کيا تم بھول گئيں……!
آپ کا کہنا ہے کہ آپ نصف انسانیت ہیں ۔ بھلا اس سے کون انکار کرسکتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے یہ بات بھی تسلیم کہ آپ کے وجود سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں ۔ یہ بازاروں کی رونقیں آنکھوں کے سامنے نظر آنے والی حقیقت ہے ان بازاروں میں رنگ برنگی تتلیوں کی طرح آپ ہی آپ پھرتی نظر آتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں ۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ دنیا کی تعمیر و ترقی میں آپ برابر کی شریک ہیں تو یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے ۔ماضی کی بات نہیں ہے حال کی بات کیجئے ۔اس حال کی بات جس میں آپ سانس لے رہی ہیں اور اس بات پر آپ نازاں ہیں کہ ہر قید و بند سے جانور آزاد ہوتاہے ۔انسان چند اخلاقی قیود کا پابند ہوتا ہے کیونکہ انسانی فطرت بے لگام آزادی کو پسند نہیں کرتی ۔ آپ نے فطرت کو بدل دیا ۔آپ خوش ہیں کہ آپ آزاد ہیں۔ آپ کا کوئی واحد ٹھکانے میں قید نہیں ہیں ۔جب کہ جانور بھی اپنا ایک گھر بناتا ہے، گھر بساتا ہے، بچوں کو پالتااور پوستا ہے…. اور آپ نے گھر بچوں کو اپنے پیروں کی بیڑیاں سمجھ کر اپنے ہی آشیانہ کو آگ لگا دی ۔ ان شعلوں کو دیکھ کر خوش ہیں کہ آپ نے ماحول کو روشن کردیا… اس روشنی نے آپ کی آنکھوں کو چکا چوند کردیا ۔ جس کی وجہ سے آپ دیکھ نہیں پارہی ہیں کہ آپ کا کیا کچھ اس آگ میں جل رہا ہے ۔ آپ کی نسوانیت جل رہی ہے آپ کا وقار جل رہا ہے آپ کی ممتا جل رہی ہے آپ کی پہچان جل رہی ہے آپ کی شخصیت جل رہی ہے… بلکہ آپ کا ذہن ماؤف ہوگیا ہے، آپ بھول گئیں کہ آپ کیا ہیں… میں یاد دلاؤں کہ آپ کیا ہیں ۔ نعیم صدیقی کے اشعار کی روشنی میں سن لیں کہ آپ کیا ہیں

تم طاقت ہو، تم جرات ہو!
تم اک پُر جوش جسارت ہو
تم اک با رعب شجاعت ہو
تم اک رنگین قیامت ہو
تم عزت، عفت، عصمت ہو
تم عظمت، شوکت، رفعت ہو
تم رحمت، راحت، شفقت ہو
تم نصف انسانیت ہو!
مستقبل کو ان فتنوں سے
عورت ہی بچانے والی ہے
قوموں کے مٹانے والی ہے
قوموں کے بچانے والی ہے
جس نقشے پر بھی یہ چاہے
نسلوں کو اٹھانے والی ہے

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عورت اپنی پہچان رکھتی ہے اور وہ قوت فیصلہ، قوت تمیز بھی رکھتی ہے ۔ باطل کے اندھیرے میں حق کی روشنی کو پہچان لیتی ہے اور اس بات کو سمجھتی ہے کہ حق کو پہچان لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس حق کو اپنانا اور حق پر جم جانا حق کے تقاضے ہوتے ہیں، وہ حق کو اپناتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا شوہر فرعونِ وقت جو مالدولت و اقتدار کے نشے میں چور اہل ایمان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے وہ یہ ہرگز برداشت نہیں کرے گا کہ خود اس کی بیوی ایمان لائے ۔ ایک عورت بی بی آسیہ اپنے طور پر یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ایمان کے لیے ظلم و ستم برداشت کرنااور اپنی جان قربان کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں ہے ایمان تو وہ دولتِ بے بہا جس کا مقابلہ کسی دوسری چیز سے نہیں کیا جاسکتا ۔ بی بی آسیہ بڑی ہمت سے اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی، ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہی آخر اپنی جان جانِ حق پر قربان کردی۔
تم ہمت ہو تم قوت ہو
عورت نرم و نازک وجود مگر اپنے اندر ہمت و قوت کا خزانہ رکھتی ہے ۔

تم رحمت، راحت، شفقت ہو
تم نصف انسانیت ہو!

آغازِ اسلام میں آپ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و سلم کو ڈھارس دلاتے ہوئے ایک عورت( آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ) نظر آتی ہے ۔غار حرا میں آپ صل اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی، اللہ نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا ۔اس پہلے تجربہ سے اضطراب کی کیفیت طاری ہوگئی آپ صل اللہ علیہ وسلم اضطراب کی شدید کیفیت میں گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ محترمہ سے کہا
“ مجھے اڑھادو” ،جب آپ صل اللہ علیہ وسلم کی کیفیت میں ذرا سکون ہوا تو تمام واقعات بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ کو سنا کر کہا“ مجھے اپنی جان کا خطرہ لاحق
ہوگیا ”۔ بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ ان واقعات کو سن کر ذرا بھی نہ گھبرائیں بلکہ یقین کی کیفیت میں کہنے لگیں“ ہرگز نہیں، خدا کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا ۔آپ عزیزوں و رشتہ داروں کاحق ادا کرتے ہیں ان کے ساتھ صلہ رحمی کا سلوک کرتے ہیں ۔ناتواں و بے کسوں اور بیواؤں کی مدد کرتے ہیں ۔حق کے کاموں میں خود آگے بڑھ کر تعاون کرتے ہیں ۔آپ امانت دار ہیں اور صادق القول ہیں” ۔
آپ صل اللہ علیہ وسلم بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں کہ جب میں اہل مکہ کے بے دردانہ، بے رحمانہ سلوک سے رنجیدہ خاطر گھر آتا تو خدیجہ رضی اللہ عنہ اس طرح میری تسلی و تشفی کرتیں کہ میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا میرے دل کو تسکین ہوجاتی تھی ۔
سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف ایک خاتون بی بی خدیجہ کو حاصل ہوا اور اسی خاتون بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ کو یہ بھی شرف حاصل ہوا کہ اللہ اور حضرت جبریل علیہ السلام نے سلام کہا ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام، حضور صل اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا“ خدیجہ برتن میں کچھ لارہی ہیں، ان کو اللہ کا اور میرا سلام پہنچادیجئیے ۔”

تم پر جوش جسارت ہو
تم ایک بارعب شجاعت ہو

اپنے ایمان کے لیے اہل ایمان قربانیاں دیتے آئے ہیں ۔ قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے جو اہل ایمان نے اپنے خون سے رقم کی ہے ۔ اسلام کے لیے جب بھی اپنی جان قربان کرنے والوں کا آئے گا سب سے پہلے ایک خاتون بی بی سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہ کا ذکر آئے گا ۔سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ضعیف خاتون جن کا آقا ابوجہل، ظالم اور جابر شخص جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن تھا ۔اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق کا آغاز کیا تو کسی تعامل کے بغیر آپ ایمان لے آتی ہیں ۔جبکہ وہ دور اہل حق کے لیے بڑا پرآشوب دور تھا جو شخص بھی اسلام قبول کرتا مشرکین مکہ کے غیظ و غضب اور لرزہ خیز خوروتشدد کا نشانہ بن جاتا تھا ۔ مشرکین مکہ اس معاملے میں اپنے قریب ترین عزیزوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے ۔ بی بی سمیہ رضی اللہ عنہ تو ایک کنیز خاتون جن کا لوگوں کی نظروں میں کوئی مقام و مرتبہ نہیں تھا ۔اس دور میں لونڈی غلام کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا تھا ۔ بی بی سمیہ رضی اللہ عنہ پر ظلم کی انتہا کردی گئی مگر ان کی قوت ایمانی اور استقامت کا یہ حال تھا کہ جادہ حق سے ایک لمحہ کے لیے بھی ان کے قدم نہیں ڈگمگائے ۔ایک دن حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ دن بھر کی سختیاں سہنے کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابو جہل ان کو گالیاں دینی شروع کردی پھر اس کا غصہ اس قدر بڑھ گیا کہ اپنی برچھی حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ پر کھینچ مارا وہ اسی وقت زمین پر گر گئیں اپنی جان قربان کردی اور“ اسلام کی شہید اوّل ” ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔
تم عفت عصمت ہو
تم عظمت شوکت رفعت ہو
حضرت خنساء بنت عمرو جو عرب کی مشہور مرثیہ گو شاعرہ تھیں جن کے حسنِِ کلام کی خود اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے تعریف و تحسین فرمائی تھی ۔ حضرت خنساء اپنی ضعیف عمری میں جذبہء شہادت سے سرشار اپنے چار نوجوان بیٹوں کے ساتھ جنگ قادسیہ میں موجود تھیں ۔یہ جنگ، جنگ قادسیہ کا شمار عراق کی سرزمین پر لڑی جانے والی نہایت خونریز فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے ۔ اس جنگ کے موقع پر حضرت خنساء نے اپنے چار بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا“ میرے بچو! تم اپنی خوشی سے اسلام لائے اور اپنی خوشی سے تم نے ہجرت کی ۔اس ذات کی قسم جس کے سواء کوئی معبود نہیں ہے جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اس طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو ۔میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموؤں کو ذلیل و رسوا کیا ۔تمہارا نسب بے عیب ہے اور تمہارا حسب بے داغ ۔۔۔ سمجھ لو کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی عمل کا ثواب نہیں ہے ۔ آخرت کی دائمی زندگی دنیا کی فانی زندگی، دنیا کی فانی زندگی سے کہیں بہتر ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ“ اے مسلمانوں! صبر سے کام لو اور ثابت قدم رہو اور آپس میں مل کر رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ مراد کو پہنچو”۔کل اللہ نے چاہا اور تم خیریت سے صبح کرو تو تجربہ کاری کے ساتھ خدا کی نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا جب دیکھو کہ لڑائی کا تنور خوب گرم ہوگیا اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے تو خاص آتش داں جنگ میں گھس پڑنا ۔اگر کامیاب رہے تو بہتر ہے اگر شہادت نصیب ہوئی تو اس سے بہتر ہے کیونکہ آخرت کی فضیلت کے مستحق ہوگئے۔جب صبح ہوئی تو خنساء رضی اللہ عنہ کے چار بیٹے میدان جنگ میں کود پڑے ۔حضرت خنساء رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو میدان جنگ میں بھیج کر اللہ کے حضور دعا فرمائی“ الٰہی، میری متاعِ عزیز یہی ہے اب یہ تیرے سپرد ہے”۔جب خنساء رضی اللہ عنہ کے چاروں بیٹے، جو اُن کی ضعیفی کا سہارا تھے ۔میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوگئے ۔جب حضرت خنساء نے اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنی تو بارگاہِ رب العزت میں سجدہ ریز ہوگئیں اور کہنے لگیں“ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ شرف عطا کیا کہ میرے چار بیٹے راہ خدا میں شہید ہوگئے ۔اللہ سے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان بچوں کے ساتھ اپنے سایہء رحمت میں جگہ دے گا ”۔
قوموں کو مٹانے والی
قوموں کو بنانے والی
ایک عورت ( جو مشہور افغان حکم راں احمد شاہ ابدالی کی والدہ) کو خبر ملی کہ احمد شاہ ابدالی مرہٹوں کے خوف سے پشاور میں ایک قلعہ تعمیر کرنا چاہ رہے ہیں تو وہ فوراً احمد شاہ ابدالی کو دربار سے بلا بھیجتی ہیں اور پر وقار انداز میں کہتی ہیں،“ کاش! میں تجھ جیسے بیٹے کو جنم نہ ہی دیتی، کاش! میں نے اپنا دودھ تجھ کو نہ پلاتی، کیا اس روز کے لیے تجھے پالا پوسا تھا کہ ہندوستان سے مرہٹوں کے خوف سے تم یہاں قندھار میں ایک قلعہ تعمیر کرو، تاکہ تم اس قلعے میں چھپ کر بیٹھ سکو، تمہیں تو چاہتے تھا کہ یہاں جس مہم کی خاطر آئے تھے اس کے لیے پہلے ہندوستان جاتے اور مرہٹوں کی کمر توڑ کر واپس آتے، نہ کہ یہاں بیٹھ کر پیش بندیاں کرتے”۔اسی کا نتیجہ تھا کہ احمد شاہ ابدالی اپنے لشکر کے ساتھ ہندوستان آکر مرہٹوں کو شکستِ فاش دی۔
جس نقشے پر بھی چاہیے
نسلوں کو اٹھانے والی
ایک غریب بیوہ خاتون جس کا اکلوتا بیٹا اس کی بیوگی کا واحد سہارا، جب دین و دولت سے مالا مال ہوکر برسوں بعد وطن واپس ہوتا ہے تو وہ کہتی ہیں کہ“ بیٹے! میں نے تجھے یہ دنیا کے لیے کب بھیجا تھا ۔تمہارا یہ مال و دولت کے ساتھ واپس آنا نہایت افسوسناک ہے، کل تک تو مکہ سے ناداری و غربت کی حالت میں گیا تھا ۔دو پرانی چادریں جو میں نے تجھے دی تھیں، اس کے سواء کچھ نہیں تھا ۔تیرا شوق میری آرزو تھی کہ تو علم و دین کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس
آئے ۔ اب تم دنیا کی دولت سے مالا مال ہو کر آئے ہو کہ چچازاد بھائی تم پر رشک کریں ۔” ماں کی نصیحت پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا تمام مال راہ خدا میں خرچ کردیئے ۔آخر میں جب ایک باندی کو ہاتھ سے گرا ہوا کوزہ اٹھا کر دینے پر اُس باندی کو پانچ دینار دینا چاہا تو ماں نے پوچھا کہ، بیٹا! کیا تمہارے پاس یہی پانچ دینار ہیں؟ بیٹے نے جواب دیا، اماں اور دس دینار میں نے اس لیے رکھ لئے کہ بعد میں ضرورت پڑنے پر کام آئیں ۔اس پر وہ کہنے لگیں، بیٹا! تم پر تعجب ہے اور بہت ہی افسوس ہے کہ تم کو ان دس دیناروں پر اس قدر بھروسہ ہے، جس ذات نے یہ دولت تجھے دی ہے جو سب کچھ دیتا ہے اس پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے؟ فوراً سارے دینار نکال کر اس باندی کے حوالے کردو، وہ ہمارے نسبت ان کی زیادہ مستحق ہیں ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فوراً حکم کی تعمیل کی اس پر ماں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہنے لگی بیٹے ۔۔۔ہم اسی حال میں گھر میں داخل ہو رہے ہیں جس حال میں تم علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے تھے ۔ آج میرے گھر میں وہ روشنی ہوگی جو آج سے پہلے کبھی نہیں تھی ۔بیٹے! اللہ نے تم کو علم کا نور عنایت کیا ہے ۔یہی اصلی روشنی ہے ۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ نور دنیا کی فنا ہونے والی آسائشوں اور راحتوں سے دھندلا یا کم ہوجائے ۔ بیٹے! تمہیں یاد ہوگا جب تم علم دین حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے تو میں نے تمہارے لیے دعا کی تھی کہ اللہ تم کو علم کے آسمان کا سورج بنادے۔جس کی روشنی سے سارا عالم روشن ہوجائے ۔ آج اللہ کے فضل سے تم کو یہ مقام حاصل ہوچکا ۔ الحمداللہ ۔۔اب ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ دنیاوی مال و دولت کے بادل اس سورج کی روشنی کے آگے اس کو مدھم یا ختم کردے ۔ جس کے نتیجے میں دنیا سنت کی روشنی سے فیض یاب نہ ہو سکے۔
گر رنج نہ ہو تو صاف کہوں
یہ تم ہی تو تھیں کیا بھول گئیں
شعلوں کو دیکھ کر خوش ہیں کہ آپ نے ماحول کو روشن کردیا… اس روشنی نے آپ کی آنکھوں کو چکا چوند کردیا ۔ جس کی وجہ سے آپ دیکھ نہیں پارہی ہیں کہ آپ کا کیا کچھ اس آگ میں جل رہا ہے ۔ آپ کی نسوانیت جل رہی ہے آپ کا وقار جل رہا ہے آپ کی ممتا جل رہی ہے آپ کی پہچان جل رہی ہے آپ کی شخصیت جل رہی ہے… بلکہ آپ کا ذہن ماؤف ہوگیا ہے، آپ بھول گئیں کہ آپ کیا ہیں… میں یاد دلاؤں کہ آپ کیا ہیں ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۱