بین الاقوامی منظر نامہ
عالمی منظر نامہ پر اگر ہم نظر ڈالیں تو نو منتخبہ امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم پر سب کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں ۔ جو بائیڈن نے اپنی جوانتظامیہ منتخب کی، اس کے تناظر میں عالمی سیاسی منظر نامے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ممکن ہو سکے گی ۔ چونکہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ تشکیل کے مرحلے سے گزر کر انتظامی امور پر پوری طرح قابض ہوچکی ہے تو سب نگاہیں سابق امریکی حکومتوں کے مقابلے میں اس حکومت کے مشرقی وسطی اور مسلمان ممالک سے روابط کی حکمت عملی پر جمی ہوئی ہیں ۔یہاں ایک غیر یقینی کیفیت اب بھی برقرار ہے کہ کیا جو بائیڈن سابقہ صدر اوباما کی پالیسیوں پر عمل درآمد ہوں گے یا ان کی کوئی نئی حکمت عملی ہوگی۔ امریکہ میں اٹارنی جنرل اور سی آئی ائے کے ڈائریکٹر جنرل سمیت وفاقی کابینہ اور تمام کلیدی آسامیوں پر تقرریوں کیلئے سینیٹ (راجیہ سبھا) سے توثیق ضروری ہے۔ امریکی صدر اپنی ٹیم کا انتخاب کرچکے ہیں اور مستقبل کی صورت گری کا کام بھرپور انداز میں جاری ہے۔ بلاشبہ ساری دنیا کی طرح امریکہ میں بھی کورونا عوام و حکمراں سب کے اعصاب پر چھایا ہوا ہے۔ ہلاکت و تباہ کاری کے اعتبار سے اس جرثومے نے امریکہ کو اپنا بنیادی ہدف بنا رکھا ہے اور اوسطاً ہر روز چار ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ چنانچہ امریکہ کی بین الاقوامی معاملات پر پیشرفت کسی حد تک سست ہے۔امریکی صدر کا اپنی ٹیم کا انتخاب مکمّل کرنے کے بعد اب مستقبل کے لائحۂ عمل کی صورت گری کا کام بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جاتے جاتے جس طرح اپنی دانست میں مشرق وسطیٰ کے منظر نامہ کو اسرائیل کے مفادات کے لیے سازگار کرنے کی سازشیں کر گئے ہیں، کیا بائیڈن کی آمد بعد بھی وہی حالات برقرار رہ پائیں گے، اس کا سوال کا جواب اب بڑی حد تک واضح ہوچکا ہے۔کیونکہ بائیڈن نے آتے ہی وہ سارے اسلحہ کی فروخت کے معاہدات ختم کرچکے جو ٹرمپ کر گئے تھے ۔بائیڈن کے اس فیصلے کے مشرق وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ جاننے سے پہلے کچھ مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظر نامہ پر نظر ڈالتے چلیں ۔ مشرق وسطیٰ کو بنیادی طور پر دو بڑے تنازعات کا سامنا ہے اور یہ دونوں تنازعات باہم ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ پہلا تنازعہ یعنی مسئلہ فلسطین، ایک بدترین انسانی المیہ بن چکا ہے۔ یہ دراصل انسانی ضمیر کا امتحان ہے۔” مہذب دنیا“ کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش تماشی بنی ہوئی ہے۔ غزہ اور غرب اردن کھلی چھت کے جیل خانے ہیں بلکہ انہیں وسیع و عریض عقوبت کدے کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جیل میں بند قیدیوں کو غذا، لباس اور علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ نظر بند قیدیوں کو نظامِ انصاف تک رسائی حاصل ہوتی ہے جبکہ پنجرے میں بند فلسطینی بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ جہاں تک مسئلہ فلسطین کے حل کا تعلق ہے تو اس کے لئے نہ کسی کمیشن کی ضرورت ہے اور نہ اضافی مذاکرات کی ضرورت ہے ۔ اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو جائے تو یہ مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو سکتا ہے۔ علاقے کا دوسرا بڑا مسئلہ ایران کی مبینہ جوہری امنگ اور اس حوالے سے خلیجی ممالک اور اسرائیل کی تشویش ہے۔ ایران سے متعلق تنازعات و شکوک و شبہات کا جائزہ لیا جائے تو اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا امریکہ اور یورپ کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ جوہری توانائی کو اپنی ترقی اور پرامن مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن مغربی دنیا کو تہران کی یقین دہانی پر اعتماد نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی جس سطح پر کر رہا ہے، پر امن مقاصد کیلئے اس کی ضرورت نہیں اور سرگرمیوں سےجوہری ہتھیار کے لئے ایران کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔ تل ابیب کا خیال ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنا لیے تو اس کا ہدف اسرائیل ہوگا۔ دوسرا اسرائیل کو ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے علاوہ ایک شکایت یہ بھی ہے کہ تہران حزب اللہ اور شامی حکومت کو فوجی امداد فراہم کر رہا ہے۔ تل ابیب ان دونوں کو دشمن نمبر ایک اور اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ایران عرب تنازعے کی بہت ہی بھاری قیمت یمن کے بے گناہ ادا کر رہے ہیں جو خلیجی بمباری اور متحارب گروہوں کی گولہ باریوں سے کھنڈر بن چکا ہے۔ آبپاشی و آبنوشی کے وسائل تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ زرعی زمینوں پر دھول اڑ رہی ہے اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ مویشی یا تو بھوک سے ہلاک ہوگئے یا ان کے مالکان نے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے ذبح کر ڈالے۔ اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق غذا کی کمی نے نصف سے زیادہ یمنی بچوں کو معذور کر دیا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے وزارت خارجہ، سی آئی ائے اور قومی سلامتی کیلئے جن افراد کا انتخاب کیا ہے ان کے سرسری جائزے سے ایسا لگتا ہے کہ عالمی افق، خاص طور سے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ کی حکمت عملی اوباما پالیسی کی شرطیہ نئی کاپی ہوگی۔ جناب بائیڈن نے وزارت خارجہ کیلئے انٹونی بلیکنکن کا انتخاب کیا ہے۔ جو کہ ایک راسخ العقیدہ یہودی ہیں ۔ جب وہ صدر اوباما کے نائب مشیرِ سلامتی کی تھے انہیں افغان حکمت عملی ترتیب دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ ان کے مشورے پر ڈرون حملوں نے افغانستان اور شمالی وزیرستان میں جو تباہی مچائی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن اس خونریزی کے باوجود طالبان کی کمر نہ توڑی جا سکی ۔صدر بائیڈن کے وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کی طرح سی آئی اے کے نامزد ڈائریکٹر ولیم برنس بھی تین سال تک سابق صدر اوباما کی کابینہ میں نائب وزیر خارجہ تھے۔ ولیم برنس اور انٹونی بلینکن دونوں کئی برسوں سے جو بائیڈن کے بہت قریب ہیں اور صدر اوباما کے دور میں انہیں خاصہ عروج ملا۔ خارجہ امور، قومی سلامتی اور بین الاقوامی سراغرسانی کے لیے جن لوگوں کا جو بائیڈن نے انتخاب کیا ہے وہ سب کے سب اسرائیل کے دل وجان سے حامی ہیں۔ انتخابی وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے امریکی حکومت نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت معطل کردی۔صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے انعام کے طور پر متحدہ عرب امارات کو 23 ارب ڈالر کے عوض پچاس F-35 طیارے فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بعد متحدہ عرب امارات دوسرا ملک ہے جسے F-35 طیارے فروخت کئے جارہے ہیں۔ ضابطے کے تحت F-35 جیسے کلیدی نوعیت کے اسلحے کی کسی دوسرے ملک کو فروخت سے پہلے امریکی سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع سے توثیق ضروری ہے لیکن سابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سینیٹ سے بالا بالا ہی فروخت کی منظوری دے دی تھی۔ صدر ٹرمپ کا موقف تھا کہ اسلحے کی فروخت سے امریکہ میں ملازمتوں کو ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسی کے ساتھ سعودی عرب کو جدید ترین اسمارٹ بموں کی فروخت بھی معطل کردی گئی ہے۔ بوئنگ کمپنی کے تیار کردہ 8 انچ سے بھی پتلے یہ بم زیر زمین مورچوں، بنکروں اور کنکریٹ سے بنی عمارتوں کے پرخچے اڑا سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے 3000 اسمارٹ بم خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس کی مجموعی قیمت 30 کروڑ ڈالر ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس محترمہ رشیدہ طلیب نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان بموں کے یمن میں استمال سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوگا۔ صدر جو بائیڈن کے ان اقدامات کا کیا نتیجہ نکلے گا اس کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے لیکن رابرٹ ملے کی بطور خصوصی نمائندہ برائے ایران تقرری، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی اسلحے کی فراہمی معطل کرنے، یمنی حوثیوں کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے محدود مدت کیلئے ہٹانے، اسرائیل فلسطین دو قومی ریاست پر بائیڈن انتظامیہ کے اصرار اور جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی حکومت کے طرز عمل میں ایک” موہوم و مبہم “سی مثبت تبدیل کے آثار نظر آرہے ہیں۔ لیکن یہاں اسرائیل نواز سیاسی قوتوں کی جڑیں بہت گہری اور پہنچ بہت دور تک ہے۔ جو بائیڈن خود بھی اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں۔ امریکی صدر فلسطینی اراضی پر صیہونی بستیوں کی تعمیر کے مخالف تو ہیں لیکن وہ اس کے لئے ‘قبضے’ کا لفظ استعمال نہیں کرتے نہ ہی وہ امریکہ کے اس سرکاری بیانیے میں تبدیلی کیلئے تیار ہیں جس کے مطابق اسرائیلی نو آبادیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتیں ۔ دوسری طرف جسٹس ڈیموکریٹس فلسطینیوں کے حقوق اور ایران جوہری تنازعے کے پرامن حل کے لیے پر عزم نظر آرہے ہیں۔ امید ہے جو بائیڈن فلسطین کے معاملے میں ایک مبنی بر انصاف حکمت عملی رکھتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ جاتے جاتے جس طرح اپنی دانست میں مشرق وسطیٰ کے منظر نامہ کو اسرائیل کے مفادات کے لیے سازگار کرنے کی سازشیں کر گئے ہیں، کیا بائیڈن کی آمد بعد بھی وہی حالات برقرار رہ پائیں گے، اس کا سوال کا جواب اب بڑی حد تک واضح ہوچکا ہے۔کیونکہ بائیڈن نے آتے ہی وہ سارے اسلحہ کی فروخت کے معاہدات ختم کرچکے جو ٹرمپ کر گئے تھے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱