کورونا کے قہر کے بعد ابھرتے نئے امکانات اور اس کے پسِ پردہ حقیقت
کورونا، کسان، کیل اور کانٹے، پھر پارلیمنٹ میں بجٹ کے تماشے ٹرمپ کی وداعی سے لیکر بائیڈن کی آمد ، ہر بار کیوں مشرق وسطیٰ ہی تختہ ستم
گزشتہ سال سے اب تک، کورونا وبائی مرض کی وجہ سے آئی معاشی بد حالی کے تباہ کن اثرات اور دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ افراد فوت ہونے کے بعد جہاں سال 2021 کا استقبال نئے امکانات اور نئی امیدوں کے درمیان کیا گیا۔ وہیں امریکی اقتدار کے بدلتے مرکز اور کورونا وائرس کی ویکسین کے ایجاد نے عوام الناس کے دلوں میں کچھ امید کی شمع روشن کیں۔لیکن عالمی سطح پر کئی ممالک اور خود ہندوستان میں کورونا کے بڑھتے واقعات، برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں لاک ڈاؤن کی نئی تحدیدات اور سفری تحدیدات کا بھی پھر سے احیاء پھر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے کورونا وائرس کے گزشتہ سال سے زیادہ خطرناک رخ اختیار کر جانے کے امکانات کا انتباہ اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی بد حالی کی وہی پریشان کن صورتحال، جو گزشتہ سال کی طرح کچھ حد تک اب بھی برقرار ہے اور اس کے مزید بڑھ جانے کی تشویش پھر روز افزوں بڑھتی پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں کی وجہ سے عوام کے اندر کی بے چینی اب بھی برقرار ہے ۔ وطنِ عزیز میں سال کے ابتدائی حالاتِ حاضرہ پر گزشتہ سال نومبر کے آواخر سے شروع ہوئے متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی کے مطالبات کو لے کر شروع ہوئے کسانوں کے احتجاج کے اثرات ہنوز باقی ہیں ۔حکومت کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کی ناکامی کے بعد کسان اب بھی اپنے احتجاجی موقف پر قائم ہیں اور ایسا لگتا ہے حکومت اب ان کسانوں کو مکمّل نظر انداز کرچکی ہے۔دلی کی کڑاکے کی سردیاں ، اور کئی زمینی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے بھی کسان اپنے مطالبات میں ثابت قدم ہیں ۔ جنوری 2021 کی ابتداء میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر 230 کروڑ کے چندہ کی وصولیابی کا دھندا کچھ عرصہ کے لیے عروج پر رہا ۔ لیکن کسانوں کا احتجاج ہر کسی کے لیے مرکز توجہ بنا رہا ۔26 جنوری کو لال قلعہ پر کسانوں کی احتجاجی پرچم لہرائے جانے کے بعد ہوئے پر تشدد واقعات کے بعد ایسا لگنے لگا تھا شاید اب اس احتجاج کو سبوتاژ کردیا جائے گا لیکن کسانوں نے دوسرے ہی دن اپنے عزائم کو از سرِ نو ترتیب دے کر احتجاج پھر سے منظم کرلیا ۔ پارلیمنٹ میں بجٹ سیشن کے دوران راجدھانی دہلی کی سرحدوں پرکسانوں کا ہجوم بڑھتاہی چلا جارہا تھا ۔ کسان ہنوز متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی پراڑے ہوئے ہیں جبکہ حکومت ان قوانین کوہرصورت میں نافذکرنے پربضد ہے ۔حکومت کسانوں کے مطالبات پر کان دھرنے کی بجائے ان کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے، جو اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ احتجاج کو کچلنے کی جو راہ اختیار کی گئی ہے، اس نے حالات کو مزید سنگین بنادیا۔ کسانوں کا ہجوم پہلے ہریانہ سرحد تک محدود تھا ، لیکن یوم جمہوریہ کےپرتشدد واقعات کے بعد اس کا دائرہ اترپردیش کی سرحد تک بڑھ گیا تھا اور احتجاج نے زیادہ وسیع شکل اختیار کرلی تھی۔پولیس نے کسانوں کی دہلی آمد کو روکنے کے لیے سنگھو بارڈر پر دس لیول کی حفاظتی رکاوٹیں (بیریکیڈنگ) کرتے ہوئے مظاہرے کی جگہ کو نوکیلے تاروں سے گھیر دیا ۔ اس کے ساتھ ہی سڑکوں پربڑے بڑے ڈیوائیڈر رکھ کر راستوں کو بند کردیا تھا ۔ کسانوں کے احتجاج کی جگہ سے میڈیا کو بھی دور رکھنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے میڈیا کو اسٹیج سے ایک کلومیٹر دور سے گھوم کرآنے کا راستہ دیا گیا ۔ سنگھو بارڈر کے آس پاس کی سبھی سڑکیں بند کردی گئیں ۔جس سے کسانوں کے علاوہ مقامی باشندوں کو ابھی تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کسانوں کو دلی آنے سے روکنے کے لیے سنگھو، غازی پور اور ٹیکری بارڈر کے آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بندکرتے ہوئے پولیس نے سڑکوں پر روڈ ڈیوائیڈر کے درمیان کنکریٹ ڈال کرراستوں کو جام کردیا ۔ ساتھ ہی روڈ پر کیلیں لگادی گئی ہیں تاکہ کسان دلی کی طرف نہ آسکیں۔ جبکہ انٹرنیٹ بند کرنے کے حکومت کے اس اقدام پر دنیا بھر سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہ تھیں وہ تمام پیش بندیاں جو حکومت وقت نے اپنے ہی شہریوں کے احتجاج کو روکنے کے لیے کرتی رہی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی حکومت نے اپنے ہی شہریوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے صوبائی سرحدوں پر ایسی رکاوٹیں کھڑی کی ہوں جو ملک کی سرحد پر دشمن کو روکنے کے لیے کھڑی کی جاتی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ سنگھو بارڈر پر حکومت نے ایسے مہلک نوکیلے تار اور آہنی انتظامات کیے ہیں کہ جو کوئی ان کی زد میں آئے گا اس کا گوشت جسم سے جدا ہوجائے گا۔کسانوں کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے حکومت نے وہ تمام اوچھے حربے اختیار کیے ہیں جو خوفزدہ حکم راں اختیار کرتے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب ملک میں اپنے بنیادی جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والوں کو ملک دشمنوں کے زمرے میں رکھا جارہا ہے اور احتجاج کرنا سب سے بڑا جرم قرار دیا جارہا ہے۔حال ہی میں بہار سرکار نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ جو کوئی کسی قسم کے احتجاج میں شریک ہو گا ، اسے پاسپورٹ ، اورسرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ یعنی پاسپورٹ کے لیے پولیس انکوائری کے دوران یا سرکاری نوکری کے لیے خفیہ تفتیشی رپورٹ کی تیاری کے دوران اگریہ انکشاف ہوا کہ متعلقہ شخص کسی احتجاج یا دھرنے میں شریک ہوا ہے تو اسے ’ مجرمانہ سرگرمی ‘ میں شمار کرکے اس کی رپورٹ منفی لگادی جائے گی۔ جبکہ پاسپورٹ ایکٹ مجریہ 1967 میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ان لوگوں کو بھی ملک دشمنوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوسوشل میڈیا پرقابل اعتراض تبصرے کریں گے۔ایسے لوگوں کو پاسپورٹ، سرکاری ملازمت اور بینک لون لینے کے لیے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ کسانوں کی اس تحریک سے حکومت اس قدر پریشان کیوں ہے؟ کسانوں کی جانب سے اتنی شدید مخالفت کے باوجود بھی حکومت ان زرعی قوانین کے معاملے میں کیوں اس قدر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے؟ کیا اس کی وجہ محض حکومت کا گھمنڈ ہے یا وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے بین الاقوامی مہاجنوں کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہے؟ واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے جب کسی ملک کو مالی امداد کے نام سے قرض دیتے ہیں تو اس ملک میں اصلاحات کے نام پر ایسی پالیسیوں کو نافذ کرواتے ہیں جو عالمی سرمایہ داروں کے لیے نفع بخش ثابت ہوں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے کسان اصلاحات کے نام پر بنائے جانے والے ان زرعی قوانین کی اصلیت سے واقف ہو گئے ہیں کہ یہ دراصل یہ قوانین عالمی و ملکی سرمایہ دارں کو منافع پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں اور ان کے عملاً نفاذ کے بعد وہ ان سرمایہ داروں کے ہاتھوں اپنی زمین اور کھیتی سے محروم ہو جائیں گے۔ شاید اسی لیے وہ ان قوانین کی منسوخی سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہو رہے ہیں۔ گذشتہ سال سے کورونا وائرس کے وبائی مرض کے بعد سے بد ترین معاشی بد حالی کے سامنا کرنے والی عوام، جو زراعت، انفراسٹرکچر، بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کے لیے اس سال فروری کے اوائل میں پیش کیے گئے بجٹ سے کافی پرامید تھی اور پھر حکومت کی جانب سے بھی یہ باور کیا جانے لگا تھا کہ اس سال کے بجٹ کے سوٹ کیس میں ایک ایسی جادو کی چھڑی ہے جس کو گھماتے ہی پل بھر میں ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ لیکن اس کے برعکس وقت کے فرعون کے دربار کے سارے دعویٰ جھوٹے نکل آئے۔ مبصرین کے مطابق یہ بجٹ امیروں کے مفادات پر مبنی ہے۔ کیونکہ پٹرول، ڈیزل اور الکوحل پر اضافی ٹیکس عائد کیا گیا پھر دو بنکوں کی فروخت، ائیر پورٹ اور قومی شاہراہوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کردیا جانا، متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں کوئی راحت نہیں، تعلیمی بجٹ میں 6 فیصد کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ متوقع ریاستی انتخابات والی ریاستوں کے قومی شاہراہوں کے پراجیکٹس کا اعلان، پی ایف( provident fund ) کی حد میں کمی کا اعلان، انشورنس کمپنی کی نجی کمپنیوں کو فروخت، بی پی سی ایل ( بھارت پٹرو کیمیکلز لمیٹڈ) کی فروخت کے ساتھ ساتھ شپنگ کارپوریشن کی بھی فروخت اور اس کے علاوہ انشورنس سیکٹر میں مزید ایف ڈی آئی کی گنجائش جس کی بی جے پی حکومت نے پہلے مخالفت کی تھی ۔ یہ بجٹ کے وہ تمام کلیدی نکات تھے جس پر ملک کی ترقی کی راہ ہموار کرنے کے خواب دکھائے جارہے تھے۔ پارلیمنٹ میں بحث سیشن کا اختتام بھی وزیر اعظم کے آنسوؤں سے لے کر غلام نبی آزاد کی راجیہ سبھا سے رخصتی کے درمیان راہل گاندھی کے” ہم دو اور ہمارے دو کی حکومت “ کے الزامات اور جوابی الزامات کے ساتھ ہوا۔ اس سیشن کے اختتام کے ساتھ ہی اپریل اور مئی میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے ریاستی انتخابات کے لیے بی جے پی کی انتخابی مہم کا دوبارہ آغاز ہوگیا ۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال میں ملی بڑی جیت کے بعد بی جے پی کے تمام اہداف اب ممتا بنرجی کو ہرا کر اقتدار حاصل کرنے کی طرف منتقل ہوگئے ہیں ۔ اسی ضمن میں اب وزیر داخلہ امیت شاہ زیادہ تر مغربی بنگال میں مقیم نظر آتے ہیں ۔ جہاں انہوں نے ایک ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ویکسین لگائے جانے کا عمل مکمّل ہونے کے بعد ملک بھر میں سی اے اے کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا ۔ اس دوران حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ جولائی کے مہینے تک شہریت ترمیمی قانون کے اصول و ضوابط مرتب کرلیے جائیں گے ۔ اس کے بعد اس پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ ایسا لگتا ہے” سب کا ساتھ سب کا وکاس“ جیسے کھوکھلے نعروں سے اب مزید منفعت نہیں ملنے والی ہے اور نئی منفعت کے نئے میدانوں میں سی اے اے جیسی فصل اگا کر طویل مدت مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ چاہیے اس کے لیے دوسروں کی فصلیں ہمیشہ کے لیے نابود ہوتی رہے۔
حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ جولائی کے مہینے تک شہریت ترمیمی قانون کے اصول و ضوابط مرتب کرلیے جائیں گے ۔ اس کے بعد اس پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ ایسا لگتا ہے “ سب کا ساتھ سب کا وکاس ”جیسے کھوکھلے نعروں سے اب مزید منفعت نہیں ملنے والی ہے اور نئی منفعت کے نئےمیدانوں میں سی اے اے جیسی فصل اگا کر طویل مدت مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ چاہیے اس کے لیے دوسروں کی فصلیں ہمیشہ کے لیے نابود ہوتی رہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱