ہم اور ہمارے بچے

بہت خوش نصیب ہیں وہ والدین جنھیں اولاد کی نعمت سے نوازا یہ حقیقت ہے کہ اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ لہٰذا جن کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے انھیں وہ ایک نئی نسل کی پرورش ُپرداخت تربیت و تعلیم نیز اسلامی خطوط پر انھیں پروان چڑھانے اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا نازک اور اہم کام سونپ دیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ اس منصب پر سرفراز ہونا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بہت ہی صبر آزما کام ہے۔
موجودہ دور میں یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ خود ساختہ مصروفیات نے اس قدر گھر کر رکھا ہے کہ والدین اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ بہت سی جگہ تو مائیں نوکری پیشہ ہیں لیکن گھریلو خواتین نے بھی کم الجھنیں نہیں پالی ہیں۔
شادی بیاہ، منگنی و دیگر رسم و رواج میں الجھ کر خود کو مصروف کرلینا اور پھر اولاد کی وجہ سے اسے نہ کرسکنے پر اولاد کو برا بھلا کہنا، کوسنا اپنی خواہشات اور تمناؤں کو پورا نہ کر پانے کی صورت میں چڑچڑاہٹ سوار کرلینا۔ سسرال اور قریبی رشتہ داروں سے برابری میں پیچھے رہ جانے پر غم و غصہ کا اظہار کرنا شاپنگ اور پارلز میں بازاروں میں اور مولس میں سرگرداں، قیمتی موبائل کے شوق نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ نتیجتاً بچوں پر ماؤں کی گرفت ڈھیلی پڑتی جارہی ہے۔ بچوں کو ٹی وی کے سامنے بیٹھا کر یا موبائل تھما کر وہ سمجھتی ہیں کہ انھوں نے معرکہ سر کرلیا ہے لیکن ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ تھی وہ یہ بھول گئیں انھوں نے موبائل اور ٹی وی اور کارٹون کی دنیا کو بچہ کی درسگاہ بنادیا۔
بچوں کے اندر بچپن سے جو احساس پیدا کرنا چاہتے تھا وہ پیدا نہیں ہورہا ہے آج اولادیں لاپرواہ غیر ذمہ دار ہوچکی ہیں۔ گھنٹوں موبائل گیم کھیل کر انکے اندر سے احساس ذمہ داری اور شعور ناپید ہوچکا ہے۔ ان کے اندر سے وقت کی اہمیت کا اندازہ اپنے کاموں کو صحیح ڈھنگ سے کرنے کی عادت نہیں رہی۔
مثلا: پہلے گھروں میں تعلیم کا، وقت، ہوم ورک کا وقت، نماز پڑھنے اور مسجد جاکر ناظرہ پڑھنے کا وقت، دسترخوان لگانے کا وقت، ان ڈکلئیر بغیر اظہار نظام الاوقات تھا جو غیر محسوس طریقے سے بچوں کو پابند بنایا کرتا تھا۔ بچوں میں وہی چیزیں ان کی شخصیت کا حصہ بنا کرتی تھیں وہ غیر محسوس طریقے سے محافل میں نشست و برخاست کے آداب سے آشنا ہوجایا کرتے تھے ۔
بڑوں کے سامنے ادب تہذیب مشاہدے کے ذریعے سیکھ لیتے تھے نشست و برخاست کی تہذیب تو کجا والدین کے ساتھ بچے جراح کرنے لگتے ہیں ۔
لیکن اب یہ ماحول آہستہ آہستہ تقریبا ختم ہوچکا ہے ۔
موبائل کے سامنے بیٹھے ہوئے بچے اندازہ نہیں کرپاتے کہ وہ کتنا وقت گزار چکے ہیں ایک پوزیشن میں بیٹھنے کی وجہ سے ذہنی ارتقاء نہیں ہوتا ، تہذیب و تمیز بھی کارٹون سے سیکھتے ہیں۔
وہ کند ذہن،سخت مزاج، اور جھڑکنے والے بن جاتے ہیں۔ تب انھیں ڈانٹنے سختی برتنا ہم لازم کرلیتے ہیں۔بچےخاندان کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ بچوں کی تربیت سلیقہ مندی آداب ،تہذیب ، احساسِ ذمہ داری، اعتماد، ہماری تربیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
کولی اور میڈ کے نظریہ کے مطابق بچپن ہی سے بچوں میں اپنی ذات اور ملکیت کا احساس ابتدائی چار چھ ماہ ہی میں پیدا ہوجاتا ہے، جب بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ’’یہ اس کی ماں ہے اسے کوئی نہ چھوئے‘‘
یہ میری چیز ہے، یہ میرا کھلونہ ہے، یہ میرا اسکول بیگ یہ میرا لباس،احساس ملکیت ہی کے ساتھ ساتھ بچے میں اپنی چیزوں کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
جس زمانے میں بچے اپنی چیزیں رکھنا شروع کرتے ہیں اسی زمانے میں والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اس کام پر تعریف کریں اور سلیقہ مندی پر تعریف کرتے ہوئے ان کی اس عادت کو مزید تقویت بخشیں۔
ان جملوں کے ساتھ کہ
’’ہمارے بچے میں چیزوں کو احتیاط سے رکھنے کی عادت بہت پیاری ہے۔‘‘
ایسے جملے بچوں کی اچھی عادت کو تقویت بخشتے ہیں اکثر والدین بچوں کے اسکول میں ٹفن اور بوتل گم کردینے کی عادت کا فخریہ ذکر کرتے ہیں ۔ایسا رویہ بچے کو غیر ذمہ دار بناتا ہے۔
ماہرین نے احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے کچھ طریقے تجویز کئے ہیں ۔
۱۔جیسے بچوں سے گھر کا ڈور لاک کروانا، فریج میں پانی کی بوتل احتیاط سے بھروانا،لڑکیاں ہوں تو قالین پر مختلف رنگوں کے موتی بکھیر کر الگ الگ کروانا، گھر گھر کھیلنا، اور چھوٹے چھوٹے برتن کھیلنے کے لئے دینا۔
۲۔لڑکے ہوں تو جانوروں کی مناسب ڈرائینگ کلر فل کروانا،دوڑنے کی عادت ڈالنا، بہادری کے واقعات سنانا، نشانہ بازی کروانا ،ان کے سامنے نڈر ہونے کا احساس دلانا۔ہمارے اپنے گھروں میں شیشے کے برتن کا استعمال بھی بچوں میں احتیاط پسندی اور نفاست پسندی اور ذمہ دار بنانے کا، آسان گر ہے ۔
ایسے موقعوں پر والدین کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے لیکن ایک مرتبہ بچہ کانچ کے برتن کو سنبھالنے کا فن سیکھ لے تو اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں ۔انشاءاللہ اگلی تحریر میں ذکر رہے گا۔
بدلتے زمانے نے بچوں میں موبائیل اور ٹیلی وژن کو عام کیا ہے جو بچوں میں لاپرواہی، سستی، کاہلی ، غصہ کا اظہار اور بناوٹی زندگی کے تصور کو پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہےاسی لیے بڑھتی عمر کے ساتھ شخصیتوں سے اعتدال پسند جرات مندی،بہادری،انہماک، جوابدہی کا احساس جاتا رہا ہے۔

پیاری نبیؐ کے طرز پر کبھی سیرت کے باب سے نکال کر غور کیجیے۔ اپنے نواسوں کے ساتھ پیارے نبیؐ کا مشفقانہ،نرم اور سلجھا ہوا رویہ حضرت زید کےساتھ پیارے نبیؐ کی نرم خوئی ، شفقت آمیزی پر غور کیجیے۔حضرت فاطمہ کے ساتھ بحیثیت اولاد اور بیٹی اللہ کے نبیؐ نے کتنے نرم گفتاری کو ملحوظ رکھا۔
حضرت فاطمہ کی زندگی کا صبر شکر،قوت برداشت للہیت، تقوی،خدمت خلق کا جذبہ اور سخت کوشی سے ظاہر ہوتا ہے والدین نے کس درجہ توجہ دی ہے ۔
جس طرح بہترین پروڈکٹ بہترین کمپنی،بہترین کاردگی کا پتہ دیتا ہیں بالکل اسی طرح تربیت یافتہ،پاک طینیت اولاد اور ان کی شخصیت کی نیکی چیخ چیخ کر والدین کی نہج انکی ۔فکری بالیدگی اور سنجیدگی کا پتہ دیتی ہے۔
کمہار کی مثال لیجیے:
جب چاک پر گھڑا رکھا ہوتو پورا انہماک،پوری توجہ کے ساتھ ساتھ مستقل ہاتھ کا لمس چاہیے تاکہ گھڑا ہر لحاظ سے بہتر ہو ذرا کمہارکی نگاہ چوک جائے گھڑا ظاہر وباطن کے لحاظ سے معیار پر نہیں رہے گا۔
اتنی عظیم ذمہ داری کے باوجود ہم والدین کو دیکھتے ہیں کہ انہیں ہر چیز کی فکر ہے لیکن بچے کے کردار اخلاق ،صحت و شخصیت کی تعمیر کی فکر سرے سے ہے ہی نہیں ۔خود مائیں بھی ٹھنڈا مزاج رکھنے سے عاری ہیں۔لہجے کی سختی،ترشی،چیخ و پکار، جھنجلاہٹ، بچوں کی حصہ میں آرہی ہے ۔ گھروں سے بیزار یہ لڑکے اور لڑکیاں مختلف قسم کے جرائم کا شکار ہونے لگی ہیں ۔
نتیجتاً ایک بے حیائی کا سیلاب ہے جو امڈا چلا آرہا ہے ۔بچے فحاشی، عریانیت،جرائم زدہ سماج، احساسِ ذمہ داری سے عاری ہماری نسل، نہ تعلیم پر توجہ نہ ،والدین کی عزت کاپاس ولحاظ،نہ اپنے مقصدِ زندگی کا شعور جیسی زندگی گزار رہی ہے۔ جیسے کہ بس چند روز موج ومستی کے لیے دنیا ہے۔ہم والدین اپنے رویہ کی وجہ سے بے فیض اور بے مقصد۔ فصل کاٹ رہیں اور نجانے کتنی دہائیوں تک کاٹیں گے ۔
ماؤں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں پر اپنی الجھنوں اپنی جھنجلاہٹ کو نہ نکالیں۔
انہیں تختہ مشق نہ بنائیں۔
بچوں کو وقت دیں، کالیٹی ٹائم بچوں کو دیں۔
وہ انہیں کھانا کھلارہی ہوں تو انہیں لقمہ بنانے اور صفائی کے ساتھ کھلاتے ہوئے احساس دلائیں۔
ہرکام پر دعا کااہتمام باآوازِ بلندکریں۔
بچے جب گھر سے نکلے تو دعا اپنے سامنے پڑھوا کر ہی نکلنے دیں۔ بچوں سے ان کے اسکول کے واقعات کوجب وہ سنانے لگے پوری توجہ سے سنیں۔
ان کے ساتھ نماز کا اہتمام،کریں قران کی تلاوت انکو توجہ دلاتے ہوئے کریں۔
بچوں کو احترام کے ساتھ احکامات دیں ۔
آپ یہ کھالیجیے،آپ ہوم ورک کرلیجیے، ماہرین کے نزدیک بچوں کو بچپن میں دیا گیا احترام انتہائی نفیس طبع، اور ذمہ دار بناتا ہے۔
وضعداری کے پیداکرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
یاد رکھیں ہم نے اپنے گھروں میں دورانِ تربیت اسلام کو باقی رکھا تبھی نسلوں میں اسلام باقی رہا ہم نے اگر خود پسِ پشت ڈال دیا تو ہر دوجہاں میں بربادی رہے گی۔

جن کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے انھیں وہ ایک نئی نسل کی پرورش ُپرداخت تربیت و تعلیم نیز اسلامی خطوط پر انھیں پروان چڑھانے اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا نازک اور اہم کام سونپ دیتا ہے۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ اس منصب پر سرفراز ہونا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بہت ہی صبر آزما کام ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱