استقبالِ رمضان
زمرہ : النور
اہمیت معلوم ہوتو جدّوجہد آسان ہوجاتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت نہیں معلوم ہو تو ماہانہ فیس نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بوڑھے والدین کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو تو ان کا وجود بار ہوجاتا ہے۔ پردے کی اہمیت سے ناواقف ہوں تو وہ قید و بند نظر آتا ہے۔ دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے ناواقفیت ہو ںتو روزہ ،نماز ہی کافی لگتا ہے۔
ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ آئیے کلامِ ربّانی کی روشنی میں اس کی اہمیت کو سمجھیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞( البقرة:185)

’’رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘
اس آیت میں روزے کی فرضیت کا ذکر نہیں ہے، کیوں کہ وہ تو اس سے قبل کی آیات 183 اور 184 میں گزر چکا ہے۔ یہاں تو اس ماہِ مبارک کی اہمیت کا ذکر ہے، جس میں روزے رکھنا ہیں۔
اس میں پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ وہ مبارک مہینہ ہے، جس میں قرآن پاک نازل ہوا۔ سورۃ القدر میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن ہم نے قدر کی رات میں نازل کیا ہے۔ سورہۃ الدخان میں فرمایا ہے کہ اس کو ہم نے مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ یہ وہ مبارک رات ہے ،جس کو قدر کی رات کہا گیا ہے۔ یہ ماہ رمضان کی رات ہے۔ جس میں یہ مبارک کتاب نازل ہوئی ہے۔ اس کی برکت کے کیا کہنے، جس رات میں یہ نازل ہوئی وہ شب قدر ہوگئی۔ جس ماہ میں یہ نازل ہوئی، وہ ماہ مبارک ہوگیا۔ اسے جبریل امینؑ لے کر آئے، جو فرشتوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔یہ کتاب رسول اکرمؐ پر نازل ہوئی،جو انسانوں میں سے برگزیدہ اور مصطفیٰ تھے۔ قرآن میں لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ ہدایت کا لفظ اس آیت میں دو مرتبہ آیا ہے۔ پہلے لفظ سے مراد عام ہدایت ہے، یعنی عام لوگوں کے لیے ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہ ہو ۔جس کا اعتراف کٹر سے کٹر دشمن بھی کرلے اور دوسری وہ ہدایت ہے جس کی کھلی دلیلیں بھی بیان کردی گئیں ہیں ،جس کو عقل تسلیم کرتی ہے۔خوش نصیب قبول کرلیتے ہیں اور بدنصیب انکار کردیتے ہیں۔اور فرقان بھی ہے، یعنی حق اور باطل کے درمیان، اندھیرے اور روشنی کے درمیان، ذلالت اور ہدایت کے درمیان امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں بھی ہیں۔
آپ نے سفر کو کامیاب بنانے کے لیے ایک بیگ میں نقشہ رکھا ہو، ٹارچ رکھی ہو، مختلف مقامات سے متعلق جمع شدہ معلومات کی ڈائری رکھی ہو وغیرہ ۔ بلکہ موجودہ زمانے کے اعتبار سے یہ کہیں کہ اسمارٹ فون رکھا ہو تو کیا آپ اس کو چھوڑ کر سفر کا ارادہ کرسکتے ہیں؟کیا اس کو بھول جانے پر سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں؟ نہیں اس لیے کہ آپ کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔
آخرت کے سفر کے لیے یہ تمام ضروری چیزیں اس قرآن میں ہیں، جو رمضان میں نازل ہوا ہے۔ اس عظیم احسان کی یاد تازہ رکھنے اور اس پر شکر گزار ہونے کے لیے اور اس کی برکتوں کو سمیٹنے کے لیے رمضان کے مہینے میں روزے فرض کئے گئے ہیں۔
ہم بار بار استقبالِ رمضان کا لفظ سنتے ہیں۔ ہاں یہ ماہِ رمضان بھی تو مہمانوں کی طرح سال میں ایک بار آتا ہےاور سخاوت و فیّاضی کا دریا بہاتا جاتا ہے۔ اس مبارک و مکرّم مہمان کا پرجوش استقبال ہونا ہی چاہیے۔
جس کو اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہے، وہ پہلے ہی سے تیاری کرلیتے ہیں اور مہمان کے آنے پر زیادہ وقت اس کے ساتھ گزارتے ہیں۔ وہ میزبانوں کی جھولی انمول دولت سے بھر دیتا ہے۔ جو اس کی قدر و قیمت سے واقف نہیں ہیں، وہ اپنے خالی جھولوں کا تکیہ بنائے سوتے رہتے ہیں۔ جو پہلے سے تیاری نہیں کرتے، ان کے پاس وہ مہمان آکر چلا جاتا ہے۔ وہ اپنا گھر سجاتے رہ جاتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں، مگر مستفید کم ہوتے ہیں۔
’’فَمن شَھِدَ مِنکُمُ الشَّھرَ ‘‘یعنی جو تیار ہوکر اس ماہ کا استقبال کرتا ہے، وہ روزہ رکھے۔ روزہ صرف پیٹ کا نہیں، پورے جسم کا۔صرف حلال کا نہیں، حرام کردہ چیزوں کا بھی۔ ایسا نہ ہو کہ ایک گھونٹ پانی سے بھی خود کو محروم کردے اور پھر فحش ویڈیو ، فحش گانے اور چغلی، غیبت سے اپنا روزہ کھول لیں، بلکہ توڑ لیں۔ اس ماہ کو اس کے تقاضوں کے ساتھ پورا کریں ۔
جو مریض یا مسافر ہے، وہ کیا کرے؟ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے۔ آپ کے لیے آسانی اور سہولت فراہم کرتا ہے۔تو مریض یا مسافر دل سے تعلق رکھے۔ شوقِ اجر اور ثواب سے معمور رہے اور رخصت کا استعمال کرتے ہوئے روزے بعد میں رکھے۔
کتنی مہربانی اور رہنمائی سے بھر پور ہے یہ کتاب۔ یہ قرآن جس کے شکرانے پر ہم روزہ رکھتے ہیں۔ یہ ہے اس ماہ کی اہمیت۔ اس کا اندازہ ہونے کے بعد کیا کسی کو روزہ رکھنا مشکل لگے گا؟ کیا کسی پر بھوک پیاس گراں گزرے گی؟
ایک تو نعمت،ایک تو نعمت پر نعمت اور اس کا اجر و شکر ادا کرو تو اس پر اجر ہی اجر اور ثواب ہی ثواب۔ ایک ایک نیکی کا دس ہزار گنا تک۔ بلکہ بے حساب و کتاب۔ روزے کا ثواب تو بغیر کسی پیمانے کے بے حساب ملنے والا ہے۔ یہ آیات ہم کو قرآن و ماہِ قرآن کی اہمیت اور فضیلت بتاتیں ہیں ۔ اس کے بعد ہی بندے اور اللہ کے مضبوط تعلق کا ذکر آتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ میں بہت قریب ہوں۔ دعا مانگنے والے کی دعا سنتا ہوں ۔ پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ فریادی کی فریاد سنتا ہوں۔ مجھے اور میرے بندوں کے درمیان کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ بندے میری بات سنیں، مجھ پر یقین رکھیں ، یہی ان کی ہدایت کا واحد راستہ ہے ۔
یہ آیتیں ہم کو روزے کی فرضیت کے ساتھ قرآن پاک کی منزلت و مقام اور ماہِ رمضان کی اہمیت بتاتیں ہیں ۔ تاکہ ہم اس قیمتی موقع سے کما حقّہ فائدہ اٹھا سکیں۔ اپنے رب سے قریب ہوں، خود کو اس کی سجائی ہوئی جنّتوں کا مستحق ثابت کردیں اور اس کی نعمتوں پر شکر گزار ہوں اور اس کی نا شکری سے بچیں۔ یہ مبارک مہینہ اب ایک سال بعد ہی نا دوبارہ آئے گا ۔ پتہ نہیں اس وقت مہلتِ عمر رہے نہ رہے۔
اس لیے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اپنے آپ کو ابھی سے روزے اور تلاوت کا عادی بنائیں۔ کثرت سے تلاوت کریں ۔ تاکہ رمضان میں مشکل نہ لگے۔ عید کی خریداریاں اور صفائیاں رمضان المبارک سے پہلے کرلیں۔ آسان پکوان کی فہرست بنا کر تیار کرلیں ۔ کچن میں بہت زیادہ وقت نہ لگائیں ۔ دعوتوں کے بجائے کھانا پارسل کرنے کو ترجیح دیں۔ افطار کرانے کا ثواب بہت ہے، مگر دعوتوں کی شکل میں آپ کی تراویح ، تہجد اور تلاوت متأثر نہ ہوں ۔
کچن کا کام، افطاری کی تیاری، یہ سب ثواب کا ذریعہ ہے۔ مگر بہت زیادہ وقت لگانا،نئے پکوان کی مشق کرنا، رنگ برنگے کھانے تیار کرنے کی کوشش، آپ کے مہمان سے مستفید ہونے میں مانع ہوسکتی ہے ۔ پھر کفِ افسوس نہ مَلنا کہ میں تیاریوں میں مصروف تھی اور مہمان آکر چلا بھی گیا۔

’’فَمن شَھِدَ مِنکُمُ الشَّھرَ ‘‘
یعنی جو تیار ہوکر اس ماہ کا استقبال کرتا ہے، وہ روزہ رکھے۔ روزہ صرف پیٹ کا نہیں، پورے جسم کا۔صرف حلال کا نہیں، حرام کردہ چیزوں کا بھی۔ ایسا نہ ہو کہ ایک گھونٹ پانی سے بھی خود کو محروم کردے اور پھر فحش ویڈیو ، فحش گانے اور چغلی، غیبت سے اپنا روزہ کھول لیں، بلکہ توڑ لیں۔ اس ماہ کو اس کے تقاضوں کے ساتھ پورا کریں ۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے