حقوق نسواں کے موقع پر

نظم

عورت حقیر شے ہے، کہتا یہ اک جہاں تھا
خاموش اس ستم پر، دھرتی تھی، آسماں تھا

منڈی میں عورتیں بھی بیچی خریدی جاتیں
تھی کچھ نہ قدر و قیمت، کوئی نہ قدرداں تھا

درگور کردی جاتی بیٹی جو پیدا ہوتی
اک بوجھ باپ پر تھی، وہ اس سے بد گماں تھا

ظلم و ستم میں پِستی، سب و شتم وہ سہتی
حیوان تھی وہ گویا، کوئی نہ مہرباں تھا

اسلام نے تو بخشی عزت بھی مرتبت بھی
سب مٹ گئی نحوست، محفوظ سب کی جاں ہ

قدموں میں ماں کے جنت، ازواج سے محبت
بیٹی بہن پہ شفقت، افزوں ہر اک کی شاں ہے

آیا نیا زمانہ، بدلی ستم کی شکلیں
فیشن کے نام پر بھی ظلم و ستم عیاں تھا

شوق جدیدیت میں شرم وحیا گنوائی
پہنچی پری سبھا میں، گھر بیٹھنا گراں تھا

نسوانیت کو تج کر کنبے سے منہ کو موڑا
اولاد کو بھی چھوڑا، اجڑا ہوا مکاں تھا

تشہیر حسن ہو یا عصمت کی ہو تجارت
تاجر کو تھا منافع، خاتون کا زیاں تھا

قرآں کا حکم جانیں، حکم نبی کومانیں
دونوں کی بات مانے، وہ شخص کامراں ہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱