خیر وشر کی کشمکش
زمرہ : ادراك

ادفع بالتی ھیی احسن( تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو!)
گرچہ پورے ماحول میں نفرت کی آگ لگی ہے، کھل کے دشمنی پر دشمن آمادۂ جنگ نظر آتا ہے۔سیاست کی بساط پر ترقی کے منصوبے سے زیادہ دشمنی کی آگ کو ترجیح دینا اولین ایجنڈا بن چکا ہے ۔اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی اور بدگمانی جھوٹ و افتراء باندھنا یہ نئی بات نہیں ہے ۔سیرت و تاریخ میں حق پسندوں کے خلاف مخالف ماحول بنایا جانا ایک عام بات رہی ہے، تاہم مومن کےلیے رہنما رسول اللہ کی سیرت ہی ہے ۔
رسول رسول اللہؐ کی مکی زندگی پڑھ کر ہم جان سکتے ہیں کہ آپ صلی الله عليه وسلم کو سخت جارحانہ مخالفت کاسامنا رہا ہے۔ مخالفت اس درجہ تھی کہ دشمنوں نے اخلاق اور شرافت کی ساری حدیں توڑ دی تھیں ۔ہر قسم کا جھوٹ رسول رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھا ۔مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے،طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ۔ مخالفوں کے ساتھ جم غفیر تھا، جو اسلام پسندوں سے بدگمانی پھیلانے پر سرگرم عمل تھا۔حق پرست قلیل تعداد میں تھے ۔اسلام کی مخالفت کا ایک جال بُن دیا گیا تھا، حتی کہ بظاہر باطل کی آوازیں حق کی آواز کو دبارہی تھیں ۔ہمت شکن ماحول میں ہرراستہ مسدود نظر آتا تھا ۔انہی حالات میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کو ان الفاظ میں تسلی دی ’’نبی صلى اللہ علیہ وسلم ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہے ۔تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا۔‘‘(سورہ فصلت، آیت :۳۴)
برائی بظاہر طاقت ور ہے،نفرت بلاشبہ ہمت شکن نظر آتی ہے ، تاہم یاد رہے کہ اندر سے یہ اتنی ہی کمزور و ناتواں آوازیں ہیں۔اس اصول کے تحت کہ انسانی فطرت پر بدی یا انسان سے نفرت دیرپا نہیں ہے ،ان کے جال تارِ عنکبوت ہیں، مکڑی کے جال کی طرح انتہائی کمزور انسانی فطرت برائی کرنے سے اوب جاتی ہے، انسان برائی کرتے ہوئے ازخود بیزار ہوجاتا ہے، کیونکہ اس میں روحانی سکون نہیں ہے ۔ بدی کا ایک اصول ہے کہ جب بھی بدی کی جاتی ہے، کسی کے ساتھ زیادتی ہو، کسی ایک گروہ کو جب مستقل دبانے کی سازش کی جائے، نفرت پھیلائی جائے ،اس کی مدت انسانی شعور اور ادراک کے آشکار ہونے سے پہلے تک ہے، اس کے بعد بدی کرنے والے پر آشکار ہوتے ہی کہ وہ غلط کررہا ہے، شیطان کی پسپائی ہے ۔اسی لیے قران نےکہاکہ بدی کا جواب نیکی ہے ۔

نفرت کی یلغار :

نفرت کا ماحول کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ابتدا میں کھانے پینے کی حلال اشیاء پر پابندی،موب لنچنگ، شہریت کے خاتمے کی سازشیں،پھرپرسنل لاء کو ہدف بنایا گیا۔ خاندانی نظام کو ٹارگیٹ کیا گیا،تو اب حالت بلڈوزر پولیٹکس ،جمعہ کی نماز کی صفوں پر تحدید، نفرت کے بازا کو گرمانے کے لیے کشمیر فائل پیش کی گئی۔خاندان سے لیکر عزتوں کی نیلامی سلی ڈیل اور بلی بائی کے ذریعہ کی گئی۔ کبھی شکنجہ اذان پر کسا گیا، اب گیان واپی کی مسجد کا ایشو گرمایا جارہا ہے اوقاف کی زمینوں پر بد نگاہی اپنی جگہ ایک سلسلہ ہے ،جو دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔
ان حالات میں ہم رسول اللہ ؐ کے حالاتِ زندگی ہی کو اپنے لیے رہنما پاتے ہیں۔رسول رسول اللہؐ پر زمین تنگ کی گئی ،جینا دشوار کیا گیا، لیکن قرآن کے اس رہنما اصول کو دورِ اول کی تحریک اسلامی نے پیشِ نظر رکھا، آخرکار اخلاقی و سیاسی غلبہ ہوا حق پسندوں کو فتح حاصل ہوئی ۔
رسول اللہؐ کی زندگی کےتین واضح مراحل ہمارے سامنے آتے ہیں، جن میں سے ایک یہ سید قطب رحمۃ علیہ نے’’رسول اللہ کی فتح‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے ۔

اپنے لیے ایمان کا انتخاب :

پورا یقین اور اعتماد ہو کہ برائی اور بھلائی یکساں نہیں ہے ،جب کامیابی ہی اچھائی ہے تو پوری دنیا تج دے کر بھی صرف دین کا انتخاب کیا جائے ۔ رسول کی فتح کا فیصلہ تو اس دن ہوگیا جب انتہائی نامساعد حالات میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا:
’’لو وضعواالشمس فی یمینی والقمر فی یساری‘‘
(اے عمِ محترم! میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تاکہ میں دین چھوڑ دوں تو میں یہ ہرگز ہرگز قبول نہیں کروں گا۔)
جب اہل قریش نے رسول رسول اللہؐ کے سامنے آفر رکھی کہ وہ انہیں مالا مال کردیں گے، بس وہ دین اسلام سے باز آجائیں، تو رسول اللہ کا جواب باطل کے یقین کوتوڑنے کے لیے کافی تھا۔بھلائی کےجیت جانے کا یقین اس قدر پختہ ہو کہ بدی آپ کو بظاہر غالب نظر آئے، لیکن آپ کا ایمان آپ سے کہےکہ یہ اندر سے کمزور ہے ہمیں ۔اس کودفع اچھائی کے بدلے ہی کرنا ہوگا، یہ یقین ہی برائی کی بیخ کنی کرنے کے لیے کافی ہے ۔
ہند کے ان حالات میں یہ رہنمائی ہمارے لیے بروقت ہے کہ ہم یقین کو مزید پختہ کریں۔ مادی چیزیں تو اللہ کے اختیار میں ہیں، جب وہ دے گا تو پوری آب وتاب کے ساتھ دے گا۔ مساجد پر قدغن بلا شبہ دل شکن ہے، تاہم حق کے غلبے کی ابتداء اور یقین کی پختگی کا ذریعہ بھی یہی حالات ہیں ۔
(2)حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی کامیابی کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ آپؐ نے اپنے اصحاب کو ایمان کی زندہ اورچلتی پھرتی تصویربنادیا، ان میں سے ہر ایک کو زمین میں چلنے پھرنے والا زندہ قرآن اور مجسم اسلام بنادیا تھا۔
اسلام نظامِ فطرت ہے ۔اسلام میں انسانوں کے لیے فطری کشش ہے جب ہم یقین کامل کے ساتھ کرۂ ارضی پر ہر انسان کی بھلائی کی خواہاں بنتے ہیں ،اور زندگی کو خالص اسلامی طرز پر ڈھالتے ہیں تو انسانوں کے لیے یہ عملی زندگی بھی باعث کشش بن جاتی ہے ۔ہمیں معاشرے کی اصلاح سے کسی طور مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ چلتی پھرتی دعوت بن جانے اور بنادینے پر ہمارا یقین پختہ تر ہو نا چاہیے ۔
کیسا خوبصورت جملہ ہے جو سید قطب شہید رحمت اللہ علیہ نے لکھا’’ محمد صلی الله علیہ وسلم کی کامیابی یہ تھی کہ آپ نے اسلامی فکر کو انسانی سانچے میں ڈھال دیا ۔ مصحف کے سینکڑوں صفحات لکھے گئے، لیکن یہ کاغذ پر روشنائی سے نہیں ،بلکہ نور کے ذریعہ دلوں پرلکھے گئے۔‘‘
تیسرا مرحلہ :ادفع بالتی ھیی احسن( تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو!)
نیکی اور بدی برابر نہیں ہے ۔یہ یقین بھی ہو اور ہمارے ہر عمل سے مترشح ہو کہ بظاہر مادی وسائل چھین بھی لیے جائیں ،اسلام دلوں پر قائم رہے گا۔ دنیوی مال و متاع اور استحکام پر سوائے قادر مطلق کے کوئی قادر نہیں ہے ۔ تاہم دلوں پر حکمرانی اللہ کی ہو اور کرۂ ارضی پر بسنے والےہر نفس کی امانت دین ِ اسلام ہے، اور وہ ہمارے پاس ہے ،جو ہمیں اپنے عمل سے پہچانے کی تگ ودو کرنی ہے ۔
لائحۂ عمل
(1) مایوس کن خبریں جب کان تک پہنچیں تب والدین اپنے گھر کے بچوں کے ساتھ پُریقین گفتگو کریں، اور رسول اللہؐ کے تین مراحل کو برملا گفتگو کا حصہ بنائیں۔
(2) دشمن کسی بھی مادی چیز کو سازش کے ذریعہ چھین تو سکتاہے، لیکن اسلام کا درجہ کم نہیں کرسکتا ۔یاد رہے !کفر کا ہدف آپ کے دلوں کے یقین کو متزلزل کرنا ہے۔ جب آپ کے یقین کی پختگی اس پر آشکار ہوگی تو وہ خود متزلزل ہوگا ۔
(3)رسول اللہ ؐ سے ہر چیز چھین لی گئی ،یہاں تک کہ فتح مکہ کے بعد صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ اپنے آبائی گھر میں قیام کریں، تو پیارے نبی نے جواب دیا وہ عقیل بن ابی طالب نے چھوڑا ہی کہاں۔ خیمہ لگا کر آپ صلی الله عليه وسلم نے آرام فرمایا۔ متاعِ دنیا کا چھن جانا فتح کی ابتداء ہے، یہ مومن کا تصور ہونا چاہیے ۔
(4) مایوس کن حالات کی خبریں گھر کے ہر فرد کو متاثر کرتی ہیں۔ بچوں کے مستقبل کی فکر لاحق ہو، ان حالات میں بھی آپ وطنی بھائی بہنوں کے ساتھ بہتر سلوک کی تلقین کریں ۔جب ہم اس نہج پر سوچنے لگتے ہیں تو ہمارے دماغ میں برائی کو بھلائی سے دفع کرنے والے نئے آئیڈیاز تخلیق پاتے ہیں ہم ان راہوں پر سوچنا شروع کردیتے ہیں ۔جیسے کچھ عرصہ پہلے برادرانِ وطن کو اذان ان کی اپنی زبان میں سنائی گئی، تو انہوں نے جانا کہ واقعی اذان میں کوئی بات ایسی نہیں کہ دشمنی کی جائے ۔
(5) مساجد،مدارس واوقاف کو ہدف بناکر چھین لینے کی سازش کا مقابلہ ہمیں بلاشبہ قانونی،اخلاقی اور سیاسی سطح پر نہایت منظم و متحد ہوکر کرنا چاہیے ،تاہم یاد رہے کہ جذباتی ردِ عمل مسائل کا حل نہیں، بلکہ خود ایک مسئلہ ہے اور یہ باطل کی مذموم مقاصد کی تکمیل کا حصہ ہے ۔
(6) ہندوستان میں بردارانِ وطن سے سابقہ ہر وقت پڑتا ہے، ہر فرد اخلاق کی چھاپ چھوڑنے پر متوجہ ہو تو یہی زمینی کام وقت کا تقاضا ہے ۔ بلاشبہ ایک مومن کے لیے زیبا نہیں کہ وہ کسی حال اپنے یقین اور امید کو متزلزل کرے اسے ہمہ وقت پُریقین اور پُر امید ہونا چاہیے۔

اسلام میں انسانوں کے لیے فطری کشش ہے جب ہم یقین کامل کے ساتھ کرۂ ارضی پر ہر انسان کی بھلائی کی خواہاں بنتے ہیں ،اور زندگی کو خالص اسلامی طرز پر ڈھالتے ہیں تو انسانوں کے لیے یہ عملی زندگی بھی باعث کشش بن جاتی ہے ۔ہمیں معاشرے کی اصلاح سے کسی طور مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ چلتی پھرتی دعوت بن جانے اور بنادینے پر ہمارا یقین پختہ تر ہو نا چاہیے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ٢٠٢٢