ملّت کا اہم سرمایہ
زمرہ : النور

ہر دور میں ملّت کا اہم سرمایہ اس کے باصلاحیت،باذوق اورباشعور افرادرہے ہیں ۔ایک بھاری اکثریت جو بے شعورہو، سست روی کا شکار اور بے ذوق و بے دین ہو، تو وہ اپنی ہی ملت پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں ۔
نبی ﷺ فرماتے ہیں :

النّاسُ کَإبلٍ مئۃ لا تجِدُ فیھا راحلةً
(متفق علیہ بروایت حضرت ابن عمر ؓ، اللولو والمرجان)
ترجمہ : بعض انسانوں کی مثال ان سو اونٹوں کی طرح ہوتی ہے جن میں ایک بھی سواری کے لائق نہ ہو ۔
حدیث سے صاف واضح ہے کہ وہ قلّت بہتر ہے جو فائدہ مند ہو ، بہ نسبت اس کثرت کے جو بے کار ہو۔قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالی نے آزمائشوں میں پورا اترنے والوں اور انبیاءکرام علیہم السلام پر ایمان لانے والوں کا ذکر کیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ الّا قلیلا کا لفظ استعمال کیاگیا ہے ۔کہ حق کے سامنے سینہ سپر ہونے والے اورحق کو قبول کرنے والے ہمیشہ تعداد میں کم تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ قلیل تعداد ہمیشہ تاریخ میں نمایاں کیوں ٹھہری ؟ اور ہمیشہ اکثریت پر غالب کیسے رہی؟ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ یہ تعداد میں کم ضرور تھے، لیکن اللہ پر توکل اورایمان کے عظیم سرمائے سے لیس ، عمدہ اوصاف کے مالک، انتھک کوششوں کے حامل ، اعلی تدابیر ، اعلی سوچ اور بے لوث خدمات پیش کرنے والے عناصر تھے ۔ ایک اور حدیث میں اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابی کے عمدہ اوصاف پر یوں تبصرہ فرمایاکہ:
ایک مرتبہ حضرت ابن مسعودؓکسی درخت پر چڑھ گئےتو نیچےسے ساتھیوںنےان کی پنڈلیاں دیکھیں جو بہت پتلی تھیں۔وہ انہیں دیکھ کر ہنس پڑے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَتضحکون من دقّة ساقیہ؟والذی نفسی بیدہ لھمااثقل فی المیزان من جَبَل اُحدٍ

ترجمہ:
اچھا!تم لوگ اس پر ہنس رہے ہو کہ اسکی پنڈلیاں پتلی ہیں؟خداکی قسم میزان میں یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی۔(مسنداحمد،مجمع الزوائد)  علامہ یوسف القرضاو ی اس کی تشریح کرتے ہوے فرماتے ہیں ’’معلوم ہواکہ جسم کی موٹائی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اگر اس میں عقل صحیح اور قلبِ صافی سکونت پذیرنہ ہو۔‘‘
ایک سرگرم اور مخلص فرد کی اہمیت کا اندازہ اس دعا سے لگائیے جس میں اللہ کے رسولﷺ اپنے مشن کے بالکل آغاز میں رب کریم سے دعاگو ہیں کہ’’اے اللہ! ابن ہشام اور ابن خطّاب دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو غلبہ یا عزت عطا فرما!‘‘
اللہ کے نبیﷺ نے ان دو اشخاص کا نام بطور خاص اسی لیے لیا کہ وہ حالت کفر میں جس سرگرمی کے ساتھ بے لوث ہوکر کفر کےلیے کام کررہے تھے ،وہی سرگرمی اور تڑپ حق کی راہ میں مطلوب تھی۔گویا افراد کے کثیر جمگھٹے میں سے جن پر نگاہِ خاص ٹھہری اور دست دعا دراز ہوا، وہ مخصوص و مطلوب سرگرمی رکھنے والی شخصیتیں تھیں۔ پھر بارگاہ رب العزت میں یہ دعا قبول ہوئی، اورتاریخ نے دیکھاکہ عمربن خطابؓ نے اسلام کے جھنڈے چہارسو گاڑدیے۔
حضرت عمرؓ ہی سے یہ بات منقول ہے کہ وہ ایک دن کسی کشادہ مکان میں اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔اس دوران انھوں نے ساتھیوں سے کہا:’’اپنی اپنی خواہش ظاہر کرو!‘‘
  ان میں سے ایک نےکہا:’’میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے پاس اس گھر کے برابر چاندی کے دراہم ہوں اور میں انھیں اللہ کی راہ میں خرچ کروں ۔‘‘
دوسرے نے کہا:
’’میں چاہتا ہوں کےمیرے پاس اتنے ہی سونےکے دینارہوں اور میں انھیں اللہ کی راہ میں خرچ کروں ۔‘‘
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
’’میں تو چاہتا ہوں کہ میرے پاس اس گھر کے برابرابو عبیدہؓ بن الجراح،معاذؓبن جبل،ابوحذیفہ کے غلام سالمؓ جیسے افرادہوں اور میں ان کو اللہ کی راہ میں استعمال کروں۔‘‘(الطبرانی)
ان احادیث کے مطالعہ سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ ملّت کاعظیم سرمایہ وہ افرادی قوت ہے، جو مستقل اپنے مقصد حیات کےلیے کوشاں ہوتی ہے، جہد مسلسل جس کی صفات ہیں جو اپنے مشن کےلیے کسی کروٹ چین نہیں لیتی ،اور ایک ضابطہ میں اپنی ذات کو کس لینے کے بعد تاحیات اس پر چل پڑتی ہے۔
جہاں صاحب اوصاف کی کمی پائی جائے ،وہ زمین قحط الرجال سے دوچار ہوتی ہے ،اور اس کا خمیازہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے ۔اس لیے ہم اپنے آپ کو سنوارنے، اپنی افردای قوت کی اہمیت کا صحیح اندازہ کرنے، اور وقت کے اہم مطالبات پر یکجا ہوکر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کےلیے ہمہ وقت تیار رہیں ۔ وماتوفیقی الا باللہ

حضرت عمرؓ نے فرمایا:
’’میں تو چاہتا ہوں کہ میرے پاس اس گھر کے برابرابو عبیدہؓ بن الجراح،معاذؓبن جبل،ابوحذیفہ کے غلام سالمؓ جیسے افرادہوں اور میں ان کو اللہ کی راہ میں استعمال کروں۔‘‘
(الطبرانی)

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. توفیق الماس

    بیشک
    بہت بہترین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢