سر سید علیہ الرحمہ کی یاد میں
گلشن قوم کا باغباں ہو گیا
اس کا کوچہ ہمارا جہاں ہوگیا

ایک پودا جو اس نے لگایا یہاں
دیکھتے دیکھتے گلستان ہوگیا

علم و فن کا وہ مہتاب چمکا بہت
اک ستارہ تھا جو کہکشاں ہوگیا

قافلہ قوم کا پھر نہ بھٹکے کہیں
منزل دہر کا اک نشاں ہوگیا

اس کا دامن محبت سے بھر پور تھا
اتنا پھیلا کہ بس آسماں ہوگیا

مفلسی قوم کی دیکھ کر رو دیا
زندگی سونپ دی ارمغاں ہوگیا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱