مال و جائيداد کي منتقلي کي صورتيں

“میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں اپنے مال میں سے کچھ صدقہ و خیرات کرکے ذخیرۂ آخرت کرلوں ، باقی اپنے بیوی بچوں کو دے دوں اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟ ” میرے ایک کرم فرما بزرگ نے سوال کیا ۔
میں نے جواب دیا :” پہلے آپ اس تصور کو درست کرلیں کہ جو کچھ آپ اجنبی فقراء اور دور کے رشتے داروں کو دیں گے وہ ذخیرۂ آخرت ہو گا ، جو کچھ بیوی بچوں کو دیں گے اس کا اجر آخرت میں نہیں ملے گا ۔ صحیح تصور یہ ہے کہ جو کچھ آپ بیوی بچوں کے لیے چھوڑ کر جائیں گے اس پر بھی اجر کے مستحق ہوں گے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ آدمی جو کچھ اپنی بیوی کو کھلاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اسے اجر سے نوازے گا” (بخاری : 56 ، مسلم :1628)

اُن کا دوسرا سوال تھا : “ میری اہلیہ اور 3 بیٹیاں ہیں میری وراثت(Inheritance) ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟
” آپ کا انتقال ہوجائے تو آپ کی بیوہ کا حصہ آٹھواں (12.5%) ہوگا _ 3 بیٹیوں کو دوتہائی ( 66.7%) ملے گا _ باقی (20.8%) عصبہ کی حیثیت سے آپ کے بھائیوں اور بہنوں میں دو ایک (2:1)کے تناسب سے تقسیم ہوگا _ اگر بھائی بہن نہیں ہیں تو اس کے مستحق صرف بھتیجے ہوں گے ، بھتیجیوں ، بھانجوں اور بھانجیوں کو کچھ نہیں ملے گا ۔‘‘ میں نے جواب دیا

انھوں نے اگلا سوال کیا : ” اگر میں وصیت (Will) کرنا چاہوں تو اس کا طریقہ کیا ہوگا ؟ ‘‘
میں نے کہا : ” وصیت کی 2 شرطیں ہیں : ایک یہ کہ جن کا وراثت میں حصہ بنتا ہے انہیں وصیت نہیں کی جاسکتی ، ان کے علاوہ دوسروں کو کی جاسکتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت نہیں کی جاسکتی ۔ البتہ فقہاء نے ایک تیسری صورت یہ بیان کی ہے کہ اگر کسی شخص کو اندیشہ ہو کہ اس کے مرنے کے بعد ورثہ میں سے کوئی قبضہ کرلے گا اور دوسرے مستحقین کو محروم کردے گا یا ان کے حصے سے کم انہیں دے گا تو ورثہ میں سے جس کا جتنا حصہ بنتا ہے اس کے بہ قدر وہ اس کے نام وصیت رجسٹرڈ کروا سکتا ہے ۔ ‘‘

“ اگر میں اپنی زندگی میں کل جائیداد ان کے درمیان تقسیم کردوں تو کیا ایسا کرنا میرے لیے درست ہوگا؟ ‘‘ انھوں نے پھر سوال کیا ۔
میں نے جواب دیا : ” آدمی اپنی زندگی میں کسی کو بھی اپنے مال جائیداد کا مالک بنا سکتا ہے ۔اسے ’ہبہ‘ (Gift) کہتے ہیں ۔ ہبہ کسی کو بھی کیا جاسکتا ہے _ کسی اجنبی کو ، کسی مسجد ، مدرسے یا تنظیم کو ، کسی دور کے رشتے دار کو ، کسی قریب کے رشتے دار کو ، یا اپنے بیوی بچوں کو _ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کو مالک بنا دیا جائے _ ایسا کرنے کی صورت میں اس پر سے اپنی ملکیت ختم ہوجائے گی ۔‘‘

ان کی اہلیہ فوراً بول پڑیں ۔” کل جائیداد ہبہ کرنے کے بعد تو آدمی خالی ہاتھ ہوجائے گا ۔ پھر اسے خود کوئی ضرورت پڑے گی ، یا اس کے علاج معالجہ کی نوبت آئے گی تو اسے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے گا ۔”
میں نے کہا : ” ہاں ، یہ بات تو ہے ۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ آدمی اپنا کل مال ہبہ نہ کرے ، بلکہ کچھ اپنے پاس رکھے۔”

” بچوں میں ہبہ کی صورت میں کیا ضروری ہے کہ سب کو برابر دیا جائے ، یا انہیں دینے میں کمی و بیشی کی جاسکتی ہے؟” انھوں نے سوال کیا ۔
میں نے عرض کیا : ” بہتر ہے کہ عام حالات میں بچوں کو برابر دیا جائے ، تاکہ کسی کو شکایت نہ ہو ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی ہدایت کی ہے ۔ ( بخاری :2650 ، مسلم : 1623) البتہ اگر وہ دیکھے کہ اس کے بچوں میں سے کوئی مال دار ہے اور کوئی غریب تو وہ انہیں ہبہ کرنے میں کمی بیشی کرسکتا ہے ۔ بہتر ہے کہ وہ یہ کام سب کو آمادہ کرکے کرے ۔”

شکریہ کے ساتھ مجلس برخواست ہوئی ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱