رمضان المبارک: جائزہ اور احتساب کا مہینہ
زمرہ : النور

قال رسول اللہﷺ : من قام لیلۃ القدر ایماناًوّاحتساباً غفر لہ ما تقدّم من ذنبهٖ۔

’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ شب قدر گزاری، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ ‘‘

رمضان المبارک کی آمد خیروبرکت کی بہار ساتھ لاتی ہے۔ یہ مہینہ خیروبرکت کے ساتھ تربیت،احتساب اور رجوع الی اللہ کا بھی مہینہ ہے۔
زندگی کی مصروفیات ، شب و روز کی تگ و دو میں انسان عبادت اور اپنے رب کی اطاعت کا حق کما حقہ ادا نہیں کر پاتا۔ بعض دفعہ وہ اتنی دور نکل جاتا ہے کہ اس کے اطراف معصیت،نافرمانی اور بے عملی کی بلند فصیل تعمیر ہوجاتی ہے، جن کے گھراؤ سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل پاتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ماہِ رمضان کا تحفہ دیا ہے تاکہ وہ اپنے گریباں میں جھانک لیں، اپنے مشغلوں اور کرتوتوں کا جائزہ لے سکیں اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرکے اللہ کی اطاعت اور اس کے بتائے ہوئے طریقے پر چل پڑیں، تاکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز ہو سکیں۔
حدیث قدسی میں اللہ ربُّ العالمین فرماتے ہیں کہ ابن آدم کے ہر عمل کا انعام اس کے عمل کے مطابق ہی دیا جائے گا۔ البتّہ روزے کا بدلہ میرے ذمہ ہے اور میں خود اس کا انعام دوں گا۔
احتساب کی رات
ماہِ رمضان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کی ایک رات بہت بابرکت ہے، جو ’لیلۃ القدر‘ کہلاتی ہے۔ اس کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے،جس کی واضح الفاظ میں نشاندھی نہیں کی گئی ہے تاکہ اس کی تلاش اور جستجو میں ایک مومن بندہ ہر روز پوری طرح یکسو ہوکر عبادات میں مصروف رہے۔
حضرت عائشہ ؓروایت کرتیں ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا ہے تو نبی ﷺ ر ا ت رات بھر جاگتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی جگاتے اور خوب خوب عبادت کرتے۔
یہ رات اس قدر اہم ہے کہ نبی اکرمﷺنے رمضان میں صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’دیکھو تم نے اس مہینے کو پالیا تو جان لو کہ اس میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔ جس نے وہ رات ضائع کر دی، اس نے پورا کا پورا خیر ضائع کردیا اور اس رات کے خیر کو ایک محروم شخص ہی ضائع کرسکتا ہے۔ ‘‘
یہ رات جس قدر عبادت کی رات ہے۔ اسی طرح اللہ کی طرف نیابت اور اپنا جائزہ اور احتساب بھی مطلوب ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’یا جو شخص ایمان کے ساتھ اور اپنا جائزہ لیتے ہوئے لیلۃ القدر کو گزارے، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
خرافات سے اجتناب
اسلام دین فطرت ہے اور یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اس لیے اسلام جن مناسبات کا ذکر کرتا ہے۔ ان کو منانے اور برتنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ جس طرح کسی بھی شب اور کسی بھی تہوار کا مقام پیارے نبیﷺکی رہنمائی ہی کی روشنی میں طے ہوگا۔ اسی طرح اس دن کیے جانے والے کام بھی نبی اکرمﷺکی تعلیمات کے مطابق ہی طے کیے جائیں گے۔
دیکھنے کو یہ مل رہا ہے کہ آج مسلمانوں کے درمیان مختلف مواقع پر غیر اسلامی رسومات رائج اور مقبول ہوچکے ہیں۔ مثلاً شب برأت کے موقع پر قبرستان میں موم بتّیاں جلانا ،خاص قسم کی مٹھائیاں تیار کروانا وغیرہ۔ جب کہ احادیث میں شب برأت کے متعلق صرف یہ ہدایت ملتی ہے کہ اس رات کو نوافل کا اہتمام ہو۔ لیکن ان میں سے کوئی رات شب قدر کی طرح افضل نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ ربّ العزت کا فرمان ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۔‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۔‏تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ۔‏ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ‎(القدر:۰۵)

’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام پر۔
وہ صبح روشن ہونے تک سلامتی کی رات ہے۔‘‘
یہ رات بھی نوافل ، تلاوت ذکرواذکار، تزکیہ اور رجوع الی اللہ کے طور پر گزاری جائے گی۔ اس رات کی برکتیں ، اس رات میں کی جانے والی عبادات سے ہیں۔ اگر کوئی رات بھر جاگے اور عبادات نہ کرے تو یہ ایسے ہی ہوگا کہ کوئی میٹھے بہتے چشمے پر جائے اور سیراب ہونے کے بجائے وقت گزار کرکے پیاسا واپس آجائے۔

’’دیکھو تم نے اس مہینے کو پالیا تو جان لو کہ اس میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے۔ جس نے وہ رات ضائع کر دی، اس نے پورا کا پورا خیر ضائع کردیا اور اس رات کے خیر کو ایک محروم شخص ہی ضائع کرسکتا ہے۔ ‘‘

قرآن حکیم کی تلاوت اور اس کے مطالب پر غور و فکر مومن کی محبوب عبادت ہے اور قرآن سے شغف خدا سے تعلق کی دلیل بھی ہے اور خدا سے تعلق کا ذریعہ بھی ۔
(آداب زندگی،ص 331)
مولانا محمد یوسف اصلاحی

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے