اٹھ کہ اب بزم ِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
خواتین کا موضوع ہمیشہ اور ہر دور میں زیرٍ بحث رہا ہے جہاں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ مکالمات فلاطون نہ لکھ سکی وہیں شرارفلاطون کی بنیاد بھی زمانے نے اسے تسلیم کیا۔ خواتین کا موضوع مفکرین و دانشوروں کے نزدیک کبھی مظلومیت کی شکل میں تو کبھی زمانے سے ہم آہنگی پر تو کبھی دائرہ کار اور دائرہ عمل کے حدود کے تعین میں گردش کرتا رہا ہے ۔ خواتین کی تعلیم اور ان کے شعوروآگہی پر گفتگو نے زور پکڑا تو یہ اندازا لگایا گیا کہ وہ پیشہءمعلمی سے جڑی ہیں، طب کے میدانوں میں بازی مار گئی ہیں، سماجی کوششیں بھی اس کی منظر عام پر آنے لگیں تاہم قیادت وسیادت میں پیش رفت مزید توجہ کی طالب ہے۔یہ آواز ابھی صفِ دانشوراں سے بلند ہونی ہی تھی کہ ھندوستان میں خواتین نے شہریت بل پر صدائے احتجاج بلند کیا اور اس انداز سے احتجاجی مظاہروں کی قیادت وراہنمائی کی کہ ملک کا دانشور طبقہ، اہل صحافت اور مورخین ان کی سیاسی بصیرت، حالات حاضرہ سے آگہی اور مستقبل شناسی پرانگشت بدنداں تھے۔وہ جن مسلم خواتین کو مظلوم، پسماندہ ،زمانے اور اس کے تقاضوں سے بے خبر سمجھتے تھے ۔ انھیں خواتین نے شاہین باغوں کے ذریعے بھارت کی آزاد تاریخ کا سب سے بڑا عوامی احتجاج برپا کیا جس نے فرعونی اقتدار کے ہوش اڑادیے ۔ان سے متعلق اہل دانش کے تمام منفی تصورات باطل قرار پائے۔ مسلم خواتین کی یہ عظیم تحریک نہ صرف انڈین میڈیا میں موضوع بحث رہی بلکہ اسے عالمی میڈیا میں بھی غیر معمولی کوریج ملا ۔ خواتین کا تاریخی احتجاج ہمیں یہ سبق دے گیا کہ انقلابات اسی طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں نیز جب آپ حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سلیم الطبع عوام وخواص حق کی آواز بن کر بلاتفریقِ مذھب وملت آپ کے ساتھ چلے آتےہیں ۔ شاہین باغ کا طویل ترین و ہنگامہ خیز احتجاج اپنے سو دن مکمل کرنے بعد دنیا کے بڑے احتجاجوں میں شامل ہوگیا ۔ بات اس احتجاج کی ہی نہیں بات اس کے اثرات کی ہے، جس نے احساس کمتری سے پوری صنف نازک کو نکالا ہے، بات اس للکار کی ہے جو ظالموں کے لیے ایک پیغام بن گئی نیزاہل دانش کو یہ سمجھ دی کہ کہ مسلم عورت کو کمزور سمجھنا ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ جامعہ کے طلباء وطالبات ہوں یا جے این یو کے یا اے ایم یو کے یہ وہ طلباء ہیں جو بھارت کا مستقبل ہیں، ھندوستان کی ترقی ،حق و انصاف کا قیام ہی ان کا ھدف ہے ، جمہوری نظام میں ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کرے ۔ ھندوستان میں جاری نفرت کی سیاست کو نہ صرف ھندوستان میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اس ناانصافی کو غلط نظر سے دیکھا گیا ہے ۔خواتین کی حق وانصاف کے لیے اٹھنے والی آواز کا سلسلہ دیشا روی سے رِیانا تک، داراز ہوتا چلا جاتا ہے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو عصمت ریزی کی دھمکیاں دی جانے لگی جمہوری ملک میں حکومت، عوام سے عوام کے لیے اور عوام کی ہوتی ہے لیکن آج دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت میں جمہوریت رفتہ رفتہ اپنے حقیقی معنی کھوتی چلی جارہی ہے ۔ کیونکہ جمہوریت میں حکومت عوام کی ہوتی ہے یعنی عوام کی جانب سے منتخب کی گئی حکومت کے کسی بھی فیصلے پر اعتراض کرنے کا حق رکھتی ہے، اور اگر عوام سمجھتی ہے کہ حکومت کا کوئی فیصلہ ملک یا کسی خاص فرقے یا کسی طبقے کے مفادات کا تحفظ نہ کرتا ہے، تب نہ صرف عوام بلکہ ایک فردِ واحد کو بھی احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے۔ آج جب بھارت کی ایک تہائی سے زیادہ ریاستوں سمیت مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور آئے دن کہیں نہ کہیں سے کوئی احتجاج بلند ہونے لگتا ہے تب حکومت اس احتجاجی آواز کو فوراً وطن سے غداری قرار دیتی ہے ۔چاہیے وہ آواز ایلگار پریشد کے نہتے عمر رسیدہ افراد کی ہو یا وہ آواز کشمیر میں آرٹیکل 370 کے نفاذ کو لے کر ہو یا ملک بھر میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج ہو یا پھر نئے نافذ کردہ زرعی قوانین کی منسوخی کے مطالبے ہوں ۔ موجودہ حکومت کو ان تمام آوازوں سے وطن عزیز سے غداری کی بو آتی ہے ۔ احتجاج کرنے والوں پر ملک سے غداری کا لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے ۔ پچھلے ڈیڑھ، دو سال سے نجانے کتنے جہد کاروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ۔یہاں احتجاج کے پیرائے اپنی اہمیت کھوتے چلے جارہے ہیں ۔ حکومت اپنی ہی عوام کو غدار ثابت کرنے کے علاوہ غیر ملکی سازش، آتنک وادی یعنی دہشت گرد، خالصتانی اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگی ہے ۔ اس پس منظر میں سب سے قابل توجہ بات یہ ہے کہ حکومت کے رویوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں خواتین بھی برابر کی حصہ دار ہیں ۔ جو متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کے سب سے پہلےآواز اٹھا کر ملک بھر کی خواتین کو ایک شناخت عطاء کی آواز بھی ایسی موثر کہ حکومتِ وقت ان مٹھی بھر کالج یونیورسٹی کی طالبات سے خائف ہوکر ان پر ملک سے غداری کے الزامات لگاکر جیلوں میں بند کردیتی ہے ۔ان کا آئی ٹی سیل سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شرمناک اہانت پر اتر آتا ہے ۔ سی اے اے احتجاج پر گرفتار قوم کی بہادر بیٹیاں نتاشا اگروال، دیویا نگنا کالیتہ ، عشرت جہاں، گل فشاں فاطمہ صفورہ زرگر ہوں یا کسان احتجاج کی تائید میں آواز بلند کرنے والی دیشا روی، نکیتا جیکب اور شانتانو ہوں یا پھر اسی کسان احتجاج کی تائید میں آواز اٹھانے والی بین الاقوامی خواتین میں پاپ اسٹار رِیانا، سویڈن کی ماحولیاتی جہد کار گریٹا تھنبرگ ،مینا ہیریس، سوزن سینڈرا اور برطانوی اداکار اور سماجی جہد کار جمیلہ جمیل ہوں، ان تمام خواتین کے خلاف حکومت کی انتقامی تادیبی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سوشلمیڈیا پر منظم انداز سے ٹرولنگ یعنی تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز مہم چلائی جارہی ہے ۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ 21 سالہ دیشا روی کی گریٹا تھنبرگ سے زوم ایپ پر ایک میٹنگ ملک کے خلاف سازش کیسے ہوسکتی ہے۔ بنگلورو سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی جہد کار دیشا روی کو دلی پولیس نے گرفتار کیا ہے اور ان پر موافق خالصتان عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے ۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی تحفظ کی جہد کار گریٹا تھنبرگ نے سب سے پہلے کسانوں کی تائید میں ایک ٹویٹ کیا اور اس میں ایک” ٹول کٹ“یعنی ایک لائحۂ عمل پیش کیا جس میں گریٹا تھنبرگ نے کسانوں کے احتجاج کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنانے کے لیے الگ الگ طرح کی تجاویز پیش کیں۔ یعنی اس احتجاجی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے، مشہور عالمی شخصیات کو متوجہ کرنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کے لیے مزید پیش رفت، کس طرح کی جاسکتی ہے ۔ اسی ٹویٹ کو دیشا روی اور انجینئر شانتانو کو کچھ ترمیم کے ساتھ شیئر کیا ۔دیشا روی نے یہ ایڈیٹ شدہ ” ٹول کٹ “ ٹیلی گرام ایپ پر گریٹا تھنبرگ کو بھیجا اور اس ٹول کٹ کو عام کرنے کی غرض سے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ کو ڈیلیٹ کردیا ۔ بس بات اتنی سی ہے اور حکومت نے اس ایک اکیس سالہ لڑکی کے خلاف کارروائی کرنے کے ساری مشنری اور طاقت لگادی۔ باقاعدہ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے اس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ٹویٹ سے ملک کی سالمیت کے خلاف سازش آشکار ہوگئی ۔ ایک پرامن طریقے سے سے جاری کسان آندولن کی تائید اور اس کی تشہیر ملک کے خلاف سازش کیسے ہوسکتی ہے ۔ جبکہ ملک کا آئین پر امن احتجاج کی اجازت تو دیتا ہے تو کیوں ان آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پھر اسی طرح سے ان مشہور بین الاقوامی خواتین کو، جنہوں نے کسانوں کے احتجاج کی تائید میں ٹویٹ کیے انہیں بھی شرمناک طریقے سے ٹرول کیا گیا ۔ جبکہ یہ خواتین بھی شائستہ طریقہ سے ایک احتجاجی تحریک کے حق میں بول رہیں تھیں ۔ لیکن ان کے خلاف بھی پوری حکومتی مشینری اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ایسا لگنے لگا کسانوں کے تائید میں سامنے آنے والی خواتین کا جینا محال ہوجائے گا ۔ ٹویٹر پر ایک لائن کا تائیدی ٹویٹ کرنےوالی مشہور امریکی گلوکارہ رِیانا پر حد درجہ غیر اخلاقی، نسل پرستانہ حملے کیے گئے ۔ ان کی جسمانی ساخت اور ذاتی زندگی پر انتہائی اہانت آمیز ٹرولنگ کی گئی ۔ کیا ان کے صرف ایک لائن کے ٹویٹ نے حکومت کے ایوانوں ہلچل مچا دی؟ کیا یہ ہندوستان کی عظیم تہذیب کا حصہ ہے؟ اس طرح کے سلوک کے ذریعے ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ یعنی ہمارے یہاں آواز اٹھانے والی خواتین کا جینا دو بھر کردیا جاتا ہے ۔ جی ہاں!!! ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیاہے… برطانوی اداکارہ اور سماجی جہد کار جمیلہ جمیل جوکہ ایک مشہور ٹی وی شو گڈ پلیس(Good Place) بھی کرتی ہیں،نے کہا کہ انہیں کسانوں کی تائید پر عصمت ریزی اور موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں… آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عالمی سطح کی مقبول اور اپنے اپنے میدانوں کی وہ کامیاب خواتین (celebrities ) جو کسانوں کے احتجاج کی تائید کررہی ہیں انہیں عصمت ریزی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ جمیلہ جمیل نے اپنے انسٹاگرام میسج میں لکھا کہ وہ ابتداء سے ہی کسانوں کی تائید کررہی تھیں اور انہوں نے دھمکی دینے والے ٹرولرز کو صاف صاف کہا کہ”جو مجھے راست دھمکیاں دے رہے ہیں اس بات کا خاص دھیان رکھیں کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میری بھی برداشت کی حدیں ہیں ساتھ میں جمیلہ جمیل نے یہ بھی کہا کہ وہ کسانوں کی تائید کررہی ہیں اور کرتی رہیں گی اور یہ بھی مانتی ہیں کہ کسان اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ اس پر ایک امریکن اداکارہ نے اینڈی میکڈوول Andie MacDowell نے لکھا کہ نجانے کیوں جمیلہ جمیل کو اس طرح کی دھمکیاں مل رہی ہیں، انہیں اس طرح کے ٹرولرز کو بلاک کردینا چاہیے ۔ ایسے ٹرولرز سے کیسے نمٹا جائے یا ان کے خلاف کس طرح کی کارروائی کی جائے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سماج کی وہ بارسوخ خواتین جو کہ اپنی ایک موثر آواز رکھتی ہیں ان کا اپنا ایک دائرہء اثر ہے اگر وہ حکومت اور سماج کے ایک طبقے کے مزاج کے برعکس کسی معاملے میں آواز اٹھاتی ہیں تو ان کو عصمت ریزی کی دھمکیاں دی جائیں گی؟ کیا ان کو موت کی دھمکیاں دی جائیں گی؟ آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ پچھلے سال این آر سی اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک طالبہ صفورہ زرگر کو بھی اسی طرح عصمت ریزی کی دھمکیاں دی گئیں تھیں ۔ اس کے علاوہ کچھ اور جانی مانی ہستیوں کو بھی عصمت ریزی کی دھمکیاں دی گئیں تھیں ۔ جن میں نمایاں نام مشہور شاعر مینا کنڈاسوامی، کویتا کرشنن، جرنلسٹ ساگریکا گھوش، برکھا دت، بینا دکشت، گُر مہیر کور دلی یونیورسٹی کے تشدد سے متاثرہ کیمپس لیڈر کو بھی عصمت ریزی کی دھمکیاں دی گئیں ۔ ستم تو تب ہوا جب بنگلورو کی جرنلسٹ گوری لنکیش کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر کیوں آواز اٹھانے والی خواتین کو انتہائی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جمیلہ جمیل جو کسانوں کے احتجاج کی تائید کررہی تھیں انہیں عصمت ریزی کی دھمکیاں دی گئیں رِیانا پر نسل پرستانہ فقرے کسے گئے ان کے جسمانی خد و خال پر اہانت آمیز طنز کیے گئے ۔ کیا یہ سب ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہیں؟ کیا یہ ہماری اخلاقی تعلیمات کا حصہ ہیں؟ یعنی جب عالمی سطح کا یا یو این کا کوئی بارسوخ مرد تبصرہ کرتا ہے تو کیا اسی طرح کی بد زبانی کی ہمت دکھائی جاتی ہے ۔ پھر تو کینیڈا، برطانیہ کے کئی وزراء نے بھی کسانوں کی تائید میں بیانات جاری کیے ہیں لیکن اس وقت کسی بھی بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔ یہ سارے نسل پرستانہ تشدد کے طریقے ہیں ۔ جب کوئی عورت بولتی ہے تو عورتوں کے خلاف ایک خاص صنفی تعصب کا استعمال کرتے ہوئے مخصوص تضحیک آمیز زبان استعمال کی جاتی ہے ۔ یہ بی جے پی کی ٹرول آرمی یا آئی ٹی سیل کا ایک منظم طریقہء کار ہے۔یہ صرف آن لائن تشدد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے پاس آن لائن توہین آمیز یا بھڑکانے والے ٹویٹ کرنے والے لوگ الگ ہیں اور آف لائن تشدد برپا کرنے والے الگ ہیں ۔جیسے کہ صحافی بینا دکشت کے ساتھ ہوا ۔ اسی لیے اس تشدد کو اور اس کے پسِ منظر کو بہت اہم گردانا چاہیے اور حکومتی جماعت بی جے پی اور وزیر اعظم سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آپ جن لوگوں کو سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں یا جن لوگوں کے اپنے پاس بلا کر چائے پیتے ہیں، آپ انہیں اپنی محفلوں میں شامل کرکے ان کی مدح سرائی کرتے ہیں یہی تو آپ کی آئی ٹی سیل کے لوگ ہیں ۔ وہ کیوں خواتین کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ زبان آپ کی ہے یا آپ کی پارٹی کی ہے یا آر ایس ایس کی ہے۔ ہندوستان میں خواتین کو اس طرح کے متعصبانہ رویے کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ اس کے پیچھے ایک گندہ مائنڈ سیٹ بلکہ سطحی سوچ کارفرما ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ خواتین جن کے خلاف سائبر ٹرولنگ یا سائبر اسٹروکنگ کے ذریعے آن لائن اہانت آمیز حملے اور دھمکیاں دی جارہی ہے ہیں وہ ملزم خواتین ہیں ۔یعنی انہیں کچھ بھی بولنے کا حق نہیں ہے اور جو دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو اپنے ہر فعل پر استثناءحاصل ہے وہ ہرجرم کے لیے بری الذمہ ہیں ۔ ان کی سوچ کے مطابق عصمت ریزی بھی ایک ایسا فعل ہے جو صرف عورتوں کو شرمسار کرتا ہے ان کے یہاں عصمت ریزی کے مجرم کے لیے کوئی شرمندگی کا تصور نہیں ہے ۔ یعنی ان خاص خواتین کو جو متعصب وطن پرستی پر بولتی ہیں ، مذہبی اجارہ داری پر بولتی ہیں ، بوسیدہ کلچر اور روایات پر یا پھر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں، ان کی منظم طریقے سے سے ٹرولنگ کی جاتی ہے اور انہیں ہراساں کیا جانا کوئی جرم نہیں ہے ۔ بڑا سوال یہ ہے کہ سائبر کرائم یا آن لائن اہانت آمیز رویوں سے نمٹنے میں پولیس یا حکومت کیوں ناکام ہے ۔حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کوئی سائبر حملوں کی شکایات لے کر پولیس سے رجوع ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہاں اس کی کوئی خاطر خواہ سنوائی نہیں ہوتی اور اگر پھر بھی اصرار کیا جائے تو پہلے ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کرکے معاملہ کو رفع دفع کرنے کی صلاح دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سے آپ خواتین کی ہی بدنامی ہوگی ۔پولیس کے اسی رویہ سے بدظن ہو کر خواتین شکایت درج نہیں کرواتی ۔اس کے علاوہ پولیس جو اپنے انڈین پینل کوڈ (آئی پی ایس) کے مخصوص روایتی طریقے سے کیسیس حل کرتی ہے، ان کے لیے بھی سائبر کرائم کے یہ معاملات بوجھ ہیں ۔ دراصل پولیس کو سائبر کرائم کے تمام کیسز بے وجہ لگتے ہیں ۔اسی لیے وہ ان کو نظر انداز کر دیتی ہے ۔قانون نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو آئی پی سی کے سیکشن تین، چار، پانچ ڈی (IPC Section 3,4,5D) میں اور آئی ٹی ایکٹ 2008 سیکشن 66 میں سائبر کرائم پر سزا کی گنجائش موجود ہے ۔لیکن سزا ملنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔دراصل یہ سائبر کرائم پر بہت طاقتور ایکٹ ہے جس کے تحت آٹھ سے دس سال کی سزا اور ایک سے دو لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ ان سب کے باوجود اب بھی عورتیں پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے سے کتراتی ہیں ۔ اس علاوہ آن لائن دھمکی دینے والے افراد کی نفسیاتی سطح بھی انتہائی مخدوش ہوتی ہے۔انہیں لگتا ہے کہ آن لائن عصمت ریزی کی دھمکیاں دینا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ بناء کسی خوف و خطر کے کسی کو بھی ہراساں کرسکتے ہیں ۔یعنی کہ ان ذہنی سطح اس قدر مخدوش ہے کہ وہ جہد کار خواتین کو چپ کرانے اور حق بات کہنے سے روکنے کے لیے کسی بھی سطح تک جاسکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ عصمت ریزی کا نام لیتے خواتین خود ہی شرمسار ہوجائیں گی۔ پچھلے سال ٹھیک اسی طرح کے ایک واقع میں کامیڈین اگریما جوشوا کو بھی عصمت ریزی کی دھمکیاں دی گئیں تھیں جس پر دہلی ویمن کمیشن نے ازخود کارروائی کی تھی ۔اس کیس میں مجرم شوبھم مشرا نے انتہائی ڈھٹائی سے شرمناک جواب داخل کرتے ہوئے کہا کہ” جو خواتین حکومت کی پالیسیوں اور نام نہاد وطن پرستی کے خلاف بولتی ہیں وہ حقیقت میں طوائف ہیں “۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی سوچ کی سطح کس قدر مخدوش ہے۔ یہ حقیقی زمینی صورتحال ہے لیکن ہم اگر اس کا بغور جائزہ لینے کی کوشش کریں تو ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے سماج میں کس طرح منظم طریقے سے مردوں کے اندر متعصبانہ احساس برتری پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو صنفی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔جس کو یہ ٹرول آرمی بنے کٹھ پتلی کھلاڑی سمجھ نہیں پارہے ہیں ۔بھلے ہی آن لائن عصمت ریزی کی دھمکیاں وقتی طور پر نمائندہ خواتین کو ہراساں کرنے کا ایک بڑا ہتھیار بن کر ابھر رہی ہیں ۔پولیس اپنے روایتی طریقہء کار پر چلنے میں مگن ہے اور حکومت اپنے مفاداتِ حاصلہ کے تحفظ کی خاطر سماج میں نمو پانے والے اس خطرناک وائرس کو نمٹنے میں ناکام ہو رہی ہے بلکہ نظرانداز کر رہی ہے ۔جبکہ یہی حکومت سابق میں خواتین کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کرچکی ہے۔جس میں بیٹیوں کے ساتھ سیلفی ( selfie with daughters) بیٹی بچاو، بیٹی پڑھاؤ جیسی مہمات شامل ہیں ۔پھر کیا اس حکومت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ظلم اور استبداد کے خلاف آواز بلند کرنے والی خواتین کو عصمت ریزی کی دھمکیاں دینے والوں کی پشت پناہی کرتی رہے ۱ خواتین کا تاریخی احتجاج ہمیں یہ سبق دے گیا کہ انقلابات اسی طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں نیز جب آپ حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سلیم الطبع عوام وخواص حق کی آواز بن کر بلاتفریقِ مذھب وملت آپ کے ساتھ چلے آتےہیں ۲ جب سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی تحفظ کی جہد کار گریٹا تھنبرگ نے سب سے پہلے کسانوں کی تائید میں ایک ٹویٹ کیا اور اس میں ایک” ٹول کٹ“یعنی ایک لائحۂ عمل پیش کیا جس میں گریٹا تھنبرگ نے کسانوں کے احتجاج کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنانے کے لیے الگ الگ طرح کی تجاویز پیش کیں۔ یعنی اس احتجاجی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے، مشہور عالمی شخصیات کو متوجہ کرنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کے لیے مزید پیش رفت، کس طرح کی جاسکتی ہے ۔ ۳ ہندوستان میں خواتین کو اس طرح کے متعصبانہ رویے کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ اس کے پیچھے ایک مائنڈ سیٹ بلکہ سطحی سوچ کارفرما ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ خواتین جن کے خلاف سائبر ٹرولنگ یا سائبر اسٹروکنگ کے ذریعے آن لائن اہانت آمیز حملے اور دھمکیاں دی جارہی ہے ہیں وہ ملزم خواتین ہیں ۔یعنی انہیں کچھ بھی بولنے کا حق نہیں ہے اور جو دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو اپنے ہر فعل پر استثناء حاصل ہے وہ ہرجرم کے لیے بری الذمہ ہیں

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱