گوشۂ تنہائی مسکن ہے تیرا بھی
ایک کانچ کی بنی میز پر پہلے گلدان رکھا جاتا ہے پھر جگ اور گلاس رکھا گیا،پھر کچھ کتابیں رکھ دی گئیں اور بڑھتے بڑھتے اتنا بوجھ بڑھ گیا کہ وہ وزن کی وجہ سے تڑک گیا کسی کو پتہ نہ چلا اور ایک دراڑھ سے دوسری اور دوسری سے تیسری بڑھنے لگی اب وہ خستہ حال تھی ایک دن ٹوٹ گئی ، ٹوٹی میز کی کرچیاں ڈسٹ بین کی نذر ہوگئیں ۔ والدین کی مثال بھی تو ایسی ہی ہے پہلے ایک بچے کو سنبھالتے ہیں پھر دو کو اور بچوں کو بڑا کرکے زندگی کے قابل بنانے تک تو وہ کمزور ہوجاتے ہیں میز تو خیر مادی چیز تھی اس لیے گھر والوں نے ٹوٹی میز کو بدلنے کا سوچ لیا کرچیاں سمیٹیں گئیں اور کوڑے دان کے حوالے کردیں گئیں ۔مادی چیز کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے لیکن یہ رویہ اب لوگ اپنے ناتواں بوڑھے والدین کے ساتھ بھی روا رکھتے ہیں کچھ والدین اعلی الاعلان تنہا کردئیے جاتے ہیں اور بعض کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے ۔قرآن نے ہر انسان کو اسی لیے احسان کی تلقین کی ہے۔
’’ھل جزاء الاحسان الا الاحسان ‘‘لیکن میز کی بکھری کرچیوں کی طرح بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو گزرتے لمحوں کی یادوں کے سہارے اپنے والدین کے شکر گزار ہوتے ہیں ان کو ہیروں کی طرح سنبھال کر رکھتے ہیں۔اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ان کے لئے دعا کرتے ہیں وہ اپنے رب سے کہتے ہیں
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
لیکن کچھ بد نصیب ایسے بھی ہیں جن کو بوڑھے والدین کی روک ٹوک کرچیوں کی مانند چبھتی ہے، ان کی ناتوانی انہیں نظر انداز کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ اور عملاً ان کو زندگی سے بے دخل کر دیتے ہیں۔یاد رکھیں اس ٹوٹی میز کی مانند ایک دن آپ بھی خستہ حال ہوچکے ہونگے اور کوئی ویران گوشہ آپکا مسکن ہوگا۔ اسلئے اپنے ماں باپ کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھیں ۔ا ن کو دل سے قبول کریں۔اپنے بچوں کو بزرگوں کی شفقت کے سائے میں پھلنے پھولنے دیں ,انہیں اپنی زندگی کا بوجھ نہ تصور کریں۔جس نے اپنے ضعیف والدین کو بوجھ سمجھا،انکی ناقدری کی،گزرتا وقت اسکے بھی تعاقب میں ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے