حجاب کے خلاف پروپیگنڈا

اس وقت ملک میں حجاب کا موضوع گرم ہے۔اس سلسلے میں جب سے کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا ہے کہ ’اسلام میں حجاب لازم نہیں ہے،اور کالج کے رولز کے مطابق طالبات اس پر عمل کریں، سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ملک میں مسلم منافرت میں سیاسی حکمرانوں سے لے کر عوام تک، ہر جگہ اضافہ ہو رہا ہے۔اب حجاب ان کے نشانہ پر ہے۔
حالاں کہ ہندوستانی خواتین کے سر ڈھانکنے کے اعداد و شمار پر نظردوڑائیں تو یہ رپورٹ سامنے آتی ہے ،جسے دی وائر نے پیش کیا ہے ۔سر ڈھک کر گھر سے باہر نکلنے میں بہار، ایم پی اور راجستھان کی خواتین سب سے آگے ہیں۔وہیں مذہب کے نام پر مسلم خواتین آگے ہیں۔
بہار میں%90، مدھیہ پردیش میں %89، راجستھان میں %89، ہریانہ میں %86، اترپردیش میں %84 ،پنجاب میں %77، جھارکھنڈ میں %72، اڑیسہ میں %71، جموں کشمیر میں %70 ، ہماچل پردیش میں %69 ، گجرات میں %68 ، آسام میں %62، مہاراشٹر میں %45، کیرل میں %17، اور تامل ناڈو میں %16 خواتین سر ڈھک کر باہر نکلتی ہیں۔
حجاب پر اعتراض کرتے ہوئےمحترمہ انجنا اوم کشیپ نے کہا کہ مسلمان لڑکیاں آرمی اور پولیس جیسی فیلڈ میں آنے سے حجاب کی وجہ سے رک جاتی ہیں۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں
خواتین حجاب کے ساتھ ہر فیلڈ میںاپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تنزانیہ کی مسلم خاتون پارلیمنٹ میں برقعہ اور حجاب کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتی رہی ہیں ۔نیوزی لینڈ کی لیڈی وزیرِ اعظم نے حجاب کے ساتھ مسلم رواداری کےلیے خودکو پیش کیا تھا۔ حجاب ایک عورت کی پہچان ہے نہ کہ مذہبی نشانی ۔
مذہب کے نام پر بات کریں تو مسلم مذہب میں سو فیصد میں سے 89 خواتین سر ڈھک کر باہر نکلتی ہے۔ وہیں سیکھ مذہب میں %86 ، ہندو مذہب میں %61، بدھ مذہب میں %30، عیسائی مذہب میں %21اور عام آبادی میں %61 خواتین سر ڈھک کر باہر نکلتی ہیں۔
اس مسئلہ کو اس اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ صرف عوام کی توجہ اصل مدعوں سےہٹانے اور ووٹ بینک کے لیے ایسے ایشوز زیرِ بحث لائے جاتے ہیں اور انھیں اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ عالمی سطح پر بھارتی اقدار، تہذیب اور تمدن کی کیا شبیہ بن رہی ہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے