رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
فلسطین پر حالیہ حملے کے بعد کئی مضامین واٹس اپ کے ذریعے مطالعہ میں آرہے ہیں جن میں قلم کار ہندوستانی، پاکستانی، سعودی و دیگر ممالک کے مسلمانوں اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان موازنہ کررہے ہیں،اور کرنا بھی چاہئے۔ لیکن مختلف ممالک کے مسلمانوں کو آپ ایک تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کرسکتے۔ جہاں تک عرب ممالک کی بات ہے،ہم بہت سالوں سے ان کی بےحسی سنتے اور محسوس کرتے آ رہے ہیں۔ اور جب کوئی قوم بےحسی اور ہٹ دھرمی اختیار کرتی ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔ ان عربوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ آج دوسرے ممالک کو اللہ نے امت کی آواز بنا دیا ہے۔ لیکن اب ذمہ داری مسلم ممالک کے عوام کی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو امت کی حالت کا احساس دلائیں جو ہاتھ انہوں نے باطل کے پکڑے ہیں انہیں چھڑوائیں کیوں کہ حکومتیں ان کی اپنی ہیں۔ ان مضمون نگاروں کو پڑھ کر بہت دکھ ہو رہا ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کو فلسطینی مسلمانوں کی مثالیں دے کر غیرت دلانے کے لیے الفاظ کشی کر رہے ہیں۔ انہیں طعنہ نہ دیں۔ یاد رہے ان دونوں ممالک کے مسلمانوں کو مختلف حالات درپیش ہیں۔ کیا ہم ہندوستانی، فلسطینیوں کی مدد اور سپورٹ کے لئے اپنی حکومت سے اپیل کر سکتے ہیں؟ کیا ہم کوئی فنڈ،ریلیف یا فوجی ان کے لیے روانہ کر سکتے ہیں؟ اس وقت ہم پر حق ان کے لئے دعاؤں کا ہے اور اس حدیث کی رو سے سے کہ ’’مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ اگر اس کے کسی عضو میں تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے اور بخار اور بے خوفی کا شکار ہو جاتا ہے‘‘(بخاری 6011، مسلم 2586) اس لیے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کریں،ان کے درد کو محسوس کریں اور اپنے دلوں میں جذبہ پیدا کریں۔ سو اپنا حق حلال کریں۔ جہاد مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ اس وقت جہاد فلسطینیوں کے لئے یہود کے خلاف میدان میں لڑنا ہے، عربوں کے لئے اپنی حکمرانوں کو غیرت دلانا ہے اور ہندوستانیوں کے لئے میدان میں اتر کر اصلاح معاشرہ اور دعوت دین ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر الفاظ کشی نہ کریں۔ میں تو مانتی ہوں کہ ہر پیدا ہونے والا مسلمان اپنے اندر ایک بیداری رکھتا ہے جو درپیش حالات کے مطابق بیدار ہوتا ہے۔ انسان درپیش حالات اور چلینجز کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا اور تیار کرتا ہے۔فلسطینی ان حالات کا صدیوں سے سامنا کر رہے ہیں۔ہر بچہ ان حالات میں رہ کر اور دیکھ کر بڑا ہوتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ان حالات کے مطابق ڈھال کر صرف مر نہیں رہے بلکہ اللہ، اس کے دین اور اس کے گھر کی حفاظت کی خاطر مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ایمان کا مظاہرہ کر جام شہادت نوش کررہے ہیں۔ جو لوگ ہندوستانی مسلمانوں کو ان فلسطینی مسلمانوں کے مقابل لا کھڑا کر رہے ہیں اور انہیں غیرت دلا رہے ہیں، بےحسی اور دین و ایمان سے دوری کا طعنہ دے رہے ہیں میں ان سے بلکہ ہر مسلم سے پوچھتی ہوں کہ اگر آپ اور ہم ان حالات سے گزر رہے ہوتے جن سے آج فلسطینی گزر رہے ہیں تو کیا آپ یوں ہی اپنے آپ کو مرنے کیلئے چھوڑ دیتے؟ یا کوئی محفوظ پناہ ڈھونڈتے اور بھاگ کھڑے ہوتے؟ یا آپ بھی اللہ، اس کے کے دین کی سربلندی کے لیے اپنے گھروں کی حفاظت اور ماؤں بہنوں کی عزت و عصمت کی خاطر اپنے آپ کو میدان میں لاکھڑا کرتے اور شہادت کی تمنا کرتے؟ آپ کچھ کہیں یا نہ کہیں لیکن میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ آپ ایسا ہی کرتے اور اپنے ساتھ پچھلی صف میں اپنی ماؤں اور بہنوں کو بھی اس جذبے سے سرشار کھڑا ہوا پاتے۔ رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن۔
جہاد مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ اس وقت جہاد فلسطینیوں کے لئے یہود کے خلاف میدان میں لڑنا ہے، عربوں کے لئے اپنے حکمرانوں کو غیرت دلانا ہے اور ہندوستانیوں کے لئے میدان میں اتر کر اصلاح معاشرہ اور دعوت دین ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ۲۰۲۱