بصارت سے محروم نومسلم خاتون نادرا ثابتہ نے قرآن کا برل ترجمہ تیار کیا
نادراثابتہ امریکہ سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ بچپن ہی سے نابینا تھیں ۔تیرہ سال کی عمر میں ان کی کلاس فیلو ایک بھیانک کار حادثہ میں انتقال کر گئی اور اس حادثہ کا ان کی زندگی پر گہرا اثر پڑا ۔اس کے بعد انہوں نےموت وحیات کے بارے میں غوروفکر کرنا شروع کیا اور زندگی کی حقیقت کے بارے میں کھوج لگانا شروع کیا ۔اس کے لیے انھوں نے ہر اتوار کو چرچ میں اپنی شرکت کو لازمی بنایا اور وہاں کیتھولک ازم کے درس میں بیٹھنے لگیں۔ لیکن نادرا عیسائیت کی تعلیمات اور عقائد سے مایوس ہوئیں ۔اسی لیے اس کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا۔
نادرا ثابتہ نے قرآن مجید پڑھناسیکھا اور قرآن کو بصارت سے محروم افراد کو پڑھانا اور سکھانا اپنی زندگی کا مقصد واحد بنایا ۔وہ اس بات کو شدت سے محسوس کرتی تھیں کہ قرآن مجید نابینا افراد کے لیے انگریزی میں تیارکر لیا جائے ۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے نابینا شوہر سے مل کر بصارت سے محروم افراد کے لیے قرآن مجید کو برل(Braille)میں تیار کیا ۔برل دراصل کاغذ پر اُبھرا ہوا ہر نقش نابیناافراد کے لیے کوئی نہ کوئی حرف ہوتا ہے، جومعنی رکھتاہے اور نابینا افراد انگلیوں سے چھُو کر اُسے پڑھ سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں ۔اس کو’بریل‘ کہا جاتا ہے ۔نادرا نے برل میں تیار کردہ ترجمہ قرآن ام محمد کا ترجمہ یعنی Saheeh International کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا ۔
نادرا کا شوہر بھی نابینا ہے اور انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر بصارت سے محروم افراد کے لیے امریکہ میں ایک ادارہ Islam By Touch کے نام سے قائم کیا جو نابینا افراد کے لیے قرآن مجید کی انگریزی برل کاپیاں اور اسلامی لٹریچر تیار کر رہا ہے ۔یہ امریکہ میں پہلا مسلم ادارہ ہے جو نابینا برادری کے لیے وقف ہے۔
جھارکھنڈ(ہندوستان) سے بھی ایک نابینا خاتون نفیس ترین نے 2008ء میں ہندی میں برل ترجمہ تیار کیا ۔
قرآن مجید سے متعلق ان نابینا خواتین نے تمام چیلینجز کو قبول کرتے ہوئے قابل تحسین کام کیا ۔اللہ کرے یہ عظیم سلسلہ جاری رہے،آمین!

1 Comment

  1. Azam

    MASHALLAH

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢