کیٹالین نوواک ہنگری کی پہلی خاتون صدر

آئے دن ہماری نظروں کے سامنے ایسی خواتین رونما ہو رہی ہیں، جن کے اپنے کاموں، ہمت، حوصلہ اور جذبوں کی وجہ سے دنیا میں ہمارے لیے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
ایسی ہی ایک خاتون ہیں کیٹالین نوواک، جن کو ہنگری کی پہلی خاتون صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم وکٹر اوربان کی قریبی ساتھی کیٹالین نوواک (ینگ ڈیموکریٹس-سوک یونین کا اتحاد،FIDESZ-MPSZ)کو 10 مارچ کو ہنگری کی پارلیمنٹ کے سنگل چیمبر Orszaggyules کے اراکین نے جمہوریہ ہنگری کا صدر منتخب کیا۔
انہوں نے اس الیکشن میں 137 ووٹ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے حریف، یونائیٹیڈ فار ہنگری (UH) کی امیدوار، چھ(6) اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد (سوشلسٹ پارٹی ۔MSZP)، ڈیموکریٹک کولیشن (DK)، پارٹی آف ڈائیلاگ (PM)، ڈوئنگ پولیٹکس ڈیفرنٹلی-گرین پارٹی

(LMP) ، Momentum and the Movement for a Better Hungary (Jobbik)

پیٹر رونا، ایک ماہر معاشیات نے صرف 51 ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے جانوس ایڈر کی جگہ سنبھالی، جو 2012 سے اس عہدے پر فائز تھے۔
کیٹالین نے حال ہی میں خاندانی پالیسی کے وزیر کے طور پر کام کیا اور پھر بروز جمعرات اپنے انتخاب کو خواتین کی جیت کے طور پر پیش کیا۔ کیٹالین نوواک کا کہنا ہے کہ وہ ہنگری کی آبادیاتی کمی کو روکنا چاہتی ہیں، جس مشن کی وہ بطور وزیر 2014سے قیادت کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہے: ’’ہم خواتین بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بیماروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، کھانا پکاتی ہیں، ضرورت پڑنے پر دو جگہ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں، روزی کماسکتی ہیں، پڑھ سکتی ہیں اور پڑھا بھی سکتی ہیں اور نوبل پرائز حاصل کر سکتی ہیں۔ ‘‘
ویب سائٹ انڈیکس کو انٹرویو دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ: ’’کٹھ پتلی نہیں بنیں گی‘‘ کہ وہ ’’قومی اتحاد کا دفاع کریں‘‘ اور وہ ’’قانون کی حکمرانی کو ختم کرنے کی حمایت کبھی نہیں کریں گی۔ ‘‘
ہنگری کی اب تک کی سب سے کم عمر 44 سالہ سربراہ مملکت نے کہا: ’’ہم الفاظ کی طاقت جانتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں خاموش رہنا پڑے اور سننا پڑے اور اگر خطرہ لاحق ہو تو مردوں کے مقابلے میں ہمت کے ساتھ اپنے خاندانوں کا دفاع کر سکتے ہیں۔یہ اس لیے ہے کہ میں ایک عورت ہوں اور اس لیے نہیں کہ میں ہنگری کی ایک اچھی صدر بننا چاہتی ہوں۔ ‘‘
اس سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی، اپنے شوہر اور اپنے تین بچوں کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے لیے یہ بات بہت معنی رکھتی ہے کہ یہاں میرا خاندان میرے ساتھ ہے۔‘‘
وکٹر اوربان کی طرف سے 22 دسمبر 2021 کو مقرر کیا گیا۔ کیٹالین نوواک نے فوری طور پر وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نےکہا:’’ہنگری کی نمائندگی کرتے ہوئے پوری قوم کی خدمت کر رہی ہوں۔ میں اس مشکل کام کے لیے اپنے پورے ایمان، دل اور دماغ کے ساتھ تیاری کر رہی ہوں۔ ‘‘ تاہم، کٹالین نوواک وکٹر اوربان کی پہلی پسند نہیں تھیں، کیوں کہ وہ قومی اسمبلی کے صدر لاسزلو کوور کو اس عہدے کے لیے منتخب ہوتے دیکھنا چاہتے تھے، لیکن مؤخر الذکر نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
کیٹالین نوواک کی عمر 44 سال ہے اور انہوں نے سیزڈ یونیورسٹی سے قانون میں اور بوڈاپیسٹ کی کورونس یونیورسٹی سے معاشیات میں گریجویشن کیا۔ 2001اور 2003 کے درمیان وہ وزارت خارجہ میں اتاشی تھیں۔ کئی سالوں تک، انہوں نے خود کو اپنے تین بچوں کے لیے وقف کر دیا۔
جرمنی اور امریکہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔ ہنگری میں واپس وہ 2010 میں وزیر خارجہ کی مشیر بنیں اور پھر 2012 میں انسانی وسائل کے وزیر کی کابینہ کی سربراہ بنیں۔ انہیں 2014 میں فیملی اور یوتھ کے لیے اسٹیٹ سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس عہدے پر وہ 2020 تک فائز رہیں۔
اب کٹالین نوواک 2017 سے FIDESZ-MPSZ کی نائب صدر ہیں۔ 2019 سے، وہ’’ پولیٹیکل نیٹ ورک فار ویلیوز ‘‘جو ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، روایتی خاندانی ماڈل اور مذہبی آزادی کا دفاع کرتی ہیں اور اس کی چیئر ہیں۔
خاندانی امور کے وزیر کی حیثیت سے، کیٹالین نوواک نے بڑے خاندانوں کے لیے مدد فراہم کی ہے اور اس پالیسی کی بدولت، 2010 سے ہنگری کی شرح پیدائش میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ’’ہمیں مہاجروں کی بجائے بچے چاہیے‘‘ اور “یورپ خالی جھولوں کا براعظم ہے‘‘ یہ ان کے چند صدمے والے جملے ہیں۔ 2015 سے، وہ بوڈاپیسٹ میں ہر دو سال بعد آبادیاتی سربراہی اجلاس کا اہتمام کرتی ہیں۔
کیٹالین نوواک 10؍ مئی کو جمہوریہ ہنگری کے صدور کی سرکاری رہائش گاہ سینڈور پیلس میں شامل ہوں گی۔ وہ ہنگری میں ریاست کی سربراہ منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہیں اور ملک کی اب تک کی سب سے کم عمر سربراہ مملکت بھی ہیں۔

’’ہم خواتین بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بیماروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، کھانا پکاتی ہیں، ضرورت پڑنے پر دو جگہ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں، روزی کماسکتی ہیں، پڑھ سکتی ہیں اور پڑھا بھی سکتی ہیں اور نوبل پرائز حاصل کر سکتی ہیں۔ ‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے