یوپی انتخابات کے نتائج
10 ؍مارچ کو ہونے والے نتائج نے اپوزیشن سمیت باقی لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا، جو اتر پردیش میں اقتدار کی تبدیلی کا انتظار کر رہےتھےاوربھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر اقتدار کی کرسی پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس بار بی جے پی کو 2017 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے 57 سیٹیں ضرور کم ملی ہیں، لیکن اتر پردیش میں یہ پہلا موقع ہے، جب کوئی پارٹی پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے بعد دوسری بار اقتدار میں واپس آئی ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ کر دکھایا۔ بی جے پی کی اس تاریخی جیت سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ تعلیم، صحت، بے روزگاری، خواتین کی حفاظت جیسے مسائل سے اتر پردیش کے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیوں کہ اگر یہ مسائل اہم ہوتے تو شاید ووٹ کی بساط کچھ اور ہوتی۔
انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ ان تمام مسائل کو عوام نے ایک بار پھر پسِ پشت ڈال دیا۔ خواتین کی حفاظت کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی حکومت پر اناؤ میں اس وقت کے بی جے پی ایم ایل اے کی عصمت دری کے بعد سب سے پہلے سوال اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے کلدیپ سینگر کو پارٹی سے نکال دیا۔ اس واقعہ پر کافی بحث ہوئی۔ انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اناؤ سیٹ سے بی جے پی کے پنکج گپتا جیت گئے ہیں۔ گپتا نے سماج وادی پارٹی کے ابھینو کمار کو 31,000 ووٹوں سے شکست دی۔ یہاں سے کانگریس نے اناؤ عصمت دری متأثرہ کی ماں آشا دیوی کو ٹکٹ دیا تھا، جو کہ الیکشن ہار گئیں۔
ہاتھرس میں عصمت دری کے واقعہ کے بعد ایک بار پھر بی جے پی حکومت پر سوال اٹھنے لگے۔ یہاں مقتول کی موت کے بعد لواحقین کی اجازت کے بعد رات میں ہی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اگر ہاتھرس کے نتائج پر نظر ڈالیں تو یہاں سے بی جے پی کی انجولا سنگھ مہور نے کامیابی حاصل کی ہے۔
کسان تحریک کے دوران لکھیم پور کھیری اس وقت سرخیوں میں آیا جب مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے سنگھ ٹینی کے بیٹے پر کسانوں کو روندنے کا الزام لگا۔ اس واقعہ میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی موت ہو گئی تھی۔ لکھیم پور کھیری کی تمام آٹھ سیٹوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف تحریک کا اثر مغربی یوپی میں بی جے پی کے خلاف نظر آئے گا۔ درحقیقت اس تحریک کے نمایاں چہروں میں سے ایک راکیش ٹکیت کا تعلق بھی مغربی یوپی سے ہے اور یہاں کے کسانوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تاہم اس کا اثر انتخابی نتائج میں نظر نہیں آیا۔
آر ایل ڈی صرف آٹھ سیٹیں جیت سکی۔ باغپت، جسے چودھری چرن سنگھ کی کرم بھومی سمجھا جاتا ہے، آر ایل ڈی یہاں تین اسمبلی سیٹوں میں سے صرف ایک پر جیت سکی، جب کہ بی جے پی نے دو پر قبضہ کر لیا۔2017 کے انتخابات میں تینوں سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں تھیں۔
بی جے پی نے بلند شہر کی تمام سات سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ایسا کرکے بی جے پی نے اپنے 2017 کے نتائج کو دہرایا ہے۔ راکیش ٹکیت مظفر نگر کے رہنے والے ہیں۔ یہاں کی چھ اسمبلی سیٹوں میں سے ایس پی اتحاد کو چار اور بی جے پی نے دو پر جیت حاصل کی ہے۔ میرٹھ کی سات اسمبلی سیٹوں میں سے، ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد نے چار اور بی جے پی نے تین پر کامیابی حاصل کی ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے یہاں چھ سیٹیں جیتی تھیں۔
الیکشن میں جیت کے بعد، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا:’’اتر پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات-2022 میں زبردست جیت کے لیے پرعزم، محنتی اور جنگجو کارکنوں کو دلی مبارکباد۔ یہ جیت آپ کی خدمت ہی تنظیم (سیوا ہی سنگٹھن)کے جذبے سے سرشار ہوکر آپ کی بلاتاخیر عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔‘‘
ہار کے بعد اکھلیش یادو نے ٹویٹ کر کے ریاست کے لوگوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ’’ ہم نے دکھایا ہے کہ بی جے پی کی سیٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ بی جے پی کا یہ زوال جاری رہے گا۔ آدھی سے زیادہ الجھنیں اور وہم دور ہو چکا ہے، باقی کچھ دنوں میں ہو جائے گا۔‘‘

بی جے پی کی جیت کی وجوہات

ہندوتوا اور قوم پرستی کا جو تڑکا بی جے پی نے لگایا ہے، اس کا اس الیکشن میں کافی اثر ہوا ہے۔ بی جے پی نے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ریاست میں ایس پی کو پیغام دیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو انتشار اور غنڈہ گردی بڑھے گی۔ بی ایس پی کا کمزور ہونا بی جے پی کے لیے بہت فائدہ مند رہا۔ اس بار سماج وادی پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت مقابلہ دیا اور اچھا الیکشن لڑنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ جوڑ توڑ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ خود سماج وادی پارٹی کا بنیادی ووٹ بینک مانے جانے والے یادو ووٹ بینک بھی، اس بار تقسیم ہوگیے۔ ایس پی کو صرف مسلم ووٹوں کا فائدہ ہوا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صرف مسلم ووٹوں کی وجہ سے ایس پی کے ووٹ گراف میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بہوجن سماج پارٹی اس الیکشن میں کسی بھی فعال کردار میں نظر نہیں آئی اور نہ ہی اس کے بنیادی ووٹ بینک نے اس پر یقین کیا۔ اس کا نتیجے یہ ہوا کہ بی ایس پی کا ووٹ بینک بھی براہِ راست بی جے پی کو منتقل ہوگیا۔
صحیح وقت صحیح فیصلہ لینا بھی بی جے پی کو جیت دلانے میں اہم رہا۔ ملک بھر میں جاری کسانوں کی تحریک کو اپنی شکست کے طور پر دیکھ کر مرکزی حکومت نے تینوں متنازعہ قوانین کو منسوخ کر دیا اور اس کا فائدہ یوپی اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملا۔ سوشل میڈیا پر ’بلڈوزر بابا‘ کے نام سے مشہور ہونے والے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کا بلڈوزر بیان بھی بی جے پی کو زبردست اکثریت حاصل کرنے میں کارگر ثابت ہوا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی 70انتخابی ریلیوں میں سے 58 میں بلڈوزنگ کی بات کی اور نتائج بتاتے ہیں کہ تمام 58 سیٹوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ اتر پردیش کے انتخابات میں بھی مودی کا جادو خوب چلا۔ بی جے پی نے اسے وہاں پر زیادہ استعمال کیا، جہاں یوگی سے لوگوں کی کچھ ناراضگی تھی اور جہاں بی جے پی کو کمزور سمجھا جا رہا تھا۔ مودی نے تقریباً 19 عوامی میٹنگیں کرکے تقریباً 192 نشستوں کا احاطہ کیا۔ ان میں سے 134 سیٹیں جے پی نے جیتی ہیں۔

اتر پردیش کے انتخابی نتائج

اس الیکشن میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ساکھ داؤ پر لگی تھی۔ اگر بی جے پی یوپی اسمبلی انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتی تو اس کا براہِ راست اثر مودی-یوگی برانڈ پر پڑتا۔ بی جے پی کی جیت کے ساتھ ہی لوگوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار قرار دینا شروع کر دیا ہے اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آنے والے وقت میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مضبوط دعویدار کے طور پر پیش کریں گے۔ بی جے پی کو قریب سے جاننے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ اب سی ایم یوگی پی ایم مودی کے بعد مرکزی قیادت میں سب سے بڑا چہرہ بن کر ابھریں گے۔ اس کے علاوہ اس جیت نے مودی کا جادو بھی برقرار رکھا ہے۔ اگر یوپی میں بی جے پی کو کامیابی نہیں ملتی تو ملک بھر میں بنائے گئے مودی جادو کا اثر کم زور پڑنا شروع ہو نے لگتا۔
اس انتخابی نتائج کا اثر آنے والے لوک سبھا انتخابات میں بھی براہِ راست نظر آئے گا۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ دہلی کے تخت کا راستہ اتر پردیش سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لیے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کے لیے یوپی کا قلعہ فتح کرنا بہت ضروری تھا اور مودی یوگی کی جوڑی نے اسے کر دکھایا۔ یوپی میں اس زبردست اکثریت کے ساتھ، بی جے پی کو وہ ٹانک مل گیا ہے جو 2024 میں وزیر اعظم کی دوڑ میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔
اس سال جولائی میں ملک میں اگلا صدارتی انتخاب ہونا ہے، جس میں اتر پردیش کی طاقت سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کیوں کہ یہ انتخاب بالواسطہ ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین پر مشتمل ہوتا ہے اور متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق ہر ووٹ کا اپنا وزن ہوتا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے ووٹوں کا وزن ایک جیسا ہے، لیکن ایم ایل اے کے ووٹوں کا وزن ریاستوں کی آبادی پر منحصر ہے۔ اس کے مطابق، اتر پردیش کے ایک ایم ایل اے کے ووٹ کا وزن 208 ہے۔ اس لیے اتر پردیش میں بی جے پی کی جیت کا اثر صدارتی انتخاب میں بھی نظر آئے گا اور اسے اپنے امیدوار کو کامیاب کرنے میں زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ روزگار، تعلیم، صحت اور سیکورٹی وغیرہ کے مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے بی جے پی نے پورا الیکشن ہندوتوا کے نام پر لڑا۔ جس کی وجہ سے آنے والے وقتوں میں ہندوتوا کی سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی اور اقلیتی طبقہ میں خوف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی، کیوں کہ اس کا اثر سیدھے لوک سبھا کے انتخابی جوڑ توڑ پر پڑے گا۔ انتخابی مہم میں ہی ’ایودھیاکے بعد کاشی متھرا کی باری‘ کی بات بار بار دہرائی گئی۔ اب پھر سے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ یکساں سول کوڈ کا مسئلہ ایک بار پھر اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ یوپی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بی جے پی کسان قانون پر دوبارہ غور کر سکتی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی شکست سے سبق لیتے ہوئے ایک مضبوط اپوزیشن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور عوام کے درمیان رہ کر عوامی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔ تب ہی آنے والے وقت میں اقتدار کی تبدیلی کے خواب دیکھے جا سکتے ہیں اور جمہوریت کو بادشاہت میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی شکست سے سبق لیتے ہوئے ایک مضبوط اپوزیشن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور عوام کے درمیان رہ کر عوامی مفادات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔ تب ہی آنے والے وقت میں اقتدار کی تبدیلی کے خواب دیکھے جا سکتے ہیں اور جمہوریت کو بادشاہت میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے