پناہ گاہ

وہ فون رکھ کے پلٹی ہی تھی کہ سمیرا بیگم لاؤنج میں داخل ہوئیں۔
’’کیا کہا دانش نے….؟کیا وہ تمہیں لینے آرہا ہے….؟ کب پہنچے گا….؟‘‘ سمیرا بیگم نے کئی سوال ایک ساتھ کر ڈالے۔
’’آج میں یہی رہوں گی۔‘‘وہ لاڈ سے منھ بنا کر بولی۔
’’دانش نے کہا ہے….؟‘‘وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولیں۔
’’نہیں تو….!‘‘اس نے کندھے اچکائے۔
’’پھر….؟‘‘انہوں نے سختی سے کہا۔
’’بس وہ آئیں تو ان کو کہہ دیں کہ زوبی یہیں رہے گی۔‘‘زوبیہ نے لاپرواہی سے کہا۔
’’کیوں….؟کیاوجہ…؟‘‘سمیرا بیگم نے زوبیہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’ممی!کیا یہ میرا گھر نہیں ہے؟‘‘زوبیہ صوفے پر ان کے قریب بیٹھ گئی اور ان کے کندھے سے سر ٹکا کر بولی۔
’’یہ میرا گھر ہے نا….!؟زوبیہ نے خاموشی سے سمیرا بیگم کو دیکھا۔
’’نہیں!‘‘سمیرا بیگم نے پر سکون لہجے میں کہا۔ یہ لفظ تیر کی طرح زوبیہ کے معصوم دل کے آر پار ہوگیا۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر حیرت سے انہیں دیکھا ۔
’’ممی!یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ….‘‘ آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں ابھریں۔
’’یہ میرا گھر نہیں ہے….؟‘‘اس نے دوبارہ پوچھا۔ سمیرا بیگم خاموش بیٹھی تھیں۔
’’جی بیٹا….! شادی کے بعد لڑکی کا اصل گھر شوہر کا گھر ہی ہوتا ہے، جہاں وہ بیاہ کر جاتی ہے۔‘‘انھوں نے لہجے کو نرم رکھا۔ زوبیہ کے رویہ سے غصہ تو بہت آرہا تھا، لیکن آج کل کی نسل کو بڑوں کا غصہ برداشت کرنے کی عادت نہیں رہی تھی۔
’’عجیب منطق ہے۔‘‘زوبیہ چڑ گئی۔ دانت کچکچا کر بولی:
’’یہی حقیقت ہے….!تم اپنے گھر میں دل لگاؤ ….!‘‘سمیرا بیگم نے کہا۔
’’مجھے آپ کی، عامر کی اور اس گھر کی کی چھوٹی سی چھوٹی چیز یاد آتی ہیں۔‘‘زوبیہ کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
’’زوبی!میری جان….!جب نئے رشتے بنتے ہیں تو پرانے رشتوں سے ذیادہ نئے رشتوں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔آپ اس طرح حقیقت سے بھاگ نہیں سکتیں….!‘‘سمیرا بیگم نے اسے قریب کرتے ہوئے پیار سے کہا۔
’’ممی!آپ کہہ رہی ہیں میں آپ کو اور عامر کو اس گھر کی ہر یاد کو بھول جاؤں؟‘‘مارے حیرت کے اس کی آواز حلق میں پھنسنے لگی۔
’’ہر رشتے کا اپنا مقام اور اپنی عزت ہے۔ میں چاہتی ہوں تم ان رشتوں کی قدر کرو اور عزت سے نبھاؤ۔‘‘سمیرا بیگم نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’ممی! اتنا تو مجھے بھی پتہ ہے کہ کس رشتے کو کتنی اہمیت دینی ہے۔‘‘ زوبیہ خفگی سے بولی۔
’’اگر دانش کو تمہارا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا تو بے شک تم یہاں نہ آؤ۔شوہر کی نافرمان عورت کو تو خدا بھی نہیں بخشتا۔یاد رکھو! عورت پر سب سے ذیادہ حق اس کے شوہر کا ہے۔‘‘سمیرا بیگم جانے کس کرب سے گزر رہی تھیں، آواز درد سے پھٹنے لگی۔
ممی!پلیز….‘‘وہ بے بسی سے انھیں دیکھنے لگی۔
’’زندگی کی پر پیچ راہیں بہت بڑی تجربہ گاہ ہوتی ہیں۔‘‘ سمیرا بیگم گہری سانس لے کر بولی۔
’’جانا تو ہے ہی ممی!مگر میں آج یہی رکوں گی….!‘‘وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ سمیرا بیگم خاموش سے اسے دیکھنے لگیں تو وہ گہری سانس لے کر بولی:
’’میرا وہاں دل نہیں لگتا۔‘‘زوبیہ روہانسی ہوگئی۔
’’تم وہاں دل لگاؤ گی تو دل لگے گا نہ بیٹی….!سمیرا بیگم نئے سرے سے سمجھانے لگیں۔
’’ابھی صرف ڈیڑھ ماہ ہی ہوا ہے تمہاری شادی کو۔ نئی جگہ ایڈجسٹ کرنے کے لیے تھوڑا وقت تو لگتا ہے اور پھر وہاں ٹک کر رہو گی تو دل لگ جائے گا۔‘‘سمیرا بیگم نے اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے کہا۔
یقیناً….!وہ منھ بنا کر بیزارگی سے بولی۔
’’کیوں یہ بیزارگی کس لیے….؟‘‘وہ حیران ہوئیں۔
’’مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے ممی….!‘‘وہ سر جھکا کر بولی۔
’’آپ اپنی ساس سے محبت کریں۔ میری یاد نہیں آئے گی۔ آپ اپنی ساس کو میری جگہ دو تو میری کمی کبھی محسوس نہیں کروگی….‘‘ سمیرا بیگم نے کہا۔
’’ممی !بھلا ساس بھی ماں بن سکتی ہے؟‘‘زوبیہ نے سر جھٹک کر کہا تو سمیرا بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ہاں کیوں نہیں؟بلکہ اصل ماں تو ساس ہی ہوتی ہے۔ جنم دینے والی ماں کے ساتھ تو کوئی بھی لڑکی بیس بائیس سال رہتی ہے، مگر ساس کے ساتھ اس کو تا عمر رہنا ہوتا ہے۔ ‘‘سمیرا بیگم نے زوبیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:
’’ممی آپ کی سوچ درست نہیں ہے۔ میں نے تو آج تک کسی ساس کو ماں کا رول پلے کرتے نہیں دیکھا۔‘‘زوبیہ پھر سے بپھر کر بولی۔
’’آپ نے ابھی اپنی زندگی میں دیکھا ہی کیا ہے، جو یہ دیکھوگی….!بیٹا یہ جو ساس ہوتی ہے نا، بہت مقدس اور بہت عظیم ہستی ہوتی ہے۔‘‘سمیرا بیگم کے آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں ابھرنے لگیں۔
’’ممی….!‘‘ زوبیہ حیرت اور بے بسی سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’ہاں زوبیہ….!یہ بہت عظیم عورت ہوتی ہے، جو ایک انجان لڑکی کو، جسے وہ بہو بنا کر لاتی ہے، اسے اپنا پلا پلا یا بیٹا دے دیتی ہے۔بسا بسایا گھر اس کے حوالے کرتی ہے۔ ایک طرح سے اپنی گھر کی حکومت اس کے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔ اپنی برسوں کی محنت اور ریاضت وہ ایک اجنبی لڑکی کے حوالے کر دیتی ہے۔ بھلا اس کی عظمت سے انکار کیا جا سکتا ہے؟‘‘سمیرا بیگم نے سختی سے کہا۔ زوبیہ ان کے رویہ سے سہم سی گئی تھی۔ وہ جلدی غصہ نہیں ہوتی تھیں۔
’’ممی یہ تو قانون قدرت ہے۔ بقائے نسل کے لیے اس ماں کو بیٹے کی شادی کرنی ہی ہوتی ہے….ورنہ وہ کبھی نہ کرے۔ وہ ساس، جسےآپ مقدس اور عظیم ہستی کہہ رہی ہیں ناممی…. بہو لانے میں اس کے بھی کئی فوائد ہوتے ہیں۔ بہت سی خواہشات بہو کی صورت ان کے دل میں بھی رہتی ہیں۔ خدمت گزار، گونگی خادمہ اور اس سے پیدا ہونے والے خوبصورت بچے….!‘‘زوبیہ بھی بر جستہ بولی۔ سمیرا بیگم اس کے دل میں بسا زہر دیکھ کر ہی ڈر گئیں۔
کسی کو جانے بغیر آپ نے خوا مخواہ ہی اپنے دل کو میلا کر لیا ہے بیٹی!‘‘سمیرا بیگم تاسف سے بولیں تو زوبیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ ایسی بھی کم عقل جاہل تو نہیں تھی کہ انسان کو پرکھ نہ سکے۔ وہ ایسی تو نہیں تھی کہ دانش کی ممی نے اسے تو کوئی تکلیف نہیں دی تھی۔ وہ صبح لیٹ اٹھتی تھی تو ناشتہ تیار کرلیتی تھیں اور کبھی جتایا بھی نہیں۔ ہاں! دانش ناراض ضرور ہو جاتا تھا، اس پر بھی وہ ڈھیٹ بنی کہتیں کہ رک جاتی تو وہ خوود ہی بنا لیتی۔ انہیں بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
’’اگر وہ آپ سے آپ کا وقت اور خدمات کی خواہش رکھتی ہیں تو کیا یہ غلط خواہش ہے….؟ میرا بھی دل چاہتا ہے عامر کی تعلیم جلد سے جلد ختم ہو۔ میں اس کی شادی کر دوں ۔گھر کی سب ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جاؤں۔ عامر کے بچوں کو گود میں کھلاؤںاور وہ لڑکی میری بہو بن کر میری خواہشوں کی تکمیل کرے۔ کیا میں اس کی دشمن بن جاؤں گی؟وہ تو مجھے بہت عزیز اور پیاری ہوگی….!‘‘سمیرا بیگم نے سوالیہ نظروں سے اسے پوچھا۔ وہ خاموش ہو رہی تھی۔ اس کے پاس ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا اور نہ وہ کسی بات کا اختلاف کر سکی ۔بولی تو صرف اتنا کہ:
’’ممی!وہ آنٹی کو اعتراض رہتا ہے کہ ہم شام کو آؤٹنگ پر کیوں جاتے ہیں؟‘‘
’’تم ان سے پوچھ کر جایا کرو۔‘‘سمیرا بیگم نے کہا۔
’’اگر وہ منع کر دیں تو؟‘‘زوبیہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’تو نہ جاؤ!کبھی ساس کا موڈ نہ ہوا اور وہ اجازت نہ دیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے….!کئی بار میں نے تمہیں رمشہ اور فرخندہ کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی تھی تو کیا تمہاری زندگی میں کوئی کمی رہ گئی؟ یا تمہارا کوئی نقصان ہوگیا؟‘‘وہ پوچھنے لگیں۔ زوبیہ کو خاموشی نے گھیر لیا۔
’’بتاؤ؟‘‘سمیرا بیگم خفگی سے بولیں۔
’’جی….ممی ایسا تو نہیں ہوا ۔‘‘زوبیہ سر جھکائے بولی۔
’’ساس کو کوئی بات پوچھنا، ان سے مشورہ لینا یا کسی بات کو وہ منع کردیں تو یہ تمہارے لیے انسلٹ ہوئی؟‘‘انہوں نے پھر پوچھا۔
وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئی۔
’’ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے گھروں میں بہت بڑی بڑی دراریں بن جاتی ہیں۔ آپ کو اگر شوہر سے محبت ہے،تو ساس سے بھی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ آپ کا شوہر اپنی ماں کو چاہتا ہے اور جس سے محبت کی جائے اس کی ہر شئے پیاری لگتی ہے۔ پھر وہ تو دانش کی ماں ہیں۔ پھر تمہیں ان سے محبت کیوں نہیں ؟‘‘سمیراا بیگم نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا۔
’’یہ بات نہیں ہے ممی۔‘‘زوبیہ نے کہنا چاہا۔
’’یہی بات ہے زوبیہ!‘‘ سمیرا بیگم اپنی بات پر زور دے کر بولا۔
’’میں چاہتی تھی کہ آپ خود اپنی سمجھ سے اپنا گھر بسانے کا لائحہ عمل تیار کریے، مجھے کچھ نہ کہنا پڑے ،مگر مجھے محسوس ہوا کہ آپ غلط راہ چلنا چاہتیں ہیںہو تو سوچا اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے، میں تمہیں غلط راستے سے آگاہ کر دوں۔‘‘
’’بیٹا مجھے شکایت کا موقع نہ دینا۔ اگر آپ سسرال سے لڑ کر یہاں آکر رہنا چاہو گی تو ….سن لو! آپ کے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی اور اچھی طرح سے جان لو!آپ کا قصور نہ بھی ہوگا، تب بھی میں یہاں نہیں رہنے دوں گی۔‘‘زوبیہ نے کچھ کہنا چاہا۔ سمیرا بیگم ہاتھ اٹھا کر بولیں:
’’اپنے مسائل کا آپ خود حل نکالیں گیں۔ اتنی صلاحیت آپ میں ہونی چاہیے۔ آخر پڑھی لکھی ہو، سب جانتی ہو، سب سمجھتی ہو ۔‘‘سمیرا بیگم نے سختی کو برقرار رکھا تھا۔
’’ممی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں….!زوبیہ نے ناراضگی سے ماں کو دیکھا۔
’’میں صحیح کہہ رہی ہوں۔‘‘سمیرا بیگم بولیں۔
’’ممی! میں اپنے دکھ سکھ آپ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں ؟‘‘ زوبیہ بے بسی سے بولی۔
’’ساس سے کہو۔ ان سے اتنا قریب ہو جاؤ کہ وہ آپ کی دوست بن جائیں۔‘‘سمیرا بیگم نے کہا۔
’’اگر مجھے شکایت ہی ان سے ہو تب؟!‘‘زوبیہ نے آخری حربہ اپنایا۔
’’تب بھی اپنے آپ میں اتنی صلاحیت پیدا کرو کہ اپنی بات احسن طریقے سے انہیں سمجھا سکو اور مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور ٹھنڈے دل سے غور کریں گی۔ آخر انھیں بھی تو اپنا بیٹا پیارا ہوگا۔ وہ بھی تو کوشش کریں گی اپنی کمی کو دور کرنے کی۔‘‘سمیرا بیگم نے کہا۔ زوبیہ کے لیے ان کا یہ انداز بالکل نیا تھا اور اپنے رویے سے وہ شرمندہ بھی تھی۔
(جاری)

’’ممی آپ کی سوچ درست نہیں ہے۔ میں نے تو آج تک
کسی ساس کو ماں کا رول پلے کرتے نہیں دیکھا۔‘‘
زوبیہ پھر سے بپھر کر بولی۔
’’آپ نے ابھی اپنی زندگی میں دیکھا ہی کیا ہے، جو یہ دیکھوگی….!بیٹا یہ جو ساس ہوتی ہے نا، بہت مقدس اور
بہت عظیم ہستی ہوتی ہے۔‘‘
سمیرا بیگم کے آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں ابھرنے لگیں۔
’’ممی….!‘‘ زوبیہ حیرت اور بے بسی
سے انہیں دیکھنے لگی۔

سکھانے والے کی عمر ، رشتے اور اس کے مرتبے کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے سیکھنے کا یہ جذبہ علم و صلاحیت میں اضافے کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
سید سعادت الله حسینی

2 Comments

  1. ڈاکٹر. ادعیہ مفیض خان

    ماشا اللہ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین

    Reply
  2. فریسہ جبین بنت محمد اصغر انصاری

    اس طرح کی پازیٹیو تحریریں ہونا چاہئیے تاکہ معاشرہ میں اچھا بدلاو آئے دلی مبارکباد

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے