آن لائن تعلیم: کتنی مفید کتنی مضر؟
(مصنفہ انسائیٹ انٹرنیشنل اسکول، مہدی پٹنم حیدرآباد کی پرنسپل ہیں اور اپنے اسکول میں آن لائن نظام تعلیم کے انتہائی معیاری انتظام کی وجہ سے انہیں کافی ستائش ملی ہے۔ موصوفہ نے ہماری گذارش پر یہ تحریر انگریزی میں لکھی تھی، جس کا ترجمہ پیش ہے) یہ مشہور بات ہم بار بار سنتے رہے ہیں کہ علم ایک ایسا خزانہ ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔اس کا عملی ثبوت سال 2000 میں وبا کے بھیانک دور میں بہت نمایاں ہوکر ہمارے سامنے آگیا۔ ۲۲ مارچ ،۲۰۲۰ ہماری حالیہ تاریخ کا نہایت فیصلہ کن دن ہے جب محض چار گھنٹوں کی نوٹس پر، پورے ملک میں اچانک اسکول و کالج بند کردیئے گئے۔ ایک ہفتے کے اندر بہت سے تعلیمی اداروں نے آن لائن تعلیم کا آغاز کردیا۔ نہایت مختصر وقت میں یہ بڑی تبدیلی آسان نہیں تھی۔ اس کے لئے اساتذہ اور اسکولوں کے منتظمین کو بے پناہ محنت کرنی پڑی اور اپنی عادتوں میں بنیادی تبدیلیاں لانی پڑیں۔ کئی اسکول اس میں بہت کامیاب رہے۔ آج ہمارے نظام تعلیم میں نہایت عظیم انقلاب واقع ہوچکا ہے۔ وسائل اور مواد کے اعتبار سے بھی اور ذرائع و طریقہ کار کے اعتبار سے بھی۔ مجلد کتابیں ای بکس میں تبدیل ہوگئیں، پروجیکٹ فائلیں گوگل کلاس روم پر منتقل ہوگئیں، وہائٹ بورڈ کا مقام ٹیبلیٹ اسکرین نے لے لیا تو کلاس روم کے روبرو تجربے نے آن لائن پلیٹ فارم پر جگہ بنالی۔ کووڈ۔۱۹ کی تباہ کاریوں نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا۔ روایتی کلاس رومز بھی اس عالمی وبا کی لپیٹ میں آگئے۔حالانکہ آن لائن تعلیم کا رواج، اس عالمی وبا سے پہلے بھی رہا ہے مگر وہ صرف ایک اضافی سہولت تھی جس کے ذریعہ وسیع تعلیمی مواد تک طلبہ کی رسائی کا مقصد حاصل کیا جاتا تھا۔ آن لائن تعلیم ،کبھی بھی تعلیم وتعلم کا بنیادی طریقہ کار نہیں رہا۔ خاص طور پر پرائمری اسکول کے بچوں کے لئے آن لائن تعلیم کا تصوربھی امکان سے پرے تھا۔ سماجی دوری اور لاک ڈاؤن نے آن لائن کلاسوں کو تعلیمی میدان کی بنیادی ضرورت بنادیا ہے اور اب ہر عمر کے طلبہ آن لائن تعلیم سے استفادہ کررہے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ خصوصاً چھوٹے بچوں کے لئے یہ ایک بالکل غیر فطری صورت حال ہے۔ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ اُس کی بنیادی ضرورتوں میں جہاں روٹی، کپڑا اور مکان شامل ہے وہیں دیگر انسانوں سے تعلقات اور انسانی گروپ کا حصہ بننے کی ضرورت اس کی بنیادی حاجت ہے۔ دوست احباب اور رشتہ داروں کے بغیر جینے کا تصور بھی محال ہے۔چاہنے والوں کی بے پناہ محبتیں، اسکول کے کلاس روم کی ہمہ ہمی ، دوستوں کے ساتھ کھیل کود اور ہنسی و مذاق، خاندان کے افراد کاخلوص و محبت ،سوشل میڈیا پر دوسرے انسانوں سے ربط و تعلق اور یہ خواہش کہ لوگ ہم کو پسند کریں، یہ سب ہر انسان کی جذباتی ضرورتیں ہیں اوران سب باتوں کا اثرہمارے خیالات ، جذبات اورا عمال قبول کرتے ہیں۔ ان سے نہ صرف ہماری زندگیاں پر لطف ہوجاتی ہیں بلکہ ہماری شخصیتوں کی تعمیر میں بھی ان سب عوامل کا بنیادی رول ہوتا ہے۔ آن لائن تعلیم ان سب مسرتوں سے محروم کردیتی ہے۔ چنانچہ روایتی نظام تعلیم کو آن لائن میں تبدیل کرنے کا مرحلہ بہت ہی دشوار گزار اور تکلیف دہ ہے ۔ اس وقت مجھے اپنے زمانہ تعلیم اور اپنے اسکول کی یاد آرہی ہے کہ کیسے میں نے روایتی نظام تعلیم سے استفادہ کیا۔ آج محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کا عمل ، کلاس روم کے اسباق سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میری بہت سی صلاحیتیں کلاس روم کے اسباق کے ذریعے نہیں پیدا ہوئیں بلکہ اُس ماحول سے ،اُس گفتگو سے، ان کہانیوں سے اور ان غیر رسمی باتوں سے پیدا ہوئیں جو اسکول کے دوران ساتھی طلبہ و طالبات سے اور اساتذہ سے ہوتی رہیں۔ اسکول میں ایک پر لطف دن گذارنے کے بعد جب ہم واپس لوٹتےتھے یا کالج کی کینٹین میں ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ کرتے تھے تو بہت سے موضوعات پر مذاکرات ہوتے تھے۔ہنسی مذاق اور نوک جھونک کے درمیان غیر محسوس طور سے بہت سی سنجیدہ باتیں بھی ہوجاتی تھیں۔ میرے ہم جماعتوں کے مختلف مشاغل تھے۔ کمپیوٹر سائنس، ریاضی، زبان و ادب، اور سیاست و معیشت۔۔مختلف دوستوں کی دلچسپیاں مختلف میدانوں سے تھیں۔ ہر روز لنچ کے وقفے میں ان دوستوں سے ان مختلف مضامین سے متعلق ، نئی نئی باتیں میں نے سیکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ باتیں کلاس روم میں مجھے کبھی سیکھنے کو نہیں ملتیں۔یہ صرف میرا تجربہ نہیں ہے ہر پڑھے لکھے انسان کا تجربہ ہے۔ وہ جتنا کلاس روم میں سیکھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ تعلیمی ادارہ کے غیر رسمی بے تکلف ماحول میں سیکھتا ہے۔آن لائن تعلیم میں اس تجربے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اس لئے آن لائن تعلیم کی طرف منتقلی کا عمل شدید تشویش کا باعث ہے۔یہی تشویش زندگی کے اُن دیگر شعبوں میں بھی پائی جاتی ہے جہاں اس عالمی وبا نے ہمارے روایتی طریقوں کو پامال کیا ہے۔ آن لائن ٹیچنگ کا سب سے زیادہ اثر ابتدائی جماعتوں کے کم عمر طلبہ پر ہوا ہے۔ ہر پرائمری کلاس میں ، اپنا سبق پڑھانے کے بعد، کئی بار ٹیچر اپنی کرسی کھینچ کر کسی نہ کسی ننھے منے طالب علم کے قریب جا بیٹھتی ہے اور اس کے کام کا مشاہدہ کرتے ہوئے، اس کا تعاون کرتے ہوئے، کبھی اس کا قلم پکڑ کر اور کبھی کوئی چیز دکھا کر، اسے سیکھنے کے عمل میں مدد کرتی ہے۔ آن لائن تعلیم میں یہ سب کہاں ہوسکتا ہے؟ سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس تبدیلی کے نقصانات کے پہلو بہ پہلو بعض فائدے بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔ سب سے اول تو اس نے اس مشکل ترین وقت میں بھی طلبہ کے تعلیمی کیرئیر کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مددکی۔ یہ آن لائن طریقوں کا بہت بڑا فائدہ ہے۔اساتذہ کے لئے یہ ایک بہت چیلنجنگ اور انوکھا تجربہ رہا جس نے انہیں بہت سی نئی چیزیں سکھائیں اور والدین اور اساتذہ میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہوئیں۔ آن لائن ایجوکیشن کا ایک بڑا فائدہ اس کا لچکدار ہونا ہے۔ طلبہ اپنی سہولت اور اپنے سیکھنے کی رفتار کے مطابق آن لائن وسائل سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جو دیر سے سمجھتے ہیں وہ بار بار اپنی رفتار سے ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں اور جو زیادہ تیزی سے سیکھتے ہیں وہ وقت بچاکر اسے دیگر مفید کاموں میں استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ طلبہ کے لئے آرام اور سہولت کا بھی باعث ہوتا ہے۔ وہ گھر کے آرام دہ اور اپنی پسند کے ماحول میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ آن لائن کی سہولت، تعلیم کو نسبتاً کم خرچ بناسکتی ہے۔اسکول کی انتظامیہ اور سرکار کا عمارتوں وغیرہ پر لگنے والا خرچ بچتا ہے۔ طلبہ اور ان کے سرپرستوں کا آمد ورفت کا خرچ بچتا ہے۔ ملک میں آج بھی کروڑوں طلبہ کو تعلیم کے حصول کے لئے دوردراز کاسفر کرنا پڑتا ہے۔ آن لائن تعلیم سے ان کا وقت اور پیسہ دونوں کی بچت ہوسکتی ہے۔ شہری زندگی اس قدر مصروف ہوگئی ہے کہ لوگوں کے پاس اپنے لئے وقت ہی نہیں رہا۔ یہ بات اب بچوں کے لئے بھی صادق آنے لگی ہے۔ صبح اٹھ کر اسکول جانا اور شام میں لمبا سفر طئے کرکے تھکے ماندے لوٹ آنا، انہیں نہ بھرپور نیند مکمل کرنے کا وقت میسر ہے، نہ اپنی پسندیدہ مشاغل اختیار کرنے کا۔ نہ وہ کھیل کود سکتے ہیں اور نہ جسمانی صحت پر توجہ دے سکتے ہیں۔ نہ وہ اپنی پسند کی کہانیاں پڑھ سکتے ہیں نہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اپنے پسند کےطریقے سے بروئے کار لاسکتے ہیں۔سب سے بڑھ کر اپنے چاہنے والوں، اپنے ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کوالٹی ٹائم گذارکر ان سے تہذیب و شائستگی اور زندگی کی اعلی قدروں کو سیکھنے کا کوئی ٹائم ان کے پاس باقی نہیں ہے۔ یہ ہمارے دور کا بہت بڑا بحران ہے۔ اس نے بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا۔ ان کی تخلیقیت چھین لی۔ انہیں اپنے اپنے خاندانوں اور تہذیبوں کی روایات اور اقدار سے دور کردیا۔ آن لائن نظام تعلیم ، اس عظیم بحران پر قابو پانے میں معاون ہوسکتا ہے۔ آن لائن نظام تعلیم کی وجہ سے انہیں ایسا کوالٹی ٹائم میسر آسکتا ہے جو وہ اپنی پسند کی محبوب سرگرمیوں میں گذارسکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا دے سکتے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے بچے اس موقع کا یہ استعمال کرپارہے ہیں؟ آن لائن تعلیم سے بچا ہوا وقت کیا انہیں اس فطری بچپن کی طرف لوٹنے میں مدد دے رہا ہے جو جدید زندگی کی ہنگامہ خیزی نے ان سے چھین لیا تھا؟ یا اس وقت کو بھی وہ موبائل اور ٹیبلیٹ اور ٹی وی کے سامنے ہی گذاررہے ہیں؟ اگر ہم اپنے بچوں کےطرز ندگی میں تبدیلی لاسکیں اور وقت کی بچت کو مفید اوران کی فطرت سے ہم آہنگ کاموں اور مشاغل میں استعمال کر نے کا ماحول بناسکیں تو یہ ایک بڑی نعمت ثابت ہوسکتا ہے۔ وقت ہمیشہ یکساں نہیں رہتا ہے۔ یہ مشکل ترین وقت بھی گزر ہی جائے گا اور ايک نئی صبح ضرور روشن ہوگی ان شاءاللہ۔اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے دور میں ہم اس آزمائش سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں؟ آن لائن تعلیم کے اپنے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔اندازہ یہی کہ اس وبا کے بعد جو نظام تعلیم نمودار ہوگا وہ آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں کا امتزاج ہوگا۔ اس میں پہلے کے مقابلے میں آن لائن ٹکنالوجیز کا استعمال ، یقیناًبڑھ جائے گا۔ مستقبل کا مثالی نظام تعلیم وہ ہوگا جس میں آن لائن اور روایتی دونوں تعلیمی نظاموں کے فائدے جمع ہوں اور جو دونوں کے نقصانات سے پاک ہو۔ یہ کیسا ہو اور اس میں کونسی چیز کس تناسب میں شامل ہو، اس پر سنجیدہ مباحث ہونے چاہیے۔ اور اس وبا کے دوران پیش آئے تجربات سے فائدہ اٹھا کر استاتذہ، اسکولوں کی انتظامیہ اور سرپرستوں کو مل کر بہتر سے بہتر ماڈل کو تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مصنف بر بارا براؤن ٹائیلر لکھتی ہیں “میں اپنى زندگی میں رونما ہونے والے ان خوفناک واقعات کی شکر گزارہوں جنھوں نے مجھے زندگی کی سچائی سے ہمکنار کیا اور میری اس خام خیالی کا بھرم توڑا کہ میں جوچاہے وہ پاسکتی ہوں اور ہر چیز پر کنٹرول رکھتی ہوں۔ انھوں نے میرے لئے زندگی کو اسکی اصلی حالت کے ساتھ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔
آن لائن تعلیم سے بچا ہوا وقت کیا انہیں اس فطری بچپن کی طرف لوٹنے میں مدد دے رہا ہے جو جدید زندگی کی ہنگامہ خیزی نے ان سے چھین لیا تھا؟ یا اس وقت کو بھی وہ موبائل اور ٹیبلیٹ اور ٹی وی کے سامنے ہی گذاررہے ہیں؟ اگر ہم اپنے بچوں کےطرز ندگی میں تبدیلی لاسکیں اور وقت کی بچت کو مفید اوران کی فطرت سے ہم آہنگ کاموں اور مشاغل میں استعمال کر نے کا ماحول بناسکیں تو یہ ایک بڑی نعمت ثابت ہوسکتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱