مومن کا گھر ہے نخل امانت کی نرسری
گھر ایک گہوارہ ہوتا ہے جسکی آغوش میں ہی مصلحین پرورش پاتے ہیں ۔یہ ایک ایسا کارخانہ ہےجہاں سے انسانی معاشرہ کو افراد مہیا ہوتے ہیں ۔اور ان ہی افراد سے سماج تشکیل پاتا ہے ۔ ایک گھر کی مثال اس گلشن کی طرح ہے ۔جس کے پیڑ اور پھولوں سے لدے پودوں کی نگہداشت کیلیے مالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو انکی سینچائی سے غفلت برتے بغیر انکی دیکھ بھال اور تراش خراش پر اپنی ساری قوت صرف کرتا ہے تاکہ گلشن برباد نہ ہو اور اسی کی فکر میں لگا رہتا ہے کہ خود رو پودے اسکی زرخیزی کو متاثر نہ کردے۔ اس کی اسی کوشش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہی چمن پورے شہر میں خوبصورت مشہور اور نمایاں بنا دیتا ہے ۔اس کے برخلاف ایسا مالی جو چمن کی نگہداشت سے تغافل برتتے ہیں اور اسکی کانٹ چھانٹ میں تساہل سے کام لیتے ہیں ان کے گلشن کا اجڑنا اور برباد ہونا یا بے ترتیب ہوجانا یقینی ہے ۔ گھر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ مربی اعظمﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کیا اور روز اول سے آپﷺ کے اس بارِ عظیم کیلیے کاندھا پیش کرنے والے آپ کے اپنے گھر والے تھے جسکا اثرانقلابِ اسلام میں آج بھی نمایاں نظر آتا ہے اور اسی کا اثر تھا کہ اتنے مختصر سے عرصہ میں داعی عظیم ﷺ نے انھیں رعایة الغنم سے (بکریاں چرانے والوں کو ) رعایةالامم کے عظیم مرتبہ پر فائز کیا ۔یہ سب ایک مختصر دورانیہ میں اس لیے ممکن ہوا کہ تعمیرِ معاشرہ کیلیے اپنی ذات سے لیکر خاندان اور خاندان سے معاشرہ کی جانب قدم بڑھایا گیا ۔وَانذِر عَشیرتکَ الاقربین اور قُواانفسکم واھلیکم ناراًکی زندہ اور عملی مثالیں قائم کی گئیں۔اسی اثرپذیری کے نتیجہ میں یہ دعوت گھروں سے لیکر بازارتک اور عدالتوں سے لیکر ایوانوں تک ایک مکمل انقلاب بنکر ابھری کیونکہ یہ دعوت محض وعظ و منبر، اوراق و قلم میں سمائی ہوی نہیں تھی بلکہ مجسم ظہور تھی ۔سماج میں یہ داعیان حق جہاں سے گذرے اپنا اثر چھوڑ گیے ۔ اور سارے سماج کو صبغت اللہ میں رنگنے اور ربّانی سماج بنانے میں غیر معمولی مثالیں قائم کیں ۔جو نتائج کے اعتبار سے سنہروں حرفوں میں اسی لیے قابل رقم ٹہرے کہ جہاں مخاطبِ اول انکے خاندان والے تھے۔ تاریخ میں جب وہ حسنؓ و حسین ؓ بنے تو انکے پشت پر فاطمہؓ ؓ جیسی آغوش صدف کا اثر نمایاں نظر آیا ۔جب ایک ہمشیرہ نے اسلام کے لیے عزم سفر باندھا تو تاریخ کے افق پر فاروق اعظم ؓ جیسا ستارہ چمکادیا ۔جب ایک ماں کی کاوشیں رنگ لائیں تو دنیا نے اسے محمد فاتح کی شکل میں دیکھا ۔جب ایک ماں کے رزق حلال کی تگ و دو نتیجہ بنتی ہے تو اقبال جیسے مفکر سماج کو ملتے ہیں ۔جب کوئی قطب شہیدؒ اپنی زندگی کی تمام تگ و تاز اسلام کیلیے وقف کرتا ہےتو اسکے استقلال میں یہ دیکھ کر مزید اضافہ ہوتا ہے کہ اس کا سارا خاندان اسلام کے گرد گھومنے والے سیارے بن چکے ہیں ۔ چنانچہ گھروں کے اندر اس عظیم و اہم رول کو پیش نظر رکھکر ہی سماج و معاشرہ کی بہتری کا خواب دیکھا جاسکتا ہے ۔ گھر کی یہ اھمیت جیسے ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوئی معاشرہ کی تعمیر، بہتر طور پر ممکن نہ ہوسکی ۔کیونکہ گھر سوسائٹی کے بنانے میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر اینٹیں ہی ناقص اور بوسیدہ ہوں تو کیسے ایک مضبوط عمارت کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ سماج میں پھیلے ہوئے امراض بدعات، خرافات، بےایمانی و ناانصافیاں ،قتل و غارت گری دھوکہ دہی ان سب کے معالج اگر گھروں سے تیار نہ ہوں تو کیسے ان امراض کی تشخیص و علاج ممکن ہوسکے گا ۔ اور ایک طرف ان امراض کی دوا دینے کیلیے معالج سارے شہر میں گھوم کردوا بانٹنے لگے اور علاج کی کوشش کرنے لگے تو یہ کیسا معالج ہوگا جسکا گھر اور خاندان تو خود بیماری میں ملوث ہو اور وہ انھیں دوا نہ دے سکے۔ ؟ قران مجید کے اوراق اولادکے تیئں جب اپنے نبیوں کی اس تڑپ کو پیش کرتے ہیں کہ “ ماتَعبُدُونَ مِّن بَعدِی” ۔قریب المرگ اس سوال کا جواب چاہنا گویا اس بات کی دلیل ہے کہ دُعاةاور مصلحین کی تیاری و تربیت کا اساسی مرکز اسکا اپنا گھر ہوتا ہے ۔ اور اسی نہج سے گذر کر پر امن معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے ۔
ایک گھر کی مثال اس گلشن کی طرح ہے ۔جس کے پیڑ اور پھولوں سے لدے پودوں کی نگہداشت کیلیے مالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو انکی سینچائی سے غفلت برتے بغیر انکی دیکھ بھال اور تراش خراش پر اپنی ساری قوت صرف کرتا ہے تاکہ گلشن برباد نہ ہو اور اسی کی فکر میں لگا رہتا ہے کہ خود رو پودے اسکی زرخیزی کو متاثر نہ کردے۔ اس کی اسی کوشش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہی چمن پورے شہر میں خوبصورت مشہور اور نمایاں بنا دیتا ہے ۔اس کے برخلاف ایسا مالی جو چمن کی نگہداشت سے تغافل برتتے ہیں اور اسکی کانٹ چھانٹ میں تساہل سے کام لیتے ہیں ان کے گلشن کا اجڑنا اور برباد ہونا یا بے ترتیب ہوجانا یقینی ہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱