نظم

اے کہ تیری جستجو میں پھر رہا ہوں کو بہ کو
چاک داماں، چشم گریاں اور مسلسل ہاؤ ہو

ذرہ ذرہ ریگزار بے کراں کا مضطرب
مبتلائے گردش پیہم ستارے چار سو

شوق نظارہ نے بخشی حرکت پیہم اسے
تا نظر خورشید کی ہر دم ہو اس کے رو بہ رو

کس نے پھیلائی افق پر اک ردائے ہفت رنگ
کس نے بخشا ہے گلوں کو ڈھیر سارے رنگ و بو

گد گداتا ہے کلی کو دست قدرت رات بھر
اور وہی شبنم سے بھرتا پھول کا جام و سبو

بے قراری ہجر کی دل کو نشاط انگیز ہے
اور اسی لذت میں پنہاں وصل کی ہے آرزو

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے