عالمی یومِ خواتین اور دور جدید کے مسائل نسواں

دورِ قديم سے دنيا کے ہر خطے ميں عورت مظلوم رہي ہے اکثر مذاہب نے عورتوں کے متعلق پست خيالات کا اظہار کيا ہے جس کي بنا پر عورت کو انسانيت کے کندھے پرايک بار يا بوجھ سمجھا گيا تھا ۔ دور جديد ميں نشاۃ ثانيہ کے بعد جب زندگي کے ہر شعبے ميں انقلاب آيا تو عورت کي آزادي اور مساوات کا تصور ابھرا۔
بيسويں صدي کے اوائل ميں جب صنعتي ترقي کا ظہور ہوا اور اس کا پھيلاؤ بڑھا تو الگ الگ تہذيبوں کے ملاپ سے مختلف نظريات وجود ميں آنے لگے تب اہل يورپ کوعورت کي ازلي مظلوميت کي انتہائي حدوں پر موجودگي کا گہرائي سے احساس ہو تو انہوں نے اس کا مداوا کرنے کے لئے آزادئ نسواں کے حق ميں دلائل فراہم کئے۔
اس کے نتيجے ميں آزادئ نسواں کي بہت سي تحريکيں پروان چڑھيں۔ ٢٨ فروري ١٩٠٩ کا سوشلسٹ پارٹي آف امريکہ نے پہلا يومِ خواتين منايا۔1910 کو کوپن ہيگن. ميں سوشلسٹ ميٹنگ نے ايک عالمي يومِ خواتين کي بنياد ڈالي جس ميں انہوں نے خواتين کے حقوق اور ووٹ ڈالنے کي مانگ کي اس فيصلے کا خير مقدم، تقريباً 17 ممالک کي 100 خواتين نے بھرپور تائيد کے ساتھ کيا ۔جس کے نتيجے ميں فن لينڈ ميں 3 خواتين ممبر پارليمنٹ بنيں۔اسي طرح کي بہت ساري تحريکات وقتاً فوقتاً ابھرتي رہيں جس کے نتيجے ميں اقوام متحدہ نے 8 مارچ کو “عالمي يومِ خواتين” منانے کا اعلان کيا اور اس دن کو عالمي سطح پر مساوات مرد و زن اور امن و سلامتي کے حصول ميں ايک سنگ ميل قرار ديا۔
ان تحريکات سے جو نظريات حاصل ہوئے اور جن پر نئے مغربي معاشرے کي بناء رکھي گئي اور دور حاضر ميں بھي اس پر عمل آوري ہو رہي ہے وہ يہ ہيں۔
• عورتوں اور مردوں کي مساوات
• عورتوں کا معاشي استقلال
• دونوں صنفوں کا آزادانہ اختلاط
عورت کو ان چيزوں کي وجہ سے سماجي زندگي ميں تھوڑا بہت فائدہ ہوا ليکن ہم ذرا ٹھہر کر غور کرتے ہيں تو ہميں چند باتيں اظہر من الشمس نظر آتي ہيں۔
مساوات کے معني يہ سمجھ لئے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقي مرتبہ اور انساني حقوق ميں مساوي ہيں،بلکہ تمدني زندگي ميں بھي عورت وہي کام کرے جو مرد کرتے ہيں۔ اسي طرح اس کے ليے بھي ہوں۔مساوات حاصل کرنے کي جدوجہد نے عورت کو اس کے فطري مسائل سے غافل کر ديا ہے۔ اب وہ انتخابات کي جدوجہد، دفتروں و کارخانوں کي ملازمت تجارتي و صنعتي پيشوں ميں مردوں کے ساتھ مقابلہ کرنے، کھيلوں، سوسائٹي اور کلب کے پروگراموں ميں اسٹيج، رقص و سرور کي محفلوں کي مصروفيات ميں اس طرح الجھ گئي کہ اس کو ازدواجي زندگي کي ذمہ دارياں، بچوں کي تربيت، خاندان کي خدمت، گھر کي تنظيم کا کچھ ہوش نہيں رہا۔
معاشي استقلال نے عورت کو مرد سے بے نياز کر ديا قديم اصول تھا کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام سنبھالے، اب وہ بدل گيا دونوں کمائيں اور گھر کا نظم بازار کے حوالے کر ديا جائے۔ جو عورت اپني روٹي آپ کماتي ہو، اپني ضروريات کي خود کفيل ہو، اپني زندگي ميں دوسرے کي حفاظت واعانت کي محتاج نہ ہو، وہ کيوں کسي کي پابند رہے گي؟
اس کے نتيجے ميں يہ ہوا کہ خواتين تجرد پسند بن گئيں ۔جن کي زندگياں آزاد شہوت راني ميں بسر ہونے لگيں ۔مناکحت کے رشتے ميں بھي پائيداري نہيں رہي زوجين ايک دوسرے سے بالکل بے نياز ہوگئے، خواتين آپسي تعلقات ميں کسي مراعاتِ باہمي اور مدارات compromise کے لئے تيار نہيں ہيں۔نتيجتاً اس کا اتمام طلاق يا تفريق پر ہوتا ہے۔
مانعِ حمل، قتلِ اولاد، شرحِ پيدائش کي کمي اور ناجائز اولاد کي بڑھتي ہوئي تعداد اسي معاشي استقلال کي رہينِ منت ہے۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط نے عورتوں ميں حسن کي نمائش، عرياني اور فواحش کو غير معمولي ترقي کي طرف گامزن کرديا۔ صنفي ميلان جو پہلے ہي فطري طور پر موجود رہتا ہے اس آزادانہ ميل جول سے اور بڑھ گيا۔مردوں کے لئے مقناطيس، اور جاذب نظر بننے کي خواہش نے عورت کواتنا آگے بڑھا ديا کہ شوخ و سنگ لباسوں نئے نئے فيشن، ميک اپ کي نت نئي اشياء سے اس کي تسکين نہيں ہوئي تو کپڑے بھي چھوٹے کردئے اور اس کو آرٹ کا نام دے ديا گيا اور يہ چيزيں گھن بن کر نوجوان نسل کي ذہني و جسماني قوتوں کو کھا رہي ہيں۔ اس کے نتيجے ميں انسان کو وہ امن و سکون اور سکون ميسر نہيں ہے جو تعميري و تخليقي کاموں کے لئے درکار ہے۔ يہي نہيں ايسے ہيجانات کے درميان خصوصاً نوجوان نسل کو وہ ٹھنڈي و پر سکون فضا ميسر ہي کہاں ہے جو ان کي ذہني و اخلاقي قوتوں کي نشوو نما کے ليے ضروري ہے۔
بدکاري، بے حيائي اور امراض خبيثہ کي بڑھوتري ميں بھي اسي آزادانہ اختلاط کا بڑا دخل ہے۔
آزادئ نسواں کا نعرہ لگا کر اور مردوں کے مقابلے ميں آگے جانے کي سوچ لے کر عورت نے خود کو ايک دوراہے پر کھڑا کر ليا ہے۔اس نے اپنے ہمہ جہت کردار سے غفلت برتني شروع کر دي ہے۔ ماں بہن بيٹي کي حيثيت سے اس کے رول ميں کوتاہي نظر آتي ہے گھر اور خانداني نظام بکھر رہا ہے۔ آزادي کے نام پر الوہي تعليمات سے دوري اور خدا بيزار تہذيب پروان چڑھ رہي ہےاور آزادانہ زندگي کو ترجيح دي جا رہي ہے۔
يومِ خواتين کے موقع پر دنيا بھر ميں women Empowerment کے نام پر مختلف نظريات پيش کئے جاتے ہيں جو افراط و تفريط کا شکار ہوتے ہيں۔اس موقع پر اسلام کے تصور امپاورمنٹ اور سماجي فعاليت کے نقطہ نظر کو درست انداز ميں پيش کرنے کي ضرورت ہے۔ مذہب نے عورت کو اس کے حقيقي نسواني رول کے لئے قوت بخشي ہے اور اس کے لئے وہ مواقع، قوتيں اور سہوليات عطاء کي ہيں جواس رول کي ادائيگي کے لئے ضروري ہے ۔اس کوان ذمہ داريوں سے محفوظ رکھا ہے جو اس کے لئے دوہرے بوجھ کا باعث اور اس کي نسواني ذمہ داري سے ٹکراتي ہو۔دين ميں تصوّرِبيداري مغرب کے تصوّر بيداري سے مختلف بھي ہے اور مکمل بھي ہے۔اسلام عورت سے اس کي نسوانيت نہيں چھينتا ہے جب کہ مغرب اس ميں فعاليت اور قوت تو پيدا کرتا ہے ليکن اس کي نسوانيت چھين کر اس کا نقصان ہي نہيں کرتا ہے بلکہ بچوں کي تربيت، خاندان کي ذمہ داري جيسے رول سے آزاد کرنے کي کوشش کرتا ہے جو کسي صحت مند سماج کي تعمير کے ليے نقصان دہ ہے۔لہٰذا اس بات کا خصوصي خيال رکھا جائے کہ آزادي اور فعاليت کے نام پر ہر نئي چيز قابل قبول نہ ہو بلکہ صحيح تصور پيش کيا جائے۔عام نسواني تحريکات کے مقابلے ميں ہميں کچھ خاص باتوں کا خيال رکھنا چاہئے.
يومِ خواتين کے موقع پر عام نسواني تحريکات مردوں اور عورتوں کے درميان کشمکش کي بات کرتي ہيں اور تمام قوت مردوں کي مخالفت ميں صرف کرتي ہيں۔ يہ مناسب رويہ نہيں ہے بلکہ اس موقع پر مردوں کو ذليل کرنے کے بجائے عورت کي عظمت کو بحال کرنے کي کوشش ہوني چاہيے۔
“کچھ اہم کام جو کيے جانے چاہيے”
اس موقع سے خواتين ميں جو فعاليت پيدا ہوگي اس کے ذريعے کچھ اہم محاذ پر فوري و طويل مدتي کام کيے جانے چاہيے۔ جيسے
• ملک کي خواتين کي صورتحال کا صحيح تجزيہ کرنا اور اس کو حل کرنے کے لئے تدابير پر مناسب لائحہ عمل پيش کرنا اور اس کو عملي جامہ پہنانے کے لئے جدوجہد کرنا۔
• طالبات ان مسائل پر تحقيقي کام کريں اور ملکي سطح پر بحثيں ہوں۔
• قانوني اور انتظامي سطح پر بھي مسائل کے حل کے لئے کوششيں ہوں۔
• خواتين اور ان کے مسائل سے متعلق عوامي سطح پر بيداري کا کام کيا جائے۔
• کسي بھي مسئلہ کو صرف ايک فرقہ کا مسئلہ نہ جان کر پوري انسانيت کي بھلائي کا کام جانا جائے۔
• اسلام نے عورت کو جو مقام عطاء کيا ہے اور زندگي گزارنے کا جو درست طريقہ بتايا ہے اس سے تمام انسانوں کو واقف کرايا جائے۔
عام نسواني تحريکات کے مقابلے ميں ہميں کچھ خاص باتوں کا خيال رکھنا چاہئے.
يومِ خواتين کے موقع پر عام نسواني تحريکات مردوں اور عورتوں کے درميان کشمکش کي بات کرتي ہيں اور تمام قوت مردوں کي مخالفت ميں صرف کرتي ہيں۔ يہ مناسب رويہ نہيں ہے بلکہ اس موقع پر مردوں کو ذليل کرنے کے بجائے عورت کي عظمت کو بحال کرنے کي کوشش ہوني چاہيے

آزادئ نسواں کا نعرہ لگا کر اور مردوں کے مقابلے میں آگے جانے کی سوچ لے کر عورت نے خود کو ایک دوراہے پر کھڑا کر لیا ہے۔اس نے اپنے ہمہ جہت کردار سے غفلت برتنی شروع کر دی ہے۔ ماں بہن بیٹی کی حیثیت سے اس کے رول میں کوتاہی نظر آتی ہے گھر اور خاندانی نظام بکھر رہا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱