سب سے بڑا غدار
’آزادی چاہیے تم لوگوں کو؟ بڑی آزادی کے کے نعرے لگا رہا تھا ناں! یہ لے آزدی….!یہ اور لے آزدی….سالو ….تم غداروں کو ہمارے دیش میں رہنے کا کوئی ادھیکار نہیں ہے….تمہیں تو جینے کا بھی ادھیکار نہیں ہے۔‘
وہ مسلسل ایک بیس پچیس سال کے نوجوان کو آہنی سلاخ سے مارے جا رہا تھا۔ آٹھ نو بندے مسلسل اس نہتے نوجوان کو پیٹنے میں اس کا ساتھ دے رہیں تھے۔ کوئی ہاتھ پاؤں تو کوئی سر پر بنا رکے.. بنا تھکے پے درپے اس نوجوں پر سلاخوں سے ضربیں لگا رہے تھے۔
نوجوان کی چیخ پکار اب دم توڑ چکی تھی ۔ شاید درد کی شدت سے آواز نہیں نکل رہی تھی..یا شاید وہ مر چکا تھا ۔ اس کے سر، ناک اور منہ سے مسلسل خون بہہ کر زمین میں جذب ہو رہا تھا ۔ اس خونی ماحول میں ہر طرف جئے شری رام کے نعرے گونج رہے تھے ۔ خون کی بو سے اطراف کی پوری فضا آلودہ ہو چکی تھی۔ آسمان پر پرندوں کے غول منڈلانے لگے تھے۔ مضافات میں ہر طرف خاموشی بکھری ہوئی تھی ۔ اکّا دکّا راہ گیر بڑی بے نیازی سے جائے واردات سے گزر رہے تھے .. کچھ دلیر لوگ دوگز کے فاصلے سے موبائیل میں مقتول کے بہتے خون اور مردہ جسم کی ویڈیو اور تصاویر مختلف زاویوں سے مقید کر نے میں سرگرم عمل تھے ۔
وہ آج بہت خوش تھا ۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اتنا شبھ(کارخیر) کام کیا تھا…اس کی سوچ کے مطابق اس نے ایک’ غدّار‘ سے دھرتی کا بوجھ کم کر دیا تھا ۔سارے مجمعے میں جئے شری رام کا نعرہ گونجنے لگے تھے ۔ وہ بھی اپنے اسمارٹ فون سے اس نوجوان کی ادھ مری لاش کی ویڈیو بنا نے لگے تھے۔ اس نے کیمرے کا فوکس نوجوان کی لاش کی ادھ کھلی آنکھوں پر کر دیا ، وہ اس کی آنکھوں میں خوف اور درد تلاش کر نا چاہتا تھا ۔ اس کے مردہ جسم کو تڑپتے دیکھنا چاہتا تھا، مگر.. مگر…. وہ نوجوان پر سکون ہو گیا تھا ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیےپرسکون…. اسے اس کی مردہ آنکھوں میں کہیں بھی دور دور تک خوف ڈھونڈ نے سے بھی نہیں مل رہا تھا ۔
اس کی آنکھوں میں کچھ تھا ، جو اسے بے چین کر رہا تھا ۔ اس کی نگاہیں نوجوان کی مردہ آنکھوں پر ٹھہر گئی تھیں ۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے نگاہیں اس کی آنکھوں سے ہٹا نہیں پا رہا تھا .. ایسے جیسے کسی غیبی طاقت نے اس کی بصارت کو ایک ہی نکتے پر مرکوز کردیا ہو، وہ جہاں نظر دوڑا تا اس کی نگاہوں کے گرد مردہ نو جوان کی آنکھیں گردشکر نے لگتیں، وہ خوف کے مارے اپنی آنکھوں کو پوری قوت سے بند کرلیتا، مگر ذہن کے کسی گوشے میں وہ آنکھیں اسے پھر نظر آنے لگتی ، وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنا
نہیں چاہتا تھا۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو خلا میں یوں حرکت دے رہا تھا جیسے وہ ان آنکھوں کو اپنے سامنے سے ہٹا دینا چاہتا ہو.. اپنی ذہین کی درودیوار پر بنے اس کے عکس کو مٹا دینا چاہتا ہو۔ اس کے ہاتھوں پر جگہ جگہ سلائن کی نلیا ں لگی تھی۔
نہیں نہیں ہٹ جاؤ… ہٹ جاؤ.. وہ نیم بے ہو شی کی حالت میں بے ساختہ چیخنے لگتا۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے ہسپتال میں پڑا تھا ۔ وبائی لہر نے ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔ اس کی ماں، بہن، بھائی بھتیجا سب کے سب اس وبائی قہر کا شکار ہو گئے تھے ۔ آہ… اس کا بھتیجا ساغر اسے کتنا عزیز تھا۔بے رحم وباء نے اس معصوم کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ اس کی بیوہ بھابھی نے ریاست کے نامی گرامی سیاست دانوں کی منت سماجت کرکے یہ بستر اسے مہیا کروایا تھا ۔ شہر کا مشہور ومعروف ہسپتال…. جہاں تل دھرنے کی جگہ تک نہ تھی ۔ وہ بھی کوئی معمولی انسان تھوڑی ہی تھا!ریاست کے طاقت ور ترین شخصیات میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ پوری ریاست میں اس کا اپنا اثرورسوخ تھا ۔ اس کے ایک فون کال پر پورے پولیس ڈپارٹمنٹ میں ہلچل مچ جاتی تھی ۔ سوشل میڈیا پر ملک کا وزیر اعظم اسے فالو کرتا تھا ،مگر…. مگر اب ہسپتال کے کونے میں پڑے وہ زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔
پوری زندگی جن کو راضی کرنے میں اس نے گزار دی تھی، وہ اس کے آس پاس کہیں بھی نہیں تھے ۔ وینٹی لیٹر پرپڑے بے یارو مددگار، بے چینی اور گھبراہٹ کی عالم میں وہ اپنی حسرت بھری نگاہوں سے ہسپتال کے عملے کو تلاش کر تا،ادھر ادھر نظریں دوڑاتا، کاش!…. اےکاش!…. کوئی اسے موت کے منہ میں گر نے سے بچا لیں، کاش! وہ پھر سے پہلا جیسا تواناں ہو جائے، مگر سب بے سود…. کوئی بھی اس آخری لمحے میں اس کے ساتھ نہیں تھا۔
اس کے دوست احباب سب اس سے دوگز کی دوری بنا ئے ہوئے تھے ۔ اسے اپنی نفری پر بڑا زعم تھا ۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں کی تعداد میں اس کے فالورز تھے ۔ مگر آج…. آج اس آخری لمحے میں سب اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ ساتھ تھی تو بس اس نوجوان کی آنکھیں جو ہر جگہ اسے دکھائی دیتی تھی۔جس کی رمق دیکھ کر وہ بے چین ہوا جا رہا تھا۔ ایک انجانا ساخوف اسے اپنی لپٹ میں لیے جا رہا تھا…. آخر یہ آنکھیں اس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتی…. کیوں اس کی نگاہوں کے سامنے ہر وقت ہر لمحہ موجود رہتی ہیں…. آخر کیوں…. یک لخت اس کی سانس رکنے لگی تھیں…. وہ اپنی روح کو جسم کے کسی گوشے میں چھپا نے کی نا کام کوشش کر نے لگا تھا ۔ اسے محسوس ہونے لگا جیسے کوئی بھیانک اور خوف ناک مخلوق اسے چہرے پر مار رہی ہو،اس کی تیس پینتیس سالہ زندگی کا حساب ہو رہا تھا۔جو کچھ عمل وہ اپنی زندگی میں کر چکا تھا پوری فلم کی طرح اس کی مایوس نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگا تھا۔ درد کی تکلیف انتہاء کو پہنچ چکی تھی ۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔

بے حس و بے جان …. اس کی مردہ آنکھوں میں مایوسی ہی مایو سی تھی…. خوف ہی خوف تھا۔اب اس پر نوجوان کی آنکھوں میں چھپے ایک رازکا انکشاف ہوا تھا…. ’ غدّار‘ وہ مقتول نوجوان نہیں تھا،جسے اس نے بڑی بے رحمی سے قتل کیا تھا،بلکہ ’ غدّار‘ وہ خود تھا …. غدار …. بہت بڑا غدّار …. اپنے مالک حقیقی کا …. اپنے رب کا …. ۔

خون کی بو سے اطراف کی پوری فضا آلودہ ہو چکی تھی۔ آسمان پر پرندوں کے غول منڈلانے لگے تھے۔ مضافات میں ہر طرف خاموشی بکھری ہوئی تھی ۔ اکّا دکّا راہ گیر بڑی بے نیازی سے جائے واردات سے گزر رہے تھے .. کچھ دلیر لوگ دوگز کے فاصلے سے موبائیل میں مقتول کے بہتے خون اور مردہ جسم کی ویڈیو اور تصاویر مختلف زاویوں سے مقید کر نے میں سرگرم عمل تھے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱