رمضان پلانر
اکابرین کے تعلق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رجب کا چاند دیکھ کر وہ’’اللہم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان‘‘دعا مانگا کرتے تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ شعبان ہی سے رمضان کی تیاری کرنا چاہیے۔ نبی کریمﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے:’’خدا سب سے بڑا ہے۔ خدایا یہ چاند ہمارے لیے امن وہ ایمان و سلامتی اور اسلام کا چاند بنا کر تو فرما اور ان کاموں کی توفیق کے ساتھ جو تجھے محبوب اور پسند ہیں۔ اے چاند ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے ۔‘‘(ترمذی)۔
انگریزی کا مشہور قول ہے:
‘‘If we are failing to plan , then we are planning to fail’’
’’اگر ہم منصوبہ بنانے میں ناکام ہوتے ہیں، اس کا مطلب ہم ناکامی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘‘
آئیے رمضان المبارک کے حوالے سے ہم اپنا plan بناتے ہیں، اس خوش خبری کو حاصل کرنے کے لیے جس کے بارے میں آپؐنے فرمایا:’’ جس شخص نے ایمانی کیفیت اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا تو خدا اس کے ان گناہوں کو معاف فرمادے گا، جو پہلے ہو چکے ہیں۔‘‘
رمضان plannerکے تحت میں نے اپنی کچھ planning کو 3 dimention میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلث کے پہلےvertex A کو میں نے کچن کا نام دیا ہے۔دوسرے vertex B کو shopping کا اور
تیسرے vertex C کو عبادت کا نام دیا ہے۔ کچن اور شاپنگ سے فارغ ہوکر ہم اپنی عبادت میں مطلوبہ خشوع و خضوع حاصل کر سکتے ہیں۔
A۔کچن:
1۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہمیں پورے گھر کی صفائی کر لینی ہے،خصوصاً کچن کی صفائی۔
2۔اناج راشن اور ضروری اشیاء منگا کر ترتیب سے رکھ لینا ہے۔
3۔ادرک، لہسن اور مسالے وغیرہ پیس کر freez میں جمع کر لینا ہے ۔
4۔ہماری خادمائیں ہماری مددگار ہیں اور ہمیں بھی ان کے لیے مدد گار بننا ہے۔ ہمیں خیال رکھنا ہے کہ ہمارے کچن کے ساتھ ساتھ دوسرے ضرورت مندوں کا بھی ہماری استطاعت کے حساب سے کچھ انتظام ہو جائے ، کیوں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:’’ رمضان مواساۃ کا مہینہ ہے۔
( یعنی غریبوں اور حاجت مندوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔ ہمدردی سے مراد مالی ہمدردی بھی ہے اور زبانی ہمدردی بھی ہے۔ )
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سخی اور فیاض تو تھے ہی، مگر رمضان میں تو آپ کی سخاوت بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ ان دنوں نبیﷺ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے۔ ‘‘
5۔پکوان کے تعلق سے خاص پلان کرلیں کہ سحری میں کیا پکانا ہے اور افطار میں کیا؟تاکہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو۔
6۔پڑوس،رشتہ دار اور حاجت مندوں میں افطاری بھیجنا بہت اجر حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺکا ارشاد ہے: ’’ جو شخص رمضان میں کسی کا روزہ کھلوائے تو اس کی صلے میں خدا اس کے گناہ بخش دے گا اور اس کو جہنم کی آگ سے نجات دے گا۔ ‘‘
افطاری کے لیے ہماری مالی اور جسمانی استطاعت کو مدنظر رکھنا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بہت زیادہ پکوان اور اہتمام کے چکر میں ہم تھکن کا شکار ہو جائیں اور ہماری عبادت متأثر ہو جائے ۔ نیت خالص اللہ کی رضا ہو۔ ہم پہلے ہی طے کر لیں کہ کس کو افطاری میں پھل میوے بھیجنا ہے اور کس کو گھر کے بنے پکوان۔
خصوصی وقت طلب پکوان، مثلا حریس وغیرہ خصوصی ایام ( ایام حیض)میں پکائیں تاکہ روزوں میں غیر ضروری حرارت نہ ہو جائے اور ہم اطمینان و سکون سے اجر بھی حاصل کر سکیں۔ عیدکے لیے شیر خورمہ کے لیے ڈرائی فروٹس وغیرہ کے تراشنے کا کام بھی ہم ان ایام میں کرسکتے ہیں۔
7۔افطار کے وقت دسترخوان ترتیب دینا ، فروٹس کاٹنا ،شربت بنانا وغیرہ کام ہم اپنے بچوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، تاکہ انہیں بھی ذمہ داری کا احساس ہو اور ہماری بھی مدد ہوجائے۔ اس کام پر بچوں کے لیے انعام بھی رکھا جاسکتا ہے اور آخرت میں اللہ سے انعامِ جنت کا یقین بھی دلایا جا سکتا ہے۔
8۔ہم خواتین نہ صرف kitchen queen ہیں، بلکہHome Minister اور Health minister ہیں۔ گھر کے تمام افراد کی صحت ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم انہیں کیسی خوراک کھلاتے ہیں اور اس کا اثر ان کی جسمانی اور روحانی صحت پر کیسا ہوتا ہے؟اس کا ہمیں خوب علم ہونا چاہیے۔ بہت زیادہ مرغن غذائیں صحت اور روزے کو خراب نہ کر دیں، لہٰذا ہمیں متوازن غذا( balance diet )کا اہتمام کرنا ہوگا ۔جس میں سبزی، دالیں، گوشت اور تیل مناسب مقدار میں موجود ہو۔
رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہے۔ رمضان کے اختتام پر کہیں ایسا نہ ہو کہ تقویٰ کی بجائے کولیسٹرول بڑھ جائے..!
B۔شاپنگ:
عام طور سے یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بازار گرم ہونے لگتے ہیں۔ ریگیولر مارکیٹ کے علاوہ خصوصی دکانیں لگتی ہیں۔ نئے نئے ڈیزائنز اور اسٹائل کے ملبوسات متعارف ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے
ہم قرآن مجید، مختلف تفاسیر ،بچوں کے لیے موٹے حروف والے پارے ،تسبیح ، مسنون دعاؤں کی کتابیں رکھ دیں۔ تاکہ کتابیں ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ ہو ۔ ہم اپنے لیے بھی اور اپنے بچوں کے لیے بھی کچھ ٹارگیٹ بنا لیں کہ اس رمضان المبارک میں کون سی سورتیں اور کون سی دعائیں یاد کرنا ہے۔ ان دعاؤں کو بڑے چارٹ پر رنگین پین سے خوش خط لکھ دیں اور دیوار پر آویزاں کردیں۔ بچوں کو بڑا خوش نما لگے گا اور یاد کرنے میں بھی دلچسپی پیدا ہوگی۔
آخری عشرے میں بازار کی چکاچوند اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ شاپنگ کے لیے سال بھر کئی آفر آ سکتے ہیں ، نیکیوں کی خریدی کے لیے ہم پر آفر صرف اور صرف رمضان المبارک ہی میں ہے۔ حدیث میں ہے کہ خدا رمضان میں عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ رکھنے والوں کی دعاؤں پر آمین کہو۔ پھر کیوں ہم اس آفر کو نظر انداز کر دیں؟
یہ بھی ایک غلط فہمی ہوتی ہے کہ دوپہر میں پکوان تو کرنا ہے نہیں ، پھر کیوں نہ شاپنگ کرلی جائے ؟آپؐنے ارشاد فرمایا: ’’ دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کر کے قیام لیل میں سہولت حاصل کرو اور سحری کھا کر دن میں روزے کے لیے قوت حاصل کرو۔ (ابن ماجہ )
ضروری نہیں کہ ہمارا عید کا ڈریس بہت قیمتی اور نئے طرز کا ہو۔عید کے لیے بس نیا ہو، یہ کافی ہے۔ اس کے لیے ہم رمضان المبارک سے قبل شعبان میں اپنے اور بچوں کی شاپنگ کر لیں۔
C۔عبادت:

در منثور میں ہے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو نبی کریمﷺ کا رنگ بدل جاتا تھا،نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا، دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف بہت زیادہ غالب ہوجاتا تھا۔
رمضان المبارک سے قبل شعبان میں ہی ہم اپنے گھر کے فرنیچر کی سیٹنگ چینج کر لیں۔ گھر کے کسی ایک کمرے کوجو کشادہ ہو، بطور مسجد بنا لیں۔ وہاں صاف ستھرا فرش کر دیں تاکہ ہم اپنے افراد خانہ کے ساتھ نماز باجماعت ادا کر سکیں۔جس کا جی چاہے وہ یہاں آ کر نوافل پڑھے اور خوش الحانی کے ساتھ تلاوتِ قرآن کرے۔بچوں کی تربیت کے لیے بھی یہ ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتاہے۔
مسجد کی صفائی کے تعلق سے کئی احادیث ہیں۔ ’’مسجد میں جھاڑو دینا، مسجد کو پاک صاف رکھنا، مسجد کا کوڑا کرکٹ پھینکنا، مسجد میں خوشبو لگانا، جنت میں لے جانے والے کام ہیں۔(ابن ماجہ ) دوسری حدیث ہے :’’مسجد کا کوڑا صاف کرنا، حسین آنکھوں والی حورکا مہر ہے۔‘‘(طبرانی)
ہم بچوں کو اس کے ذریعے مسجد میں داخل ہونے کے آداب سکھا سکتے ہیں۔ اس کی صفائی کے لیے کسی بچے کو ذمہ داری لگا سکتے ہیں اور بہترین کارکردگی پر اسے انعام دے سکتے ہیں۔
اس روم میں ہم قرآن مجید، مختلف تفاسیر ،بچوں کے لیے موٹے حروف والے پارے ،تسبیح ، مسنون دعاؤں کی کتابیں رکھ دیں۔ تاکہ کتابیں ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ ہو ۔ ہم اپنے لیے بھی اور اپنے بچوں کے لیے بھی کچھ ٹارگیٹ بنا لیں کہ اس رمضان المبارک میں کون سی سورتیں اور کون سی دعائیں یاد کرنا ہے۔ ان دعاؤں کو بڑے چارٹ پر رنگین پین سے خوش خط لکھ دیں اور دیوار پر آویزاں کردیں۔ بچوں کو بڑا خوش نما لگے گا اور یاد کرنے میں بھی دلچسپی پیدا ہوگی۔
ہر طاق رات کو شب قدر سمجھیں اور طے کر لیں کہ کون سی دعا کس طاق رات میں کرنا ہے۔ غیر ضروری فون کالز سے بچیں۔ ضروری فون کرنے کے لیے بھی وقت کا تعین کر لیں اور اپنے رشتے داروں کو بھی پیار سے بتا دیں ،تاکہ ہمارا بھی اور ان کا بھی وقت چاند اور رمضان کی مبارکبادیاں دینے اور لینے میں ضائع نہ ہو جائے۔
زکوٰۃ کا حساب بھی اس ماہ میں شامل رکھ سکتے ہیں۔ اللہ کرے آنے والا رمضان المبارک ہماری زندگی کا سب سے بہترین رمضان (تقویٰ کے حصول کا ذریعہ) ثابت ہو۔

1 Comment

  1. ڈاکٹر نسرین زبیری

    ماشا اللہ اچھی پلاننگ ہے ۔اللہ ﷻہم سب کو پیش کردہ تدابیر پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے