محترمہ ایلا مشرا صاحبہ سے ملاقات

تاریخ کی اسٹوڈنٹ دیوبند کی رہنے والی محترمہ ایلا مشرا صاحبہ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
انھوں نے تحریک آزادی میں ریشمی رومال تحریک کا کیا رول تھا اور مسلم علماء، مسلم انقلابی موومنٹ کا اس وطن کو آزاد کرانے میں کیا کردار تھا۔ خصوصاََ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد وہاں سے چلائی جانے والی تحریک اور اس کے بانی مولانا محمد الحسن صاحب، عبیداللہ سندھی صاحب، مولانا حسین احمد مدنی صاحب اس ملک کو آزاد کرنے میں جو اہم کردار تھا اس پر اپنے تحقیقی مقالے میں روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس ملک کی آزادی میں مسلمانوں کا بھی اتنا ہی بڑا حصّہ تھا، انھوں نے بھی اتنی ہی قربانیاں دیں جتنی اور لوگوں نے دیں ، لیکن اس بات کو تاریخ میں اس طرح سے دبا دیا گیا کہ لوگوں کے سامنے یہ چیزیں نہیں آسکیں۔ ان تمام پہلوؤں کی ایلا مشرا صاحبہ نے اپنی کتاب میں بہت ہی اچھی طرح سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے علاوہ وہ ایک رفاہی ادارہ بھی چلاتی ہیں۔ جہاں غریبوں بیواؤں یتیموں کی امداد انھیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور کسی قابل بنانے کی کوشش، غریب بچیوں کی شادی کا انتظام، بے سہارا بھوکے لوگوں کے لئے کھانے کے لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ کام وہ برسوں سے کررہی ہیں اور اس کے علاوہ وہ ایک گورنمنٹ اسکول کی پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔
آج گفت و شنید میں قارئین و ناظرین کے لئے ان سے ہوئی گفتگو کو پیش کیا جارہا ہے۔

مکمل گفتگوسننے کے لیے کلک کریں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱