ہر بار میں ہی جھکوں؟ میں ہی قربانی دوں؟ جو کچھ انہوں نے میرے ساتھ کیا وہ سب کیسے بھول جاؤں؟ ‘‘وہ روہانسی ہوگئی۔
’’ اچھا ٹھیک ہے مرضی تمہاری، لیکن میں اور بچے تو جائیں گے۔ ‘‘عمیر نے فیصلہ سنا دیا اور وہ بس انہیں گھور کر رہ گئی۔
٭٭٭ 
سسرال میں گزارے وہ چار سال اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھے۔ روز کے طعنے، روز کی ذلت، روز بکھرنا ،پھر نئے سرے سے خود کو سمیٹنا ۔
ساس کے مزاج کی تو پہلے ہی کافی تعریفیں سن چکی تھی، اور مصمم ارادہ کرکے اس گھر میں آئی تھی کہ بقیہ لوگوں کی طرح محبت سے انہیں بھی اپنا بنا لوں گی۔ مگر محبت بننے کیلے کوئی بیج تو چاہیے ہوتا ہے نا ںکہ جو پھوٹتا اور پودا بنتا…؟
ابو کے پاس بس گھر ہی اچھا تھا جو دادا کی طرف سے وراثت میں ملا تھاباقی حالات سفید پوشوں والے تھے۔ ابو نے کس طرح بہنوں کا جہیز اکٹھا کیا ،شادیاں کیں وہ صرف گھر والے جانتے تھے یا وہ جن سے قرض لیا گیا تھا۔
ساس ان کے گھر کو دیکھ کر نہ جانے کیا کیا امیدیں باندھ بیٹھی تھیں ، پھروہی ہوا جو ہمارے معاشرے کا المیہ ہے، ہر روز جہیز کم لانے پر طعنے ۔
’’ ارے میں نے تو فریج بھی بیچ دیا کہ اب نیا آئے گا تو پرانا رکھ کر کیا کروں گی ؟ کم ازکم ٹی وی ہی دے دیا ہوتا، شکل سے تو اتنے غریب نظر نہیں آتے ۔ بڑے میاں نے اچھا دھوکہ دیا اور اپنے سر کا بوجھ ہمارے سر لاد دیا۔ ہونہہ!‘‘گھر میں صرف ساس کا حکم چلتا۔
’’ تم لائی کیا ہو جس کی بنا پر اتنا غرور دکھا رہی ہو؟ ‘‘
ہوا یہ تھا کہ اپنی سالگرہ کے موقع پراس نے فریج سے ان کی مرضی کے بغیر گوشت نکال کر بریانی اور کسٹرڈ بنادیا۔مگر وہ ایک جملہ کہ’’تم لائی کیا ہو جس پر اتنا غرور دکھا رہی ہو؟‘‘اس کا دل چھلنی کر گیا۔
جواب میں اس کے پاس آنسوؤں اور خاموشی کے سوا اور تھا ہی کیا؟ جو اپنی رخصتی کے دن سے آج تک مسلسل بہارہی تھی۔ دونوں بڑی بہوئیں بڑے خاندان سے تھیں، اچھا خاصا جہیز لائی تھیں۔ اسےیہی لگتا تھا کہ اس کی شادی نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ کسی آزمائش میں ڈالی گئی ہے۔گھر میں سب کچھ موجود تھا، پھر بھی دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ سامان کی خواہش بھی کرنا ، کتنی گھٹیا سوچ ہے ! کڑھ کڑھ اس نے بھی اپنے دل میں نفرت کا جال بچھا لیا تھا۔
کیا ضروری ہے بھلائی کا بدلہ برائی سے ہی ملے ؟ کوشش کرنے میں کیا حرج ہے ؟ یہ سوچ کر اس نے ساس کی خوب خدمت شروع کردی ، ہر وقت آگے پیچھے پھرنا اور بنا کہے سارے کام کردینا۔
’’بس بس زیادہ نمبر بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘
’’ ہونہہ،چمچہ گیری! ‘‘پیچھے سے آواز آتی اور اسکا دل کاٹ کر رکھ دیتی۔
٭٭٭
’’ اب مجھ میں مزید باتیں سننے کی ہمت نہیں ہے ، مجھے الگ گھر میں رہنا ہے۔‘‘آخرکار تمام ضبط کو بالائے طاق رکھ کر اس نے عمیر سے مطالبہ کر ہی دیا۔
’’کیا کہہ رہی ہو؟ کرایے پر دھکے کھانے کی ہمت ہے تم میں؟‘‘ عمیر نے ڈرانا چاہا ۔
’’ میں کچھ نہیں جانتی، آپ کے ساتھ جھونپڑی میں بھی خوش رہ لوں گی، کم ازکم روز ذلیل تو نہیں ہونا پڑے گا۔‘‘ آنسو آنکھوں سے چھلکنے کو بے تاب تھے۔
’’ پھر بھی کچھ عرصہ مزید دیکھو، فی الحال تو ہم الگ گھر کے متحمل ہی نہیں ہیں۔‘‘ عمیر نے ٹالنا چاہا۔
لیکن الگ گھر کا فیصلہ اس کے دل میں زور پکڑ گیا تھا، اور شاید ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسے گھر کی مالک ہو، جہاں وہ خود مختار ہو، اور اگر اس نے یہ خواہش کرڈالی تو کون سا جرم کردیا؟؟؟
وہ اپنے ارادے میں اٹل تھی اور اس کی دعائیں رنگ لائیں، عمیر کو کمپنی سے اتنا قرضہ تو مل گیا کہ وہ ایک چھوٹا سا فلیٹ خرید لے، اورآخرکار وہ دن بھی آگیا جب ان کا سامان ٹرک پر لادا جارہا تھا۔
’’ ارے میں نہ کہتی تھی یہ کوئی کارنامہ ضرور انجام دے گی۔کوئی ضرورت نہیں آئندہ اپنی شکل دکھانے کی، اور جس جائیداد کے تم خواب دیکھتی ہو اس میں سے تمہیں پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔‘‘ بڑی دونوں بہوئیں جلتی پر تیل کا کام کررہی تھیں۔ رخصتی کے وقت بھی اگر دعاؤں کے بجائے طعنے تشنے سننے کو ملیں تو کون وہاں دوبارہ جانا چاہے گا ؟
عمیر ماں کو سمجھانے اور ملنے کےلیے آگے بڑھا تو اسے بھی کئی باتیں سننے کو ملیں ،حالانکہ وہ پہلے بھی کافی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کرچکا تھا مگر نامراد لوٹا تھا۔
٭٭٭
عمیر کی امی کو فالج کا اٹیک ہوا تھا، جس سے ان کا آدھا دھڑ مفلوج ہوچکا تھا۔ اس کے جیٹھ کا ایک طویل عرصے بعد فون آیا، ان سے بات کر کےعمیر شدید غم کا شکار ہو گیا اوراس نے فوراً اسے بھی چلنے کو کہا۔مگر اس کےذہن میں وہی جملے گونج رہے تھے ،جوگھر سے نکلتے وقت اس کی ساس نے کہے تھے، اور اس نے جانے سے انکار کردیا۔
عمیر نےخاموشی سے چابیاں اٹھائیں اور چلا گیا۔ وہ ابھی آئی سی یو میں تھیں ۔ ملاقات ناممکن تھی، مگر وہ بیٹے تھے، آج بھی نہ جاتے تو ہمیشہ ایک کسک رہ جاتی ، کچھ ہی دن میں انہیں گھر شفٹ کردیا گیا، گھر کا ہر فرد مصروف تھا۔ بیٹی کوئی تھی نہیں اور بڑی دونوں لاڈلی بہوؤں نے بھی بیمار ساس کی خدمت سے انکار کردیا، آخر کار سب کے متفقہ مشورے کے بعد ایک نرس رکھ لی گئی، مگر نرسیں اپنوں کا نعم البدل کہاں ہوسکتی ہیں؟
عمیر آفس کے بعد گھنٹوں امی کے سرہانے بیٹھارہتا، اور گھر آکر بھی کافی دیر تک خاموش اور پریشان رہتا، لیکن اس نےدوبارہ اسے وہاں چلنے کے لیے نہیں کہا۔
٭٭٭
’’آہ … آاا . .. ‘‘
فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک اسکا پیر بری طرح مڑ گیا اور وہ دو سیڑھی نیچے جا گری۔ اور وہیں کراہتی ہوئی بیٹھ گئی، اتنی جلتی دھوپ میں وہ بازار سے سودا لیکر آرہی تھی ۔
کوئی ہے؟ اس وقت تو لگتا ہے سبھی دروازے بند کرکے آرام کررہے ہیں، گرمی بھی تو اتنی شدید تھی۔
’’عفان! عدنان!! ‘‘اس نے طاقت مجتمع کرکے بیٹوں کو آواز دی مگر جواب ندارد،پیر ہلانے کی ذرا بھی سکت نہ تھی کیونکہ تکلیف شدید تھی۔ایک صاحب لفٹ سے نیچے اتر رہے تھے، اسے تکلیف میں دیکھ کر ازراہ ہمدردی رک گئے اور فلیٹ نمبر معلوم کرکے بیٹوں کو بلا لائے۔
پیر کی سوجن بڑھتی جارہی تھی، فریکچر ہوگیا تھا ، پٹی کروا کر گھر آنا ایک بہت بڑا مرحلہ تھا ، ہزاروں کام ہوتے ہیں ایسے میں مکمل آرام؟ یہ سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
وہ بار بار کاموں کے لیے عفان اور عدنان کو آوازیں دیتی، کبھی وہ آجاتے، کبھی جھنجھلا جاتے اور کبھی ان سنی کردیتے۔اس وقت وہ کئی دفعہ عفان کوآوازیں لگا چکی تھی، شدید پیاس لگی تھی، کھڑی ہونے کے چکر میں کئی بار لڑکھڑائی۔
اسے آج اندازہ ہورہا تھا کہ عمیر کی امی پر کیا گزرتی ہوگی ۔کل ان کی جگہ وہ بھی تو ہوسکتی ہے ،اگر یہی سلوک اس کےبیٹے کریں تو؟
آج ضمیر کی عدالت میں وہ خود ہی کھڑی تھی ، کیا مجھ میں اور ان میں کوئی فرق نہیں؟ عمیر نے جب بھی کہا کہ امی کو ہماری ضرورت ہے، اس نے ٹال دیا۔ آج کٹہرے میں اس کے آنسو اسے مجرم ٹھہرا رہے تھے، اس سے انا کی قربانی مانگ رہے تھے ، برے کے ساتھ برا بننا بہت آسان ہے، لیکن ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیشہ بروں کے ساتھ اچھائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسے آج وہ سارے بھولے بسرے سبق یاد آرہے تھے، جنہیں وہ اپنی جہالت میں نظر انداز کرتی رہی تھی۔
عفان پانی کا گلاس لےکر داخل ہو تو گھبرا گیا’’ کیا ہوا امی! کیوں رو رہی ہیں؟ سوری! کمپیوٹر پر کچھ ورک کررہا تھا تو دیر ہوگئی۔‘‘
وہ پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے مسلسل ہچکیوں کیساتھ رو رہی تھی ۔اب بیٹے سے کیا کہتی کہ یہ آنسو تکلیف یا پانی کےلیے نہیں ،بلکہ ندامت کے ہیں۔
ڈور بیل بجی تو عفان دروازہ کھولنے چلا گیا ۔ دروازے پہ ایستادہ عمیر کے کھنکھارنے کی آواز آئی۔
’’کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں!… بس آج ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اس نے چہرہ دوپٹے سے صاف کرتے ہوئے کہا
’’ کیسا فیصلہ اب؟ کیوں ڈرا رہی ہو…؟ ‘‘عمیر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔
’’ ہم یہ فلیٹ کرائے پر دے کر امی کے گھر شفٹ ہورہے ہیں۔‘‘ اس کی بات سن کر وہ فوراً کھڑا ہوگیا
’’ کیا…کیا مطلب؟ ‘‘اسے شاید یقین نہیں آیا تھا۔
’’ جی! میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹھیک ہوتے ہی امی کی بیٹی بن کر دکھاؤں گی، اب ہم وہیں رہیں گے جہاں آپکی جنت ہے۔‘‘ اس نے سرجھکا کر بات مکمل کی
’’ اگر یہ آپ کا فیصلہ ہے آپ کی ہم نے پہلے بھی آپ کےفیصلے کا احترام کیا تھا اب بھی کریں گے،مگر ایک مسئلہ ہے …‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ تعجب سے پوچھ بیٹھی
’’ یہی کہ سمجھ نہیں آرہا یہ انقلاب آیا کیسے ؟‘‘عمیر شرارت سے کہنےلگا تو وہ جھینپ گئی، اسے عمیر کے چہرے پر برسوں بعدپر سکون اور مطمئن مسکراہٹ نظر آرہی تھی۔ شوہر اور بچوں کو خوش دیکھ کر ایک سکون اس کے اندر تک اترتا چلا گیا۔

’’آہ … آاا . .. ‘‘
فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک اسکا پیر بری طرح مڑ گیا اور وہ دو سیڑھی نیچے جا گری۔ اور وہیں کراہتی ہوئی بیٹھ گئی، اتنی جلتی دھوپ میں وہ بازار سے سودا لیکر آرہی تھی ۔
کوئی ہے؟ اس وقت تو لگتا ہے سبھی دروازے بند کرکے آرام کررہے ہیں، گرمی بھی تو اتنی شدید تھی۔
’’عفان! عدنان!! ‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢