اسکول کا موسم آگیا
’’پیارے بچو ! نیند سے جاگو۔ بستر چھوڑواور منھ دھولو۔ کیوں کہ بستر پر لیٹے لیٹے کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ آج سے اسکول کھل گئےہیں۔ اب نماز کے بعد سونا نہیں بلکہ اسکول جانےکی تیاری کرنا ہے۔‘‘
امی نے ہم سب بچوں کو نیند سے جگاتے ہوئے کہا تو یاد آیا کہ کبھی ہم اسکول جایا کرتے تھے، مگر اب تو ہم آن لائن تعلیم کے عادی ہو چکے ہیں۔ اب تو وہی اچھا لگ رہا ہے، کیوں کہ اس میں موج مستی کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔
امّی کی بات سن کر لگا جیسےوہ یہ اعلان کر رہی ہوں کہ ’’ بہت کر لی اپنی من مانی اور بہت لوٹ لیے بند کےمزے۔ اب اسکول کی قید مبارک ہو۔‘‘
’’امّی !آپ ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ بستر پر لیٹے لیٹے کچھ نہیں ہو سکتا، جب کہ ہم بستر پر لیٹے رہ کر ہی ساری دنیا کو کورونا سے بچا رہے ہیں۔‘‘اصغر نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’نہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ احمر ہڑ بڑا کر چادر کو اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
’’ کیا نہیں ہوسکتا بھیا ؟‘‘ اسماء نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کہیں تم نے کوئی ڈراؤنا خواب تو نہیں دیکھ لیا ؟‘‘
امّی چونک گئی تھیں۔
’’ڈراؤنا خواب نہیں امّی، ڈراؤنی حقیقت۔‘‘اصغر بیچ میں بول پڑا۔
’’کونسی حقیقت؟‘‘ امّی نے سوال کیا۔
’’امی کورونا وائرس نےتو بڑوں کے لیے عزت و احترام کی مثال قائم کر دی۔ سب سے پہلے دور میں اس نے تمام بزرگوں کی قدم بوسی کی۔ اس کے بعد بڑے لوگوں سے ملاقات کی اور اب بچوں کے ساتھ کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’اس کھیل میں کورونا کو ہرانے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ ہم اسکول ہی نہ جائیں۔‘‘ اسماء نے اپنی بات رکھی۔
ہم سب کواسکول جانے سے بچنے کے لیے ایک اور بہانہ مل گیا تھا۔
’’بکواس بند کرو۔ اسکول بس آنے میں ایک گھنٹہ باقی ہے۔ جلدی سے یونیفارم پہن کر تیار ہو جاؤ۔‘‘ امّی نے ڈانٹ لگائی۔
جب سے ہم سب کا اسکول جانا بند ہوا، تب سے ہمیں ڈھیلے پائجامے اور ٹی شرٹ پہننے کی ایسی عادت ہوگئی تھی کہ اسکول یونیفارم ہمیں قیدیوں کا لباس لگ رہا تھا۔ اور ٹائی گویا پھانسی کا پھندہ۔
’’امّی! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ہوم اسکولنگ کر لیں۔‘‘ اسماء نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔
’’ امّی! اسماء بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ایساکرنے سے آپ کے لاڈلے، راج دلارے ،جگر کے ٹکڑے آپ کی نظروں کے سامنے رہیں گے۔ اور انہیں نظر لگنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہےگا۔‘‘ احمرنے اسماء کی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’امّی کورونا اتنی خطر ناک بیماری ہے کہ اس کے لئے ہم اپنی پڑھائی بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ابھی تو صرف دو سال کا عرصہ گزرا ہے۔ اگر اس کےلئے سات سال بھی اسکول بند کرنا پڑے تو یہ قربانی ہم دیں گے۔‘‘ میں نے چھاتی ٹھوکتے ہوئے کہا۔
’’کاش ایسی قربانی دینے کا موقع بچپن میں ہمیں بھی ملا ہوتا۔‘‘امی نے دھیمے لہجے میں اپنے آپ سے کہا، گویا انہیں اس بات کا بہت افسوس ہو۔
’’امی کچھ کہا آپ نے ؟‘‘ اسماءنے انہیں غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کچھ نہیں‘‘ کہہ کر انہوں نے بات ٹال دی اور پھر کہنے لگیں:
’’بچو! ہمیں کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ اور لڑنے کے لئے میدان چھوڑ کر بھاگا نہیں کرتے بلکہ اپنےدشمن سےمقابلہ کرتےہیں سمجھے ؟‘‘ امی سمجھانے لگیں۔
’’امّی ہم کہاں بھاگ رہے ہیں ؟ ہمیں تو آپ بھگا رہی ہیں اسکول کے لیے۔‘‘اصغر نے یاد دلایا۔
’’امّی جنگ میں تو سپاہیوں کے پاس ہتھیار، گولہ بارود سب کچھ ہوتا ہے۔ جس کی مدد سے وہ جنگ لڑتےہیں۔ لیکن ہمارے پاس کیا ہے ؟‘‘ اسماء نے معصومیت سے پوچھا۔
’’ہتھیار تو ہمارےپاس بھی ہیں کورونا سے لڑنے کےلیے اور وہ ہیں: ماسک، جو تمہاری حفاظتی شیلڈ ہے، دو گز کا فاصلہ جو تمہارا پوزیشن ہوگا اور سینیٹائزر، وہ زہر جس سے تم اپنے دشمن کا خاتمہ کر سکتے ہو۔‘‘ امّی نے جنگ کے میدان کا نقشہ ہی کھینچ دیا تھا۔
’’پیاری امی جان ! دنیا کے سارے لوگ تو سپاہی نہیں بنتے نہ ہی جنگ لڑتے ہیں۔ تو آپ ہمیں کیوں سپاہی بنا نا چاہتی ہیں؟ہمیں نہیں لڑنی کوئی جنگ ونگ۔ ہم سکون سے گھر میں بیٹھ کر سپاہیوں یعنی کہ اسکول جانے والے بچوں کی حفاظت کے لیے دعا کیا کریں گے۔ یہ بھی تو بہت اہم کام ہے نا ؟‘‘ میں نے کہا۔
’’بے شک اہم ہے۔ لیکن ابھی کورونا کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔ یہ بھی نہیں کہاجا سکتا کہ اس پر کب تک قابو پایا جا سکے گا۔یوں سمجھو کہ یہ ایک وبا کا چیلنج ہے، جو جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔ اس کے لیے اسکول جانا بند کرنا اس کا حل نہیں ہے بلکہ اب ہمیں اس کے ساتھ ہی جینا ہے۔‘‘
امّی نے تو اج اپنی بات منوانے کی ٹھان لی تھیں۔
’’امّی! لیکن یو ٹیوب پر تو یہی بتایا جا رہا ہے کہ فی الحال ایسی جگہوں پر اکٹھا نہیں ہونا ہے جہاں مجمع زیادہ ہو۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔‘‘احمر نے کہا۔
’’بچو! حکومت نے خود اسکول اورکالجز کھول دیے ہیں۔ اس لیے اب سارے بچے اسکول جا سکتے ہیں۔ آپ کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کرنا کہ ہر ایکٹیویٹی کے پہلے اور بعد 20 سیکنڈ یا اس سے زیادہ ہاتھ دھوئیں، خصوصاً کھانا کھانے سے پہلے اور ٹوائلٹ کے بعد۔
بلبلے بنانا نہ بھولیں اور اگر کہیں صابن اور پانی نہ ہو تو ہینڈ جیل یا سینیٹائیزر استعمال کریں۔ بس اتنی سی بات ہے۔‘‘
امّی کے پاس ہمیشہ ہر سوال کاجواب موجود ہوتا ہے۔
’’یہ لو! ہم نے سوچا تھا کہ کم ازکم م20-2021میں اڑنے والی کار آجائے گی۔ لیکن ابھی تو ہم سب ایک دوسرے کو ہاتھ دھونا ہی سکھا رہے ہیں۔‘‘ میں نے سر ہلاتے ہوئے مایوسی سے کہا ۔
’’ہم زندہ اور صحت مند رہیں گے، تبھی تو کام کر پائیں گے۔ جب تک یہ وائرس رہے گا تب تک احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔‘‘ امّی نے نصیحت کی۔
’’امّی جان یہ وائرس چائنا سے آیا ہے اور چائنا کا مال زیادہ ٹکاؤ نہیں ہوتا۔ یہ وائرس بھی زیادہ دن نہیں ٹکے گا، ان شاء الله۔‘‘ احمر کےلہجے میں یقین تھا۔
آمین۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ چلو اسی بات پر جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ ‘‘امّی نے پھر سے راغب کیا۔
’’ہاں امّی جان۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب بچے بھی اسکول جانے اور اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے بے چین ہیں۔ آج سے ہم اسکول ضرور جائیں گے اور خوب محنت سے پڑھائی کریں گےاور بڑے ہو کر Front line workers یعنی ڈاکٹر اور سائنسدان بن کر اس لا علاج وائرس کا علاج دریافت کریں گے جو صابن سے مر جاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اللہ تم سب کو اپنے مقصد میں کامیابی عطا کرے۔‘‘
امی دعائیں دیتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں اور ہم اسکول جانے کی تیاری کرنے لگے۔
’’امّی کورونا اتنی خطر ناک بیماری ہے کہ اس کے لئے ہم اپنی پڑھائی بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ابھی تو صرف دو سال کا عرصہ گزرا ہے۔ اگر اس کےلئے سات سال بھی اسکول بند کرنا پڑے تو یہ قربانی ہم دیں گے۔‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر ٢٠٢١