انسان جانور کب بنتا ہے ؟

طبی سائنس دانوں کے مطابق انسان اور جانور کے برتاؤ میں کچھ بنیادی فرق ہے۔سب سے بڑا فرق عقل/دماغ کا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی دماغ کاحجم تقریبا 2۔1 کلو گرام ہے، جب کہ ایک جانور(جسے Bottlenose Dolphins کہا جاتا ہے) کے علاوہ زیادہ تر جانوروں کے دماغ اس سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ جانوروں کی یاداشت بھی بہت مختصر ( Shor- term memory) اور محدود ہوتی ہے، اسی لیے ان کی فطرت میں نہ تو دردِ دل بانٹنے کی خو ہے، نہ انتقامی بغض و کینہ، نہ ضرورت سے زیادہ کل کی فکرمندی، نہ طویل حزن و ملال اور نہ رشک و حسد جیسے جذبات۔ لومڑی ہمیشہ لومڑی بن کر رہتی ہے۔ وہ ملمع چڑھا کر خود کو دوسروں کے سامنے شیر بن کر پیش کرنے میں زندگی برباد نہیں کرتی۔ اسی طرح شیر کے بچوں کو کبھی روباہی کی (لومڑیوں والی) ٹریننگ نہیں لینی پڑتی۔ وہ شیر ہی بن کر جینا اور مرنا چاہتے ہیں اور شیر ہی جیسے بڑے پن کے مزاج کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔ شیر کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑی محنت اور تگ و دو کے بعد اپنا پسندیدہ شکار کرکے اپنا پیٹ بھرتا ہے، لیکن وہ اسے کئی دنوں کا بندوبست سمجھ کر چھپا کر نہیں رکھتا، بلکہ اس کے بعد، کرگس سے لے کرلومڑی تک، جنگل کے دوسرے جانور راجہ کے شکار کیے ہوئے کھانے سے دعوتیں اڑاتے ہیں اور راجہ ان سے کوئی قیمت وصول نہیں کرتا۔ چیونٹیوں کے جمع کیے ہوئے ذخیرے پر برادری کے ہر فرد کا مشترک اور مساوی حق ہوتا ہے، کسی کو ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لیے الگ سے اپنا بینک بیلنس بنانے کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک شیر کو تنہا پاکر کبھی کبھی بھیڑیے اور جنگلی کتے بھی اس پر حملہ کردیتے ہیں اور جب اس دوران کوئی دوسرا شیر اتفاقاً اپنے بھائی کی مدافعت میں آ پہنچتا ہے تو وہ فوراً دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں دیکھا گیا ہے کہ وقتی مدبھیڑ کے بعد شیروں کا گروہ ان بھیڑیوں کو ان کی گستاخی کی سزا دینے یا انھیں نیست و نابود کرنے کے لیے ان پر فوج کشی کی منصوبہ بندی کرتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منصوبہ بند انتقامی کاروائی شیر کے فطری برتاؤ کا حصہ نہیں ہے۔
اسی طرح جب ہم اپنے پالتو جانوروں کو تربیت کی غرض سے سزا دیتے ہیں تو وہ کچھ دیر کے بعدہی ہماری سزا بھول جاتے ہیں اور دوبارہ آپ کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ ہم نے نہ کبھی دیکھا نہ سنا کہ وہ کسی تنبیہ کو اپنی بے عزتی سمجھ کر انسان کی اولادوں کی طرح گھر چھوڑ کر بھاگ گئے ہوں یا ناراض ہوکر کھانا پینا چھوڑے دیے ہوں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ جانور اپنے محدود دماغ اور انتھائی قلیل المیعاد یاداشت کے ساتھ اسی بنے بنائے فطری نظام پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن پر ان کی تخلیق ہوئی ہے۔
اس کے مقابلے میں انسان کی ساخت درد دل، صلہ رحمی، علت (Reason)اور معقولیت ( Logic and Rationality) پر مبنی ہے اور اپنی عقلی و دماغی صلاحیتوں کے بل پر ہی وہ اپنی دنیا کو ترقی دے کر اسے ثریا کا ہمسر بنانے میں لگا رہتا ہے، اسی لیے وہ احسن تقویم ہے۔ جب کہ جانور کچھ بنے بنائے فطری خصائل (Instincts) کے پابند ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ اپنی اسی غیر ارتقائی و غیر مسابقتی زندگی پر مطمئن رہتے ہیں۔ انسان کی مطلوب و مثبت ترقی کا انحصار بہت کچھ اس پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقلی و دماغی قوتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنی انسانی حیثیت کو کس حد تک بر قرار رکھ پاتا ہے۔
بات چلی تھی اس سوال پر کہ انسان جانور کب اور کیوں بنتا ہے؟ قرآن مجید نے انسانی اور حیوانی برتاؤ کے اس فرق کی نشان دہی چودہ سو سال پہلے کی ہے اور انسانی عقل کو ہی اس کا سبب قرار دیا ہے:

أَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَىٰهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيۡهِ وَكِيلًا (43) أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلاً
( الفرقان: 43-44)

’’کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں جنھوں نے اپنی ہوس کو ہی اپنا معبود بنا لیا ہے، تم بھلا ان کا ذمہ کیوں کرلے سکتے ہو۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں، وہ تو بس جانوروں کے مثل ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر ۔‘‘
یہ قرآن مجید کی دو آیات ہیں۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نےیہی پیغام مختلف اسلوب و کلمات میں مختلف مقامات پردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ تنبیہی آیات ہیں جن پر پہنچنے کے بعد سطح زمین پر رہنے والا اور ایک زندہ قلب و جگر رکھنے والا انسان جو ابھی قبروں میں نہ پہنچا ہو، کا چونکنا لازم ہے۔ کسی کا نام اور اس کی قومیت کچھ بھی ہو، اگر قرآن مجید کی اس طرح کی آیات پر وہ سنجیدگی سے نظر ڈالے تو وہ میری طرح ایک بار ضرور سوچے گا اور سوچے گا ہی نہیں بلکہ چوں کے گا کہ آخر انسان کی ہوس کا وہ کون سا روپ ہے جس کی وجہ سے وہ انسانی عقل سے سوچنا اور انسانی دل سے دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے؟ اور جانور ہی نہیں ان سے بھی بد تر ہو جاتا ہے؟
قرآن نے بعض مواقع پر اس کی وجہیں بھی بتائی ہیں، جس میں سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ’’ان کے پاس دل ہوتے ہیں، لیکن وہ ان کی مدد سے سمجھتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہوتی ہیں، لیکن وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہوتے ہیں، لیکن وہ ان سے سنتے نہیں ہیں (الاعراف174:)۔ اس طرح وہ جانوروں سے بھی کم تر اور بدتر (اضل) ہوجاتے ہیں اور ادنی ترین (اسفل سافلین ) درجے پر پہنچ جاتےہیں۔ انسان سے جانور بننے کی سب سے بڑی علامت یہی ہے۔ یعنی اپنی اس خصوصیت کو کھو دینا جس کی وجہ سے انسان دیگر حیوانوں سے ممتاز مانا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے عمل سے پستی کی اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے حواس خمسہ کا عام جانوروں کی طرح صحیح استعمال بھی بھول جاتا ہے۔
یاد رکھیں یہ آیات سب کے لیےیکساں طور سے غور فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ اس میں مسلم و غیر مسلم اور تحریکی و غیر تحریکی، عوام اور ائمہ سب برابر کے مخاطب ہیں۔ البتہ ان میں اس کا بھی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اور ہر طبقہ اپنی اپنی حیثیتوں کے ساتھ ان پر غور کرنے کا حق ادا کرے۔ اس کے مطابق کم سے کم ایک حیثیت میں سب برابر ہیں۔ یعنی سب انسان ہیں، سب مسجود ملائک ہیں اور سب کو عقل کی خاص نعمت سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے انسان سے جانور بن جانے کا خطرہ بھی سب کو یکساں طور سے لاحق رہتا ہے۔ یہ آیات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ عام انسان اس بات پر غور کرے کہ کب کب اور کن وجہوں سے وہ انسان سے جانور یا غیر انسان بن سکتا ہے اور وہ جو کچھ مذہب ، آستھا، عقیدہ، رسم آباء یا نسل پرستی و قومیت کے نام پر کرتا ہے، اس کی عقل اس کی کس حد تک تائید کرتی ہے اور اس کا رویہ خود اس کی عقل کے نزدیک کتنا معقول(logical) ہے؟
مسلمان اس بات پر غور کرے کہ وہ کیا چیزیں چھوڑ نے یا کرنے سے مسلمان ہوتے ہوئے بھی نہ تو مسلمان رہتا ہے اور نہ ایک کامل انسان اور اس طرح وہ ایک نہیں بلکہ اپنی دو عظیم حیثیتوں سے اپنے کرتوں کی وجہ سے خود ہی دست بردار ہوکر جانوروں سے بھی نچلی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
رہے وہ لوگ جو کسی اصلاحی تحریک کا حصہ ہیں یا کسی بھی شکل میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مشن اور خدمت دین سے وابستہ ہیں، وہ اس پہلو پر غور کریں کہ وہ کیا سرگرمیاں ہیں جن کے کرنے سے اور نصب العین کے وہ کون سے تقاضے ہیں جنھیں چھوڑنے سے ایک عظیم مشن کے حامل ہونے کے باوجود وہ جانوروں کی سطح سے بھی نیچے گر سکتے ہیں اور اس طرح انسان، مسلمان اور تحریکی (یا خادم دین) ہونے کے باوجود اپنی تین عظیم حیثیتوں (انسانی حیثیت، مسلمانی حیثیت اور منصبی حیثیت) سے ایک ساتھ محروم ہوکر انسان سے جانور بن سکتے ہیں۔
یہ باتیں اگرچہ بہت سادہ انداز میں بیان کی گئی ہیں، لیکن انسان سے جانور بننے والی بات ایسی نہیں ہے جو چلتے پھرتے اور تفریحی موڈ میں سمجھ میں آجائے۔ اس کے لیے ہمیں نظر اٹھاکر خود اپنی ہی تصویروں کو مختلف زاویوں سے کبھی کبھی دیکھنا ہوگا۔
تصویر ایک انسان کی ہو، یا ایک گروہ کی،یا کسی پرگرام کی یا دشت و کوہسار کی، اس سے مردوں کا حال معلوم ہو رہا ہو یا عورتوں کا مستقبل، اگر وہ سب یا ان میں سے کچھ غیر انسانی سرگرمیوں کی عکاس یا محض حیوانی خواہشات کی نمائندہ ہوں تو ان سے یہ نتیجہ خود بخود نکل آتا ہے کہ انسان اب انسان سے جانور میں بدل رہا ہے یا اس رذیل ترین و کم ترین مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں جانور بھی نہیں پہنچتے ۔
آپ پوچھیں گے کیسے؟ میں کہوں گا ذرا سر اٹھا کر اپنے گردوپیش دیکھنے کی زحمت کریں۔بدقسمی سے ہندوستان میں اس قسم کی تصویروں کو دیکھنے کے لیے ہمیں قدیم البم کی پرتیں نہیں الٹنی پڑیں گی، بلکہ ایسی تصویریں یہاں روز بنتی ہیں اور ہر روز اس پرانے البم (تاریخ) کا حصہ بن جاتی ہیں، جس کے پرانے ہونے پر کچھ لوگوں کو بہت فخر ہے۔ فخر کا یہ نشہ انھیں اس میں رام و راون کے عہد کا ائر پورٹ تو تلاش کرنے کی حماقت کروالیتا ہے، لیکن وہ اس میں اپنی چونکانے والی تصویر نہیں دیکھ پاتے ۔
انسان جانور کب بنتا ہے؟ اس سوال کا جواب بہت مشکل نہیں ہے۔ اپنے آس پاس ایک غیر جانب دار نظر ڈالیے۔ اپنے ہی گھر، خاندان کو ٹٹولیے اور ہو سکے تو ایودھیا سے دادری تک کم سے کم عالم خیال میں ہی سفر کرجائیے۔ بہت جلد اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارے سماج میں انسان ہر روز صرف جانور ہی نہیں وحشی بھیڑیا بھی بنتا ہے۔ جب کوئی نوجوان ڈگریوں کے بوجھ سے تھک کر، نوکری نہ ملنے پر مایوس ہوکر اور اپنی ہی جان سے جان چھڑا کر ملک اور جہان دونوں کو خیر باد کہتا ہے تو ہماری سرکار بھی اور ہمارا سماج بھی انسان سے جانور میں بدلتا ہے، لیکن ہم دیکھ نہیں پاتے۔ اسی طرح عورت جب جہیز کے لیے اپنے شوہر کے ہی گھر میں جلائی جاتی ہے، تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے۔ لیکن ہم اپنے ہی بنائے ہوئے رسم و رواج کے بتوں کے ذریعہ اندھا کیے جانے کی وجہ سے خود کو انسان ہی سمجھتے رہتے ہیں۔ جب محض اپنی پسند کا کھانا یا گوشت کھانے کی وجہ سے کسی شخص کو سرعام تشدد کی بھینٹ چڑھا کر قتل کیا جاتا ہے تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے، لیکن آنکھوں پر فرقہ پرستی کی سیاہ پٹی چڑھے ہونے کے سبب اس وحشی جانور کو بھی ہم انسانوں کی ہی فہرست میں رکھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ جب مالدار گھرانے میں کتے اچھے اور مہنگے کھانے کھاتے ہیں اور پڑوس میں ایک انسان سوکھی روٹی کو بھی ترستا ہے، تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے۔ جب اناج پیدا کرنے والے کسان مہاراشٹر سے یوپی تک بھوک سے مرتے اور خودکشی کرتے ہیں اور دوسری طرف انتخابی ریلیوں اور چند افراد کی سیکورٹی پر کروڑوں اور اربوں روپیے خرچ کیے جارہے ہوتے ہیں، تب بھی انسان وزیر اعظم کے دفتر سے لے کر سرمایہ داروں کے گوداموں تک جانور میں بدلتا ہے، لیکن ہم جو اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں اس سے باخبر نہیں ہوپاتے ۔
وہ چاہے عہد یوسفؑ کا مصر ہو یا ہمارا بھارت جب ایک ہی قسم کے جسم و جان رکھنے والے انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے مقابلے میں ہمیشہ کے لیے کمتر اور رذیل بنا دیے جاتے ہیں تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے، لیکن اپنے خود ساختہ مذہبی آئین پر ایمان رکھنے کے سبب اسے خود کا جانور بننا کبھی شرمناک محسوس نہیں ہوتا۔ موسم ایک ہی ہوتا ہے، لیکن جب مفلوک الحالی کی مار اور موسم کی شدت کی تاب نہ لاکر کچھ لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور متمول یا نام نہاد’’اپر کلاس‘‘ والے موسم کا لطف اٹھاتے ہیں تب بھی انسان چپ کے سے جانور میں بدل جاتا ہے، لیکن ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ جب ہمارے ملک کا سربراہ اپنی جماعت کا ووٹ بڑھانے کے لیے ایک مذہبی شہر کی انتخابی ریلی میں گائے سے ہم دردی جتاکر بالواسطہ ان گؤرکشکوں (گائے کے خود ساختہ محافظین) کو خوش کرتا ہے، جو اس کا گوشت کھانے کے فرضی الزام میں درجنوں بے قصوروں کو موب لنچنگ میں قتل کرچکے ہیں، جب کہ وہ بے قصور مقتولین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا ایک بول بھی بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا تب بھی انسان کھلے عام جانور میں بدلتا ہے، لیکن ہم سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس فرق کو سمجھ نہیں پاتے۔ جب چند سال جینے والا انسان اور آخرت پر یقین رکھنے والا مسلمان محض اپنے نفس اور اپنے کنبہ کے لیے صدیوں جیسی منصوبہ بندی کرتا ہے، خیانت و بے ایمانی کو بخوشی اپنی معیشت کا حصہ بنالیتا ہے اور اس کی عقل اسے زندگی بھر یہ باور نہیں کراپاتی کہ وہ بھی دوسروں کی طرح اس سرائے میں چند دن کا مہمان ہے تو انسان جانتے بوجھتے جانور ہوجاتا ہے لیکن وہ خود کو سب سے عقل مند انسان سمجھنے کی غلط فہمی میں رہتا ہے۔ جب انسان (خواہ ہندو، خواہ مسلمان) اپنے ڈاکٹر اور انجینیئر بچوں کے لیے مساوی تعلیمی سند والے ’ڈاکٹر‘ اور’انجینئر‘کی گہار کے ساتھ شریک حیات ڈھونڈتا ہے اور اپنے جن بچوں کے لیے اسے شریکِ حیات (Life-Partner) ڈھونڈنا چاہیے، ان کے لیے وہ شریکِ تجارت (Business- Partner) ڈھونڈتا ہے، تب بھی انسان جانور یا ان سے بھی بد تر بلکہ بدترین ہو جاتا ہے لیکن ہم اسے کامیاب ترین انسان سمجھنے کے مغالطے میں رہتے ہیں۔
خدا کا خوف انسانوں کو بے خوف بناتا ہے، فکر آخرت اسے قناعت پسند بناتی ہے اور کسی عظیم مقصد سے وابستگی اسے بے نیاز اور حق پرست بنانے کا کام کرتی ہے، لیکن اس کے برعکس ذاتی ترجیحات اور حالات کا دباؤ کسی عظیم مشن یا خدمت دین سے وابستہ افراد کو بھی بہانہ باز، فرار پسند، مداہنت جو، نمائش باز اور ایمان فروش بنادے اور’ثمن قلیل‘ کی طلب ان کے اندر کی انسانی شناخت، مسلمانی حس ، تحریکی و انقلابی جذبہ اور خدمت دین ہی نہیں، دین کی ادنی ترین روح اور شان استغنا بھی ختم کردے، تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے لیکن کھوکھلی حیثیتوں کی دبیز تہوں کی وجہ سے ہماری آنکھیں انسانی انحطاط و تنزلی کا یہ دلخراش منظر دیکھنے سے عاجز رہتی ہیں۔

وہ چاہے عہد یوسفؑ کا مصر ہو یا ہمارا بھارت جب ایک ہی قسم کے جسم و جان رکھنے والے انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے مقابلے میں ہمیشہ کے لیے کمتر اور رذیل بنا دیے جاتے ہیں تب بھی انسان جانور میں بدلتا ہے، لیکن اپنے خود ساختہ مذہبی آئین پر ایمان رکھنے کے سبب اسے خود کا جانور بننا کبھی شرمناک محسوس نہیں ہوتا۔

1 Comment

  1. الیاس

    بہت بہترین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے