نظم
تخم الفت قلب انساں میں کوئی بونے کو ہے
معجزہ شاید کوئی پھر رونما ہونے کو ہے

شام کے کاندھے پہ دن بھی ڈھلتے ڈھلتے ڈھل گیا
رات کی بانہوں میں سورج تھک کے پھر سونے کو ہے

تیز رو رہوار، ناہموار و پیچیدہ ہے راہ
گرد کی اس دھند میں پھر راستہ کھونے کو ہے

ایک دیوانہ کرے ہے اپنی منزل کو تلاش
متصل منزل سے رستہ پھر کوئی ہونے کو ہے

یا غبار وقت سے ظاہر ہو منزل کا سراغ
یا یہ گردِ راہ تقدیرِ بشر ہونے کو ہے

ہیں یہ سب نظّارے اسری بس فریب جستجو
آنکھ کتنی دیر تک بارِ نظر ڈھونے کو ہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱