ھادیہ ای۔ میگزین صحافت کی دنیا میں ایک اور سنہری کرن
زمرہ : پیغام

السلام علیکم ایڈیٹر صاحبہ!
کہا گیا ہے کہ جو ہاتھ جھولا جھلاتے ہیں وہ ہاتھ حکومت کی باگ ڈور بھی سنبھال سکتے ہیں ۔ مذہب اسلام میں عورت کو معاشی معاشرتی سماجی حقوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے سیکھنے سکھانے، پڑھنے پڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت بھی بتائی بھی گئی ہے ۔ عورت تجارت بھی کرسکتی ہے۔ حضرت خدیجتہ الکبریٰ نے اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے تمام وسیع کاروبار اور تجارت کو نہایت احسن طریقے سے جاری رکھا تھا ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے وقت کے بڑے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ہر قسم کے مسائل پوچھتے تھے ۔ حضرت عروہ بن زبیر کا قول ہے،’’میں نے قرآن و حدیث، فقہ تاریخ اور علم الانساب میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا” ۔یعنی مذہب اسلام میں عورت کو بہت اونچا مقام بھی عطاء فرمایا اور اپنی حدود میں رہ کر معاشرے کی فلاح و بہبودی کے لیے نسل نو کی اچھی تعلیم و تربیت کے بہتر مواقع عطاء فرمائے ہیں ۔ان میں رسائل و جرائد کی نشر و اشاعت بھی اہم ذمہ داری ہے ۔ اسی ذمہ داری کو آج بہت سی خواتین بخیر و خوبی انجام دے رہی ہیں ۔ موجودہ دور ترقی یافتہ دور ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی کا دور ہے ۔ اسکول کالجز میں آن لائن کلاسس کا آغاز ہوچکا ہے ۔یہ انقلاب اشاعتی گھرانوں میں بھی آچکا ہے ۔اس ضمن میں’’ ھادیہ ” ایک خوشگوار اضافہ ہے ۔یہ دور ایک طرح سے مکمل Digitalisation کا ہے۔کئی کتب خانوں میں کتابیں مکمل ڈیجیٹلائز کی گئی ہیں ۔ کلامِ پاک، احادیث کی کتابیں، اہرامٍ مصر کو تک ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے ۔ ضرورت ہے وقت کے ساتھ ترقی کی صحیح سمت پر چلتے رہیں ۔ امید ہے ھادیہ ای میگزین خواتین کو صحیح سمت متعین کرنے میں بہتر رہنما ثابت ہوگا۔ھادیہ کا’’ علمی تفریحات و تربیت کا گہوارہ ” وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ای میگزین ھادیہ ادب پر کئی گوشوں کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے کئی اور پہلوؤں پر فکر انگیز مضامین سے سجا ہوا ہے ۔اس میں’’ عکس ھادیہ” خوبصورت اضافہ ہے ۔ ای میگزین کی کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ہم انگلی کے اشارے پر کہیں بھی اس میگزین کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔موجودہ دور میں قلیل مدت میں ای میگزین کو کافی مقبولیت حاصل ہو چکی ہے جو دوسری زبانوں کا حصہ ہیں۔
ھادیہ ای میگزین کی اشاعت اردو ادب میں اور ڈیجیٹلائزیشن کی دنیا میں ایک اور شاندار اضافہ ہے۔ ھادیہ نام ہی سے اس میگزین کا مقصد واضح ہوجاتا ہے یعنی رہنما اور ہدایت کرنے والی، یہ بڑی مسرت کی بات ہے ۔آج کل آن لائن تخلیقات شائع ہورہی ہیں، مشاعرے ہورہے ہیں، شعراء فیس بک پر اپنا کلام پوسٹ کررہے ہیں ۔آج لوگ دنیا کو ریڈیو میڈیا اور اخبارات کے ذریعے دیکھتے ہیں ۔ ان حالات میں اردو صحافت، چاہیے وہ آن لائن میگزین ہو یا آف لائن پرنٹ میگزین، ایک مشن اور تحریک کا درجہ رکھتی ہے ۔صحافت کا مقصد ایک طرح سے قارئین کی صحیح ذہنی نشوونما اور تربیت ہے ۔ضرورت ہے ایک صحافی کو انصاف پسند رہبر، حق پسند رہنما اور بے باک بھی ہونا چاہئے ۔اسی لیے صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح صحافت ہم عصر تاریخ نویس بھی ہے ۔کیونکہ وہ عوام کی آنکھ کان، بے چین روح و ضمیر بہت کچھ ہے ۔
امید کرتی ہوں کہ آپ کی ای میگزین ھادیہ، قارئین کے دل کی دھڑکن بنے ۔ یہ اور بھی زیادہ مسرت کا باعث اس لیے بھی ہے کہ “ھادیہ‘‘ ای میگزین خواتین کے لیے خواتین سے ہے ۔ اس میگزین سے خواتین کی تربیت، والدین کا ادب، اساتذہ کا ادب، حقوق العباد، معاشی مسائل، امورِ خانہ داری جیسے عنوانات کے ساتھ معیاری مضامین کی مشمولات سے ’’ھادیہ” کہ مقبولیت میں اضافہ ہونا یقینی بات ہے ۔“ ھادیہ ” جمہوری اقدار کی پاسبان اور صداقت کی آواز بن کر گونجتی رہے۔آنے والے دنوں میں ان شاءاللہ یہ ایک تحریک بن جائے ۔ آمین ۔۔ آج ہمارے معاملات میں ایک موثر فکر کی ضرورت ہے۔صحیح اجزائے ترکیبی سے ای میگزین ھادیہ صحافت اور ادب کی اعلیٰ قدروں کی پاسداری کا ضامن بھی
ثابت ہو ۔ یہی ہماری دعا اور خواہش ہے۔ ای میگزین ھادیہ کی آن لائن اشاعت کے لیے مبارکباد ۔ بہت ساری نیک
خواہشات دعائیں ۔

 

مارچ 10, 2021