گریز کی راہیں
(مولانا صدرالدین اصلاحی ؒ کی کتاب فریضۂ اقامتِ دین سے ماخوذ اقتباس ’’گریز کی راہیں‘‘ کو پیشِ نظر رکھ کر اس ڈرامے کو تشکیل دیا گیا ہے۔)
( پردہ اٹھتا ہے۔)
ایک ہی گھر کی پانچ چھ خواتین آپس میں باتیں کرتی ہوئی بیٹھی ہیں۔
ساس صاحبہ: سلطانہ بیگم
بڑی بہو: لیلی خان
دوسری بہو: مہرین فاطمہ
منجھلی بہو: زویا خان
چھوٹی بہو: صبا خان
بڑی نند: فلک خان
سلطانہ بیگم: ’’شام ہونے کو ہے…..کیا آج کھانا نہیں بنے گا…..؟ یا آج پھر تم لوگ زمیٹو کو تکلیف دو گی….. چلو اٹھو مہارانیوں….. اور ہاں آج ڈنر میں بریانی ہو، ساتھ میں رائتہ ،دہی سلاد، دال، قورمہ، چپاتی اور ایک پرہیزی ڈش بنانا مت بھولنا۔‘‘
(یہ کہہ کر ساس دوسرے کمرے کا رخ کرتی ہے۔)
صبا خان :
’’ہوں ….. ! ہوگیا فرمان جاری….. ہائے کوئی تو راستہ ہوگا، اس روز روز کی روٹین سے چھٹکارا پانے کا۔‘‘
زویا خان :
محترمہ آپ ابھی چند دن پہلے یہاں پدھاری ہیں۔یہی ریت ہے اس گھر کی….. کوئی فرار کا راستہ نہیں….. ۔‘‘
چھوٹی بہو منھ بنا کر رہ جاتی ہے۔
بڑی بہو سبھی کو مسکرا کر دیکھتی ہے۔
لیلی خان:
میری پیار یو….. ! فکر نہ کرو۔ میں نے صبح ہی رات کے لیے کافی کچھ تیاری کرلی تھی۔ بس اب ہم سب لوگ مل کر جلد ہی Dinner تیار کرلیں گے۔ اچھا آپ لوگ ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ یہ فرار کے طریقوں کو کیوں ڈھونڈ تی رہتی ہو۔ حقیقت کو قبول کرنے سے کیوں کتراتے ہو؟جب کہ یہی تو زندگی ہے۔
مہرین فاطمہ:
’’جی بھابھی….. ! آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا میں حقیقت سے دور بھاگنے کا کوئی دستور چل نکلا ہے۔ آج انسان دین پر عمل کرنے کے لیے بھی اسی راہ کا انتخاب کر رہا ہے۔ اب ذرا اقامتِ دین کے فریضے کی ہی بات کرلیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اس راہ کو پسند کرتے ہیں، جہاں آسانی کے ساتھ چلا جا سکتا ہو۔ جس راستے پر چلتے وقت پاؤں میں گلاب کی پنکھڑیوں کا سا گداز ہو، راستہ ہر طرح سے ڈھلوان اور آسان ہو، بھلے ہی یہ ڈھلوان ہمیں کسی گہرے کھڈ میں لے گرے۔ ایک اور بات بتاؤں بھابھی! میں آپ کو کچھ قرآن کے طالب علموں کا بھی آج کل یہی حال ہو گیا ہے۔‘‘
زویا خان :
’’ نہیں بھابھی….! وہ تو قرآن کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
مہرین فاطمہ :’’ جی آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔ بے شک میں اس بات کا شکر ادا کرتی ہوں کہ آج قرآن مجید کے تئیں لوگوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے۔وہ اس کے سیکھنے سکھانے پر بہت زور دینے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کے احکامات ان کی ذاتی زندگیوں میں اترنے لگے ہیں، سبحان اللہ۔‘‘
لیکن اگر آپ ان طالب علموں سے اقامت دین کی بات کریں تو ان کا جوش ٹھنڈا پڑنے لگتا ہےاور ان کی زبانیں بند ہو جاتی بیں۔ ان کے نفس حیلوں بہانوں کے لشکر تیار کر لیتے ہیں اور اپنے اندر کی تڑپ کو کچل کر منافقانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر غیرت اور عزت نفس کی ذرا سی بھی رمق باقی ہو تو وہ ضرور اقامت دین کی کوشش کریں گے۔کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اس جرم کو دھونے میں اپنی تمام دماغی effort لگا دیتے ہیں اور ہر وقت اپنے نفس کو بےگناہی کا فریب دینے میں مشغول رہتے ہیں اور تاویلوں کا ایک خوشنما نقاب تیار کرکے اپنے چہروں پر ڈال دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی کوششوں سے دوسروں کو بھی اقامت دین کی راہ سے دور رکھتے ہیں اور وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے کہ آپ تو قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہونے کے باوجود بھی اقامتِ دین کی راہ سے فرار ہوئے بیٹھے ہیں۔‘‘
(تمام خواتین دم بخود سی ہو کر ان باتوں کو سن رہی تھیں۔)
لیلی خان :
’’ یہ سب تو تم صحیح کہہ رہی ہو مہرین۔ لیکن آج کے زمانے میں قرآن کی طرف اس کے پڑھنے پڑھانے کی طرف بھی تو مشکل ہی سے لوگ آتے ہیں اور اگر یہ چند لوگ صرف قرآن کی تعلیمات کو عام کرتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟ رہی بات اقامتِ دین کی تو یہاں ہمارے ملک میں اسلامی حکومت ہی نہیں، پھر اقامت دین کے فریضہ کو ہم کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟‘‘
(اسی دوران ساس صاحبہ کمرے میں داخل ہو کر ان لوگوں کی گفتگو کو بڑے غور سے سن رہی ہوتی ہیں۔)
زویا خان :
’’ صحیح کہہ رہی ہیں بڑی بھابھی آپ۔ ابھی تو اس ملک میں سازگار حالات ہی نہیں ہیں۔ جب تک یہاں سازگار حالات پیدا نہیں ہو جاتے، تب تک ہمیں صرف جزوی دین پر اور قرآن و حدیث کے پڑھنے پڑھانے پر ہی اکتفا کرنا ہوگا۔ بعد میں جب کبھی حالات ذرا ٹھیک ہوں گے تو تب ہم اقامت دین کے لیے کام کریں گے، ان شاءاللہ۔
ساس صاحبہ :’’ بس بھی کرو مہرین…. تم جہاں بیٹھتی ہو وہاں اقامت دین کے فریضے کو یاد کروانے لگ جاتی ہو۔ شام کے چھ بجنے کو ہیں، میں نے بریانی کی فرمائش کی تھی اور یہاں دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید اقامت دین کے لیکچرز ہیdinner میں ملنے والے ہیں۔ اور ویسے بھی اقامت دین کے لیے ابوبکر اور عمر جیسے لوگ درکار ہیں۔ اب چوں کہ وہ ہیں نہیںشایدتو اب دوبارہ اقامت دین کے لیے کوشش کرنا، گویا تقدیر سے لڑنے کے مترادف ہے۔‘‘
(اچانک چھوٹی بہو کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی ہے، جیسے اسے اس مسئلے کا حل مل گیا ہو۔)
صبا خان :

’’ بھابھی…..! مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے ابھی آپ نے شام میں بننے والی بریانی کی تیاری دن میں ہی کرکے کافی کام ہلکا کر دیا ہے، بس اسی طرح جو لوگ آج اقامتِ دین کے لیے کوشش میں لگے ہیں، جب وقت آئے گا کہ ان کی کوششیں رنگ لانے لگیں گی اور وہ راستے کو ہموار کر چکے ہوں گے۔ تب تک ہم انتظار کرتے ہیں….. جب پورا پلیٹ فارم تیار ہو جائے گا، تب ہم اس کار خیر کا حصہ بن جائیں گے….. ہے نا زبردست آئیڈیا…..؟‘‘
(نند صاحبہ، جو کہ بہت دیر سے سب کی باتیں غور سے سن رہی تھیں۔)
فلک خان : ’’میری پیاری بھابھیوں! یوں تو میں آپ سب میں چھوٹی ہو ں، لیکن معذرت کے ساتھ یہ کہنے کی گستاخی کر رہی ہو ں کہ مہرین بھابھی نے اسلامی تعلیمات کے مطابق بارہا ایک مسلمان کی زندگی کو بہت ہی بلند مقصد بنا کر پیش کیا ہے، لیکن افسوس کہ ہم نے بلکہ امت مسلمہ نے اس بلند مقصد کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جسے ہم میں سے ہر شخص کو اپنی اپنی بساط بھر کوشش کرکے ادا کرنا چاہیے، نہ کہ جس طرح سے آپ لوگوں نے فرار حاصل کرنے والے گریز کے بہانے پیش کیے ہیں، ان میں سے تو مجھے منافقت کی بو آتی ہے۔

مہرین فاطمہ :
’’ پیاری فلک! تمہاری باتیں اندھیرے میں روشنی کی کرن کی مانند ہیں….. کاش ہر مسلمان صرف اس غلط فہمی کو دور کر لے کہ اقامت دین سے مراد دین کو نافذ اور قائم کرنا ہی نہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس کام میں اپنا کتنا حصہ ڈالا ہے۔ ہمیں ہماری زندگی میں کامیابی ملے یا نہ ملے، لیکن رب کے حضور حجت پوری ہو جائے۔ دراصل انسان کسی بھی کام کا فوری اور مادی فائدہ چاہتا ہے، جب کہ قرآن انسان کو کامیابی کا کچھ اور ہی مفہوم سکھاتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی نظر میں کامیابی صرف آخرت کی ہونی چاہیے۔ دنیا میں وہ حق کے قیام کے لیے اپنی ساری کوشش کر ڈالے اور اگر پہلے ہی قدم پر اپنا سب کچھ کھو بیٹھے تب بھی اور دین حق کو قائم کر دے تب بھی،دونوں صورتوں میں وہ کامیاب ہے ۔ایک آخری بات بتاؤں میں آپ کو….. دراصل ہمارے اندر کا انسان اقامتِ دین کے فریضے کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس سے راہِ فرار کی کوئی صورت نہیں، لیکن ہم نے اسے تھپک تھپک کر ہٹ دھرم بنا دیا ہے اور ہم ایک مَن بھائے آسان دین کےfollowers بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جانتے بوجھتے اگر فرار کی راہ اختیار گئی تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا(البقرۃ:26)
یہ قانونِ ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ راہِ راست اسی شخص کو دکھاتا ہے جو دیکھنا چاہے۔ ہم کسی کو زبردستی اس راہ پر کھینچ کر نہیں لا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ ایمان لانے اور ہدایت پا لینے کے بعد بھی اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ……۔
( تبھی فلک آواز لگاتی ہے۔)
فلک :
’’چلیے اب آپ سب لوگ عشاء سے فارغ ہو جائیں…. مہرین بھابھی میں نے بریانی کو دم دے دیا ہے۔ ان شاء اللہ نماز بعد بریانی ہماری منتظر ہوگی۔ بے شک ہم قدم تو بڑھائیں، اللہ کے بندے ضرور قامتِ دین کی راہ کے راہی بنیں گے اور رہے وہ لوگ جو راہِ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں، وہ دوسروں کی بنائی ہوئی بریانی کو انجوائے تو کر سکتے ہیں، لیکن شرمندگی کے ساتھ…… نہ کہ ادائیگی فرض کے بعد کی طمانیت کے ساتھ۔
(پردہ گرتا ہے)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے