قوتِ گویائی عطیۂ خداوندی ہے
قوتِ گویائی عطیۂ خداوندی ہے جو الله تعالی نے محض اشرف المخلوقات کو ہی عطا فرمائی ہے ۔اگر گفتگو کرنا ایک فن ہے تو آئیے آج آپ کو کچھ فنکاروں سے ملواتے ہیں۔ ان کے طرز گفتگو سے حظ اٹھائیں اور دیکھیں کہ یہ اپنے فن کا کس کس طرح مظاہرہ کرتے ہیں۔
سب سے پہلے آپ کو اپنے پڑوس والے چچا جان سے ملواتے ہیں۔
وہ ایک غیر معروف، غیر مقبول شاعر ہیں۔۔ یا یوں سمجھیں کہ وہ بزعمِ خود شاعر ہیں۔ ہر بات شعر کی صورت کہنا چاہتے ہیں۔۔ لیکن گھر والے جانتے ہیں (اور شاید باہر والے بھی) کہ چچا جان کو شاعری کے “شین” کا بھی نہیں پتہ۔۔۔ لیکن ان کی ساری بات چیت اشعار کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔۔۔چونکہ پڑوسی ہیں تو آنا جانا لگا رہتا ہے ایک دن ہم ان کے گھر گئے تو آنگن میں ہی ان سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ ہم سلام کرتے، انہوں نے نظم شروع کر دی۔
سلمیٰ سنو تم میری بات
“کڑوی کسیلی میٹھی” بات
تم ہو ایک اچھی لڑکی
کرتی ہو کیوں کام برا
جانتی تو ہوگی ہی نا
برے کام کا انجام برا
بحر و قافیے سے آزاد اور بے سروپا شاعری پر توجہ دیے بغیر ہم صدمے سے گویا ہوئے۔
“ ایسا ہم نے کیا کر ڈالا ہے چچا جان۔؟”
تم نے کہا “فرزانے” کو
لکھ کر کچھ دے جانے کو
لیکن پھر تم لکھ نہ سکیں
وعدہ ایفا کر نہ سکیں
“اوہ،۔” ہمیں یاد آیا کہ ان کی بیٹی فرزانہ کو کوئی تقریر چاہیے تھی وہ اسی کا ذکر کر رہے تھے۔
“ تمہارے چچا کی گھٹیا شاعری سن کر تو میرے کانوں تک نے اپنے ننھے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔ سنا ہے اب تو محلے کی عورتوں سے بھی شاعری کی زبان بولی جارہی ہے۔”
“او بندیٔ خدا ! اسے صرف بل بنا کر دیا تھا۔ مجھے کیا علم تھا کہ وہ اتنی بد ذوق ثابت ہوگی کہ۔۔۔۔۔۔۔”
چچا جان نے اپنا دفاع کرنا چاہا لیکن چچی جان ان کی شاعری کی طرح اس بات کو بھی ان سنا کر کے آٹا گوندھتے ہوئے چچا جان کا کارنامہ ہمارے گوش گزار کرنے لگیں ۔ ان کے مطابق ایک عورت چچا کی شکایت لے کر چچی کے پاس پہنچ گئی تھی کیونکہ چچا جان نے اس کو مندرجہ ذیل شاعرانہ بل بنا کر دیا تھا۔
محترم سعدیہ
اپ کا شکریہ
آپ نے ڈیری سے
دو کلو دہی لیا
دو کلو دہی کا کُل
سو روپے بل بنا
چچی جان سارا غصہ گندھے ہوئے آٹے پر اسے مکے مار مار کر نکال رہی تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ چچا جان کی شاعری سن کر اچھا بھلا انسان کوما میں جا سکتا ہے وہ تو چچی جان کا ہی جگر تھا جو اتنے سالوں سے اپنے گوشوں پر گرانی برداشت کر رہی تھیں۔۔
ہماری ایک دوست ناولز کی دلدادہ ہے اور ناولوں کے کثرت مطالعہ کی وجہ سے اس کی زبان و بیان میں بھی وہی انداز اغلب ہے ۔ ایک منٹ کی بات سنانے کے لیے اس کو کم ازکم 25 منٹ درکار ہوتے ہیں۔۔
مثلاً اگر اسے یہ کہنا ہو کہ دیکھو یہ ڈریس میں نے دو ہزار کا لیا ہے تو وہ اسے اس طرح بیان کرے گی۔
“دکان کا دروازہ پش کر کے ہم اندر داخل ہوئے تو A.C کی سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔۔۔ ہمیں دیکھتے ہی دکاندار لپک کر آیا۔ ہر طرح کے شیڈز اور زرق برق لباس دیکھ کر میری تو آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔۔ امی کو ایک ڈریس پسند آیا تھا اس کے گلے پر موتیوں کا کام تھا اور دامن پر خوبصورت سی لیس لگی تھی۔ ہم نے دام پوچھے تو اس نے تین ہزار بتائے، حالانکہ وہ اتنا مہنگا لگ نہیں رہا تھا۔۔ہمارے بازو کچھ اور خواتین بھی خریداری کر رہی تھیں۔۔ غالباً ان کے گھر شادی تھی اور دلہن ساتھ میں تھی کیونکہ بار بار ایک لڑکی کی پسند اس سے پوچھی جارہی تھی اور وہ بھی سو سو نخرے دکھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”
( کیا ؟؟ آپ صرف اتنی ہی گفتگو سن کر کوفت کا شکار ہونے لگے ؟! رکئے رکئے جناب! ابھی صبر کے امتحاں اور ہیں۔۔۔ ہم بھی آپ کی طرح اتنی تفصیلات سن کر کوفت سے کوفتہ بننے لگے گئے تھے ۔۔۔اور ستم تو یہ تھا کہ اب تک اس ڈریس کا نمبر ہی نہیں آیا تھا جو وہ خرید کر لا چکی تھی اور ہم اسے دیکھ بھی چکے تھے ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا )
خیر! اس دن اس سے ملاقات ہوئی تو ہم نے ایسے ہی بات برائے بات پوچھ لیا۔
“ تمہاری کزن کی شادی طے ہوگئی نا! کب رکھی ہے تاریخ؟؟”
“ہاں،میں کل خالہ کے بنگلے پر گئی تھی تب وہ سرسبز لان میں بیٹھی شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔مجھے دیکھتے ہی کھل اٹھیں۔ بہت محبت سے اپنے قریب بٹھایا اور۔۔۔”
وہ شروع ہو چکی تھی۔ ہم کراہ کر رہ گئے۔
“وہ ؛ شادی کی تاریخ۔۔۔۔؟؟”ہم نے اسے جلد از جلد مدعا پر لانا چاہا۔۔
“ بتا رہی ہوں بھئی۔۔۔ تو میں نے خالہ کو سلام کیا اور پوچھا آپ نے ببلی کی شادی کی کیا ڈیٹ رکھی ہے۔؟ بیٹی کی شادی کے ذکر پر ایک خوبصورت رنگ خالہ کے چہرے پر بکھرا انہوں نے میرے لئے چائے بنائی، پیالی میں انڈیلی اور کپ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔”
“اکتیس فروری۔۔۔” ہم ضبط کا گھونٹ بھر کر بول پڑے جس پر اس کا منہ بن گیا..
“ فالتو جوک مت مارو۔ ہاں تو پھر خالہ نے کہا۔۔۔۔۔”
“اوہ یاد آیا 15جولائی نا۔!!!!؟”
ہمارے پاس اس کا ‘ناول’ سننے کا وقت بالکل نہیں تھا اس لئے ایک فرضی تاریخ گھڑ دی۔
“ 26 ستمبر۔”اس نے دانت کچکچائے۔
“ اچھا اچھا،ٹھیک ہے ہم ضرور آئیں گے۔ “ ہم گفتگو سمیٹ کر وہاں سے کھسک گئے۔۔۔وہ تو خیر ہوئی کہ اس کی خالہ اسے کسی شادی کے فنکشن میں نہیں ملیں ورنہ وہاں سرو کی گئی ہر ڈش مع اس کے ذائقہ اور پارٹی میں موجود خواتین کے لباس سے لے کر ان کے میک اپ کے شیڈز تک کی تفصیل سننی پڑ جاتی۔۔۔۔
***
ایک اور انوکھی قسم کے کردار ہوتے ہیں، جو ہر گلی کوچے میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے محلے میں بھی ہیں۔ان کی لن ترانیاں سن کر سمجھ نہیں آتا کہ ان کو انگریزی بولنے کا شوق ہے یا دو ہم معنی الفاظ استعمال کرنے کا یا انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کا ؟ کہ مخاطب اگر انگریزی نہ جانتا ہو تو ساتھ ہی معنی بھی سمجھ لے۔ ان فنکاروں کی شخصیت کو ایک پیراگراف میں ایسے سمجھایا جا سکتا ہے۔
“یہ لوگ بہت معصوم و بھولے بھالے ہوتے ہیں۔ “آب زم زم کا پانی” پیتے ہیں۔۔۔۔ ہر کام “پورا کمپلیٹ” کرتے ہیں۔۔۔۔ “بے فضول” بات نہیں کرتے ۔۔۔ “زیرہ رائس چاول” کھاتے ہیں۔۔۔۔ “بائیں ہاتھ سے لیفٹ” لے لیتے ہیں۔۔ “صبح مارننگ” میں اٹھ جاتے ہیں اور “رات کا ڈنر” کر کے سو جاتے ہیں۔۔۔
***
بشریٰ، ہماری ہم نوالہ ہم پیالہ دوست ہے۔۔۔۔اس کی دادی کا بھی اندازِ تکلم آپ کو ضرور ملاحظہ کرنا چاہیے۔ معلوم نہیں دادی کبھی اسکول گئی تھیں یا نہیں لیکن اگر گئی ہوں گی تو اردو گرامر انہوں نے کبھی نہیں پڑھی ہوگی۔۔اور اگر انہیں پڑھائی گئ ہوگی تو اردو کے پرچے میں وہ لازماً فیل ہوتی ہوں گی۔ حال ہی میں وہ ایک خاتون سے کچھ اس طرح خطاب کر رہی تھیں۔
“سمجھ نہیں آ رہی تمہیں کیا؟ اب سن لو تم میری بات کھول کے کان ۔۔جانا کل تم، رک جاؤ آج۔۔۔ اور سنو، ثریا کا کیا میں تم کو حال بتاؤں۔۔! کل ملی تھی مجھے وہ ، جا رہی تھی مارکیٹ اپنی پوتی کے ساتھ۔۔۔ پھر بولا میں نے اس کو کہ کیوں نہیں وہ آئی اتنے دنوں سے۔۔تو لگی کہنے کہ ۔۔۔۔۔۔۔”
اب ثریا نامی خاتون نے بازار میں دادی سے کیا کہا تھا وہ ان کی زبانی سننے کا ہم میں یارا نہیں تھا۔۔۔اس لیے کان لپیٹ کر ہم اپنی سہیلی کے کمرے میں گھس گئے۔۔۔ الله الله خیر صلٌا۔
چلتے چلتے ہماری کزن سے بھی مل لیجئے۔۔ ماموں زاد بہن ہے۔
عمر میں بہت چھوٹی لیکن ایک دم پٹاخہ؛ بات ایسے کرتی ہے جیسے کاٹ کھائے گی لٹھ مار انداز ، پتھر مار لہجہ ہر بات کا الٹا جواب۔۔ ایک دفعہ ہم نانی سے ملنے گئے تو ممانی جان نے بصد اصرار کھانے پر روک لیا۔
“پلاؤ تم نے بنایا ہے۔۔؟”
ہم نے توصیفی انداز میں استفسار کیا۔
“جی نہیں خودبخود پک گیا ہے۔” جواب ملا۔
شام کو اس نے اپنے بڑے بھائی سے مہندی منگوائی۔باہر نکلتے اس بے چارے، شامت کے مارے نہال نے اس سے پوچھ لیا ہاتھوں پر لگاؤ گی؟”
“ نہیں مہندی گھولوں گی اور ڈسٹ بن میں پھینک آؤنگی۔”
مذکورہ واقعے کے ہم عینی شاہد ہیں اور اس بات کے معترف بھی کہ اس لڑکی کے پاس کسی کا بھی دماغ گھمانے کا پورا ہنر ہے۔ ٹھنڈے سے ٹھنڈے مزاج والے آدمی کو بھی وہ پل بھر میں مشتعل کر سکتی ہے۔
“دیکھا اپی آپ نے اس بد لحاظ کو؟ ہم نے تو اس لئے پوچھ لیا تھا کیونکہ یہ بالوں میں بھی لگاتی ہے۔وگرنہ مہندی کی کون لانے کے جرم میں ہم پر ہی ناراض ہوتی۔۔ لیکن کسی بات کا انسانوں جیسا جواب یہ دے ہی نہیں سکتی۔”
“سلمیٰ اپی کو کیا کہہ رہے ہو۔ تم ہی نے تو کہا تھا کہ یہ میرے اندازِگفتگو کی بڑی تعریف کرتی ہیں۔اف۔۔، بتائیں نا اپی، آپ نے کیا کہا تھا۔۔۔۔ میری تعریف میں آپ نے غالبًا کوئی شعر بھی سنایا تھا نہال کو۔۔ کون سا شعر تھا وہ ?
“جی جی سنا ہی دیں۔” نہال نے بھی ہمیں اکسایا تو ہم نے بھی کندھے اچکاتے ہوئے یہ شعر پڑھ دیا ۔
گفتگو ان کی ہے ،معاذ الله
منہ میں آرا مشین رکھتے ہیں
قبل اس کے کہ وہ شعر سمجھتی اور اس کے منہ سے توپ کا گولا نکلتا ہم اور نہال وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔

1 Comment

  1. M J Gaur

    Masha’Allah
    Bahut Umdah h..Kya yeh Haqiqi Manzar Nama h Salma Nasreen.. Ya Takhayyul Aapne Itna
    .. Buland Bandha h

    Drx.Maulana Hafiz Mujeeb Ur Rehman Gaur Urf M J Gaur
    Dehli & Muzaffarnagar Delhi NCR

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱