ڈيجيٹل ڈيوائيڈ
یوں تو ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کی تفریق انٹرنیٹ کی دنیا میں ابتداء سے ہی ہر جگہ موجود تھی ۔امیر چٹکی بجاتے ہی ان سہولیات کو خرید لیتے لیکن جن لوگوں کے پاس اس سہولت تک رسائی کی سکت نہیں تھی، ان کے لیے زیادہ شور بھی نہیں تھا۔ پھر جب عام زندگی میں انٹرنیٹ کی ترقی کا اثرات نمایاں طور پر پر نظر آنے لگے جیسے ریل، بس، ہوائی جہازوں کے ٹکٹوں سے لیکر کالج، یونیورسٹیوں میں داخلے کے معمولات، تعلیمی مواد کی آن لائن موجودگی اور منتقلی ، بلکہ تقریباً تمام حکومتی شعبوں کی سہولیات کے ڈیجیٹلائیزڈ ہوجانے سے عام لوگ بھی ڈیجیٹل ڈیوائیڈ سے متاثر ہونے لگے ۔اس کے بعد کوویڈ 19 کے بحران سے آئے لاک ڈاؤن کے دوران اسکول کالج کے متاثرین طلباء کا ایک سیلاب امڈ آیا ۔ جس کے بعد اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے مایوس ہوکر طلباء میں خودکشی کے واقعات میں اچانک اضافہ ہونے لگا ۔ لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی نظام کا جسمانی موجودگی یعنی چاک۔ ٹاک موڈ(chalk _talk mood) سے آن لائن تعلیمی نظام میں تبدیلی نے ہندوستان بھر میں امیر اور غریب طلباء کے درمیان پائی جانے والی اس خلیج کو مزید واضح کردیا ۔آن لائن تعلیمی نظام کے بڑھتے نئے رجحانات نے غریب اور دیہی علاقوں کے طلباء کی تدریس و تعلیم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔ ایک طرح سے ان کے خوابوں کو بھی آن لائن موڈ میں تبدیل کردیا۔ یونیسکو کے مطابق ، ہندوستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پندرہ کروڑ اسی لاکھ طالب علم متاثر ہوئے ہیں ۔ جس کے باعث ان کے باضابطہ سلسلہء تعلیم اور بہتر زندگی کے خوابوں پر راست اثر پڑا ہے۔ کیونکہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام موجود ہے ۔ جس میں ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ اسکولوں میں دو کروڑ 25 لاکھ طلباء داخلہ لیتے ہیں ۔ اور تقریباً 50 ہزاراعلیٰ تعلیمی اداروں(Higher Educational Institutions) میں تین کروڑ 74 لاکھ طلباء داخلہ لیتے ہیں ۔ ہندوستان میں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ یا مواصلاتی آلات کی خلیج مردوں کے مقابلے میں خواتین اور لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں یا پھر شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سماج میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان برتے جانے والے نابرابری کے تعصبانہ رویے بھی اس کی تفریق کی ایک اور وجہ ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار کیٹیلزنگ چینج (C3) کا کہنا ہے کہ خاندانی رویوں اور تعصبات کی بناء پر لڑکیوں کی ڈیجیٹل ڈیوائس تک رسائی بہت محدود وقت کے لیے ہوتی ہے ۔ صرف 42 فیصد لڑکیوں کو ایک دن میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت تک موبائل فون یا کمپیوٹر استعمال کرنے کی سہولت ملتی ہے، بلکہ کہیں کہیں تو انہیں، یہ ڈیجیٹل سہولیات بالکل بھی نہیں ملتی کیونکہ 81 فیصد لڑکیاں یا تو موبائل فون کی انفرادی ملکیت نہیں رکھتیں یا پھر انہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں اور ان کے خاندان کی معاشی استطاعت بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بھی اہل نہیں ہوتی ۔ ہندوستان بھر میں 79 فیصد لڑکیوں کے گھروں میں کمپیوٹر کی سہولیات بھی نہیں ہے اور 85 فیصد لڑکیوں کے اہل خانہ انٹرنیٹ کے اخراجات برداشت کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران بدلتے تعلیمی نظام نے طلباء کے کرئیر کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بھی بہت حد تک اثرات مرتب کیے ہیں ۔ کیونکہ آن لائن پڑھنے یا پڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائس دونوں کے پاس ہونا ضروری ہے ۔ مذکورہ سروے کے مطابق یہ تفریق ہر ریاست میں الگ الگ ہے۔ جہاں کرناٹک میں 65 فیصد لڑکیوں کو ڈیجیٹل یا موبائل آلات تک آسانی سے رسائی حاصل ہے۔ وہیں ہریانہ میں یہ تفریق سب سے زیادہ ہے۔چونکہ یہاں کے سماج میں کے لڑکوں کے ساتھ بہت زیادہ روادارنہ سلوک کیا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے ہریانہ میں یہ تناسب سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ تلنگانہ میں سب سے کم 12 فیصد ہے۔ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کی اہم وجوہات • مالی وسائل کی عدم دستیابی • انٹرنیٹ کی رفتار ( Internet density) شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں بہت کم پائی جاتی ہے ۔( شہری علاقوں میں 90 فیصد انٹرنیٹ رفتار کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں جہاں 60 فیصد عوام رہتے ہیں وہاں پر صرف 25 فیصد سے بھی کم انٹرنیٹ کی رفتار مہیا کی جاتی ہے ۔) • انٹرنیٹ کے استعمال پر نوعمر لڑکیوں کو والدین کی جانب سے عدم اجازت یا ان کے لیے غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے ۔ یا پھر خاندانی روایات کی بناء پر نو عمر لڑکیوں کے مقابلے میں نو عمر لڑکوں کو کمپیوٹر، سمارٹ اور انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے ترجیح دیئے جانا ہے ۔
ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کے معاشرے پر اہم اثرات • کوویڈ 19 کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے سماج میں تبدیلی کے اثرات زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں واقع ہوئے ہیں ۔ • ان میں نمایاں اور فوری قابل توجہ اثرات تعلیمی شعبے میں دکھائی دیئے ہیں ۔ • اس کے علاوہ ناخواندہ اور پسماندہ معاشی پس منظر رکھنے والے خاندان بھی راست اور بالراست متاثر ہوئے ہیں ۔ • بینکنگ ، حکومتی اداروں کے علاوہ کئی دیگر آن لائن خدمات سے ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کے متاثرین استفادہ نہیں کر پاتے ۔ • خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں قوت خرید کی کمی کی وجہ سے ان کا مردوں کے مقابلے میں سماجی نابرابری یعنی صنفی عدم مساوات کا تناسب مزید بڑھنے لگا ہے ۔ • کئی مقامات پر حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی عائد کیے جانے کی وجہ سے بھی ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کا تناسب دنیا کے باقی ممالک کے مقابلے میں بھارت میں کئی گناہ زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔
کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے امیر افراد اور ان پر دسترس نہ رکھنے والے غریب افراد کے مابین پائی جانے والی خلیج کو’’ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ ‘‘ یعنی ڈیجیٹل تقسیم کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ معاشی ماہرین، مشینی گھریلو ساز و سامان جیسے واشنگ مشین، گرینڈر، ڈش واشر تک عدم رسائی کو بھی ڈیجیٹل ڈیوائیڈ مانتے ہیں ۔کسی بھی قسم کے عدم مساوات یا نابرابری کا مطلب پوری دنیا کی تمام برادریوں کو یک جیسی سہولیات حاصل نہیں ہیں ۔ کمپیوٹر، اسمارٹ موبائل فون اور انٹرنیٹ سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے موجودہ سماج میں ایک عام انسان، سماج، دنیااور دنیا بھر کی سرگرمیوں سے رابطے برقرار نہیں رکھ پاتا۔
ڈیجیٹل ڈیوائیڈ کی تفریق انٹرنیٹ کی دنیا میں ابتداء سے ہی ہر جگہ موجود تھی ۔امیر چٹکی بجاتے ہی ان سہولیات کو خرید لیتے لیکن جن لوگوں کے پاس اس سہولت تک رسائی کی سکت نہیں تھی، ان کے لیے زیادہ شور بھی نہیں تھا۔ پھر جب عام زندگی میں انٹرنیٹ کی ترقی کا اثرات نمایاں طور پر پر نظر آنے لگے جیسے ریل، بس، ہوائی جہازوں کے ٹکٹوں سے لیکر کالج، یونیورسٹیوں میں داخلے کے معمولات، تعلیمی مواد کی آن لائن موجودگی اور منتقلی ، بلکہ تقریباً تمام حکومتی شعبوں کی سہولیات کے ڈیجیٹلائیزڈ ہوجانے سے عام لوگ بھی ڈیجیٹل ڈیوائیڈ سے متاثر ہونے لگے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱