دستور میں درج بھارت
ہم کتنا قریب کتنا دور

قوموں کے حالات کا رخ موڑنے کے لیےبیس پچیس سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے۔
15/ اگست 2021ء کو بھارت برطانوی سامراج سے آزادی کے 74سال مکمل کر چکاہے۔ شب و روز کی جہدِ مسلسل کے بعد آزادی کے متوالے ہمارے لیےایک آزاد،خود مختار،جمہوری ملک چھوڑ کر گئے۔ برطانوی سامراج کے خلاف جہد مسلسل کرنے والے لیڈران نے جس بھارت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں،آج کابھارت ان کے متصورہ بھارت سے بہت مختلف ہے۔
آئین سازوں نے بھارت کے لیے پارلیمانی نظام منتخب کیا۔پارلیمانی نظام میں ہر باشندے کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا۔شمولیت کا وہ جمہوری نظام جو الیکشن کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس الیکشن کا لڑنا متوسط طبقہ کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔موجودہ دور میں یہ الیکشن مجرموں کے تحفط حاصل کرنے کا مضبوط ذریعہ بن گیا ہے۔ مجرم لوک سبھا ممبران کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔2019ء لوک سبھا انتخابات میں منتخب امیدواروں میں سے29فیصدممبران قتل،عصمت دری،ڈاکہ جیسے گھناؤنے جرم کے مرتکب ہیں۔ مجموعی طور پر موجودہ پارلیمینٹ میں43فیصدممبران مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔
برطانوی سامراج کی ڈکٹیٹر شپ کو براہِ راست للکارنے والے ہمارے لیڈران نے اس ملک کے لیے جمہوری عمل کو منتخب کیا۔یعنی اس ملک پر حکم رانی یہاں کے باشندے کریں گے۔
خواتین کی نصف آبادی کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی ملک صحیح معنوں میں جمہوری نہیں ہوسکتا۔ خواتین رزرویشن بل25سال سے لوک سبھا میں زیر التوا ہے۔پارلیمینٹ میں33فیصدسیٹیں خواتین کے لیے مختص کرنے کے لیے ستمبر1996ءمیں ایچ۔ڈی۔دیو گوڈا حکومت نے یہ بل پیش کیا تھا ،اس وقت یہ بل لوک سبھا سے پاس نہیں ہو سکا۔
2006میں یو۔پی۔اے والی کانگریس حکومت دوبارہ سے یہ بل لے آئی تب بھی لوک سبھا سے پاس نہیں ہو سکا۔ آج تک یہ بل لوک سبھا میں زیر التوا ہے،حکمراں جماعت کی حمایت کے بغیر یہ بل لوک سبھا سے پاس نہیں ہوسکتا۔
ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل سروے کے مطابق تعلیم وصحت جیسی بنیادی سہولیات کے لیے رشوت خوری اور ذاتی تعلقات استعمال کرنے کے معاملے میں بھارت تمام ایشیائی ملکوں میں سر فہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس سے ڈیل کرنے کے سلسلے میں 39فیصدلوگ ذاتی تعلقات کا استعمال کرتے ہیں۔ 42فیصدلوگ پولیس کو رشوت دیتے ہیں۔شناختی کاغذات کے حصول کے لیے 41صدلوگ رشوت دیتے ہیں۔
1931 میں چاتھم ھاؤس میں خطاب کرتے ہوئے گاندھی جی نے کہا تھا:
’’ہماری آبادی کا بڑا حصہ قحط سالی جیسی حالت میںزندگی گزار رہا ہے،ان کے پاس ایک دن میں ایک وقت سے زیادہ کی روٹی نہیں ہوتی۔غریبی کو غریب لوگوں کی خدمت کے ذریعہ ختم کیا جانا چاہیے، یہ شہر نہیں ہیں جو بھارت بناتے ہیں،بلکہ گاؤں بھارت بناتے ہیں، بھارت کا مستقبل اس کے گاؤں میں ہے۔‘‘
آج بھی بھارت کی تقریباً30فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،لاک ڈاؤن نے اس تعداد کو مزید بڑھا دیا ہے۔ایک سال ہونے کو آیا ہے گاندھی کے بھارت کا یہ مستقبل دھلی کے اطراف احتجاج کر زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کر رہا ہے، مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔
ایک مرتبہ وزارت تعلیم کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئےمولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تقریر میں کہا تھا: ’’تعلیم، سائنس اور ہماری تہذیب ہمارے خوابوں کا بھارت بناتے ہیں۔ وہ بھارت جو ہری بھری تہذیب رکھتا ہے، اپنی الگ الگ قیمتی تہذیبوں کے درمیان بیش قیمت ایکتا جسے جوڑے رکھتی ہے۔سچائی،انصاف اوربرداشت جس کی بنیادی قدریں ہیں۔آئیے ہم سب مل کر ناخواندگی، لاعلمی،کاہلی، غربت کے خاتمہ کےلیے مل کر کام کریں تاکہ ملک اقوام عالم میں مساوی مقام حاصل کر سکے۔‘‘
74سال بعد آج بھی ہماری آبادی کا بڑا حصہ ناخواندہ ہے،معاشرے کے صرف ایک مخصوص طبقہ کو ہی معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
کیا ہم، آزادی کے حصول کے لیے دن رات ایک کرنے والے لیڈران کے خوابوں کا بھارت بنا پائیں ہیں؟
74ویں یوم آزادی کی مبارکباد قبول کریں۔

تعلیم وصحت جیسی بنیادی سہولیات کے لیے رشوت خوری اور ذاتی تعلقات استعمال کرنے کے معاملے میں بھارت تمام ایشیائی ملکوں میں سر فہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس سے ڈیل کرنے کے سلسلے میں 39فیصدلوگ ذاتی تعلقات کا استعمال کرتے ہیں۔ 42فیصدلوگ پولیس کو رشوت دیتے ہیں۔شناختی کاغذات کے حصول کے لیے 41صدلوگ رشوت دیتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱