نکاح کے معاملے میں تقدیر اور جدّوجہد
سوال:
میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھتاہے کہ اگر تقدیر میں زوجیت لکھ دی گئی ہے تومختلف لڑکیاں دیکھنے دکھانے کا عمل کیوں ہوتاہے؟ایک لڑکی کوکئی لوگ دیکھنے آتے ہیں، پھر اسے پسند نہیں کرتے، جس سے اسے اپنی توہین اور ذلّت محسوس ہوتی ہے اور وہ ڈپریشن میں چلی جاتی ہے۔ بہت تفتیش کے بعد کہیں نکاح ہوجائے، بعد میں اس میں کوئی خرابی نکل آئے توکہتے ہیں:تقدیر یہی تھی۔
کیاواقعی زوجیت کے بارے میں بھی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دیاجاتاہے،یا جب رشتے کی بات چل رہی ہوتی ہے تب اللہ تعالیٰ کی منشا پوری ہوتی ہے اور رشتہ پکاہوجاتاہے؟
جواب:
اسلام کے بنیادی عقائد میں تقدیر کا بھی شمارہوتاہے۔ ایمان مفصّل جن نکات پر مشتمل ہے ان میں یہ بھی ہے: وَالقَدرِ خَیرِہِ وَشَرِّہِ(اور یہ کہ تقدیر اچھی ہویا بری، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔)اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتاہے، اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور اِذن سے ہوتاہے۔اس کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’جان لو کہ اگرتمام لوگ مل کر تمہیں فائدہ پہنچانا چاہیں تونہیں پہنچاسکتے۔تمہیں صرف اتناہی ملے گا جتنا اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھاہوگا۔ اسی طرح اگر تمام لوگ مل کر تمہیں نقصان پہنچاناچاہیں تونہیں پہنچاسکتے۔ وہی ہوگا جو اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھا ہوگا۔‘‘ (ترمذی:۲۵۱۶)
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو عملی جدّوجہد نہیں کرنی ہے اور صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ہے۔ بلکہ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص محنت اور کوشش کرے، اس کے بعد اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردے۔ تقدیر کوشش کے ساتھ مربوط ہے ،نہ کہ اس کے بغیر۔
ایک صحابی (حضرت سراقہ بن مالکؓ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کیا:’’ آدمی جو کچھ عمل کرتا ہے وہ سابق تقدیر کی بنا پر ہوتا ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، یا حالات کے مطابق عمل بدل سکتا ہے؟ ‘‘آپؐ نے جواب دیا:’’ نہیں ، تقدیر لکھی جا چکی ہے اور قلم خشک ہوگئے ہیں۔‘‘ تب صحابی نے دریافت کیا:’’پھر ہم عمل کیوں کریں؟ جو کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔‘‘ اس پر آپؐ نے فرمایا:

اِعمَلُوا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ( مسلم:۲۶۴۸)

’’ عمل کرو، ہر ایک کو اسی کی توفیق ہوگی، جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھی ہوگی۔‘‘
نکاح کا بھی یہی معاملہ ہے۔ تقدیر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اچھے سے اچھا رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لڑکی کے سرپرستوں کو حق ہے کہ وہ اچھا داماد تلاش کریں، اسی طرح لڑکے کے گھر والوں کو بھی حق ہے کہ وہ اچھی بہو تلاش کریں۔ شریعت نے رشتہ تلاش کرنے میں دین داری ملحوظ رکھنے کو پسندیدہ قرار دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ان پہلوؤںکو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے جن کے ذریعے زوجین میں ہم آہنگی پیدا ہو اور تعلقات میں خوش گواری برقرار رہے۔
بعض مسلم گھرانوں میں بہو تلاش کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ بڑا غیر شائستہ اور تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ لڑکے کے گھر سے اس کی کئی رشتے دار خواتین لڑکی کے گھر جاتی ہیں۔ وہاں ان کی دعوت کا اہتمام ہوتا ہے۔ وہ لڑکی کا بہت باریکی سے معاینہ کرتی ہیں اور اس کے احوال جاننے کی کوشش کرتی ہیں۔ رشتہ پسند نہیں آتا تو وہیں پر ، یا وہاں سے واپس آکر انکار کر دیتی ہیں۔ یہ رویّہ حسّاس لڑکیوں کے لیے بڑا اذیّت ناک ہوتا ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ لڑکی اور اس کے گھر والوں کے بارے میں تحقیق ان کے علم میں لائے بغیر کی جائے اور رشتہ پسند آنے کے بعد ہی ان کے گھر جانا چاہیے۔
اگر کوئی رشتہ دیکھنے کے بعد لڑکے والوں کی طرف سے انکار ہو جائے تو لڑکی اور اس کے گھر والوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ اسے اللہ کی مصلحت جاننا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ رشتہ نہ ہونے میں کوئی نہ کوئی خیر ہوگا۔ انہیں کوئی دوسرا رشتہ دیکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے بھلائی کی امید رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔ اس کے یہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ کوشش کرنے سے ضرور کوئی رشتہ مل جائے گا۔وما ذٰلک علی اللّٰہ بعزیز۔

’’ آدمی جو کچھ عمل کرتا ہے وہ سابق تقدیر کی بنا پر ہوتا ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، یا حالات کے مطابق عمل بدل سکتا ہے؟ ‘‘آپؐ نے جواب دیا:’’ نہیں ، تقدیر لکھی جا چکی ہے اور قلم خشک ہوگئے ہیں۔‘‘ تب صحابی نے دریافت کیا:’’پھر ہم عمل کیوں کریں؟ جو کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔‘‘ اس پر آپؐنے فرمایا:
اِعمَلُوا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ( مسلم:۲۶۴۸)
’’ عمل کرو، ہر ایک کو اسی کی توفیق ہوگی، جو اللہ نے
اس کی تقدیر میں لکھی ہوگی۔‘

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے