کتاب سے دوری

انسان شعور کی بلندی پر پہنچنے کےلیے علم کا محتاج ہوتا ہے اور علم کی منازل طے کرنے کےلیے کتاب کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج ٹیکنالوجی کی شکل میں کتاب کی جگہ موبائل فون نے لے لی۔ ہم اپنے اس عظیم دوست سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو ہماری اخلاقی و معاشرتی تربیت کرتا ہے اور اس موبائل کو اہمیت دے رہے ہیں جو ہمیں فائدہ تو پہنچاتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی دے رہا ہے۔
کتاب محض دل نشیں لفظوں اور خوبصورت کاغذ کا امتزاج ہی نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں اور رہبروں کی زندگی کے کٹھن تجربات کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ ہم ان کے ماضی کے تجربات کو حالات کی کسوٹی پر پرکھ کر اپنے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ مگر آج کا نوجوان بزرگوں کے ان تجربات کو پڑھ کر سیکھنے کے بجائے موبائل کی رنگینیوں میں کھوگیا۔ آج موبائل ضرورت کے بجائے شخصیت کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ کسی کے پاس علم کی دولت ہو نہ ہو مگر مہنگا ترین موبائل ہونا ضروری ہے۔
قدیم دور میں کتاب بہت اہمیت رکھتی تھی کیوں کہ یہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ تفریح کا بھی ذریعہ تھی تب تفریحی قصے کہانیوں میں بھی کوئی نہ کوئی سبق آمیز اور نصیحت کا پہلو ضرور شامل ہوتا تھا اس وقت کتابیں کم یاب تھی تو شاید اس وجہ سے لوگ کتاب کی قدر کرتے تھے۔
اس دور میں آج کے دور کی طرح نہ ٹی وی، ڈش، نیٹ، کمپیوٹر، موبائل اور سینما تھے نہ ہی آج جیسی پکنک، پارٹیز اور موجودہ دور جیسی مزید تفریحات لوگوں کو میسّر تھیں اور تو اور آج کی طرح نت نئے دن مثلاً نیا سال، مدرز ڈے، فادرز ڈے، ٹیچرز ڈے وغیرہ منانے کا رواج بھی لوگوں میں متعارف نہیں ہوا تھا اس وقت لوگ کتابیں حصول علم کے لیے بھی پڑھا کرتے تھے اور دل بہلانے یا وقت کاٹنے کے لیے بھی۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱