غزل

بچھڑےہوئے لوگوں کو پکارا نھیں جاتا
ہر قصہ سرِ بزم اچھالا نہیں جاتا

تم بات نکالو تو سنیں ہم بھی فسانہ
بنتی ہوئی باتوں کو بگاڑا نہیں جاتا

اک لفظ جو گہرائی میں سینے کی پھنسا ہے
لہجے کی چبھن سے وہ نکالا نہیں جاتا

تم کوئی رفو گر ہو کہ سیتے ہی رہو گے
یہ چاک جگر اب توسنبھالا نہیں جاتا

اک غم کا سمندر ہے رواں ہررگ وپئےمیں
بپھرے ہوئے طوفان کو ٹالا نہیں جاتا

ادراک کی جذبات کی حد بندی ہوکیسے
احساس کے لمحات کو ناپا نہیں جاتا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ ستمبر