سیلانُ الرّحم (Leucorrhoea)
ایسی مریضہ کا علاج یہ ہے کہ خلط غالب کا تنقیہ کریں، پھر اس کے بعد رحم کی قوت غازیہ اور قوت ماسکہ کے لیے دوائیں دیں۔ میں نے اس مریضہ کو تیس دن تک بغرض تنقیہ ’نقوع شاہترہ‘ کا زلال پلایا اور شام کو معجون عشبہ دس گرام کھلایا۔بحمدللہ تنقیہ تام ہو گیا۔ اس کے بعد معجون دبید الورد صبح خالی پیٹ۔خمیرہ مروارید ایک چمچہ شام چار بجے۔ معجون مقوی رحم ایک چمچہ رات سوتے وقت صرف ایک ماہ تک اس ترتیب سے علاج کیا۔ مریضہ الحمدللہ کل دو ماہ کے علاج سے مکمل ٹھیک ہوئی۔ ’’… حکیم صاحب مجھے آٹھ دس سالوں سے سیلان کی شکایت ہے۔ جائے مخصوصہ ہر وقت بھیگی رہتی ہے۔ہر دن مجھے دو دو بار پیڈ بدلنا پڑتا ہے۔ رطوبت کبھی کم، کبھی زیادہ بہا کرتی ہے۔ اندر سوجن ہے۔ میں اکڑوں نہیں بیٹھ پاتی۔ ناف کے نیچے چھونے یا معمولی سا دبا دینے پر درد ہوتا ہے۔ میری کمر میں درد رہا کرتا ہے۔ معمولی سا کام کرنے پر طبیعت تھک جایا کرتی ہے۔ میری بارہ سال عمر کی بچی ہے۔ اس کے بعد سے ہی یہ سیلان کی شکایت ہو گئی۔ اس کے بعد سے اب تک کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس عرصہ میں ایک بار حمل ٹھہرا بھی تو دو ماہ بعد خراب ہو گیا۔ پوچھنے پر مریضہ نے بتایا کہ رطوبت زردی مائل خارج ہوتی ہے اور اس میں اب بدبو بھی رہنے لگی ہے۔‘‘ مریضہ جسمانی طور ہر بالکل کم زور، آنکھوں کے نیچے سیاہی مائل حلقہ اور چہرہ کی رنگت زرد تھی۔ ’’…حکیم صاحب مجھے پچھلے چار سال سے سیلان کی شکایت ہے۔ رقیق رطوبت تھوڑے تھوڑی وقفے سے ہر وقت بہا کرتی ہے اور یہ رطوبت خراش دار ہوتی ہے۔ باہری حصے میں جہاں لگتی ہے۔ خراش پیدا ہو جاتی ہے بلکہ وہ جگہ چِھل جاتی ہے۔ میں نے بہت علاج کیا، لیکن مکمل آرام نہیں ہوتا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ مریضہ کے چہرہ پر نہ تو بشاشت میں کمی تھی، نہ ہی کہیں سے وہ مریضہ لگ رہی تھی۔ اس کی ماں نے بتایا کہ اسے سیلان کی شکایت ہے۔ میں نے دیر تک مریضہ سے مرضی حالات معلوم کیے۔ لیکن مرضی علامات نہیں مل رہی تھیں۔ پھر بھی مرض سیلان کے مطابق دوا دی، لیکن دس دن بعد مریضہ نے کہا کہ اسے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ میں نے اپنی سمجھ سے تبدیلی کرکے دوا دی کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ اس بار جب آرام نہیں ہوا تو میں نے مریضہ سے اس کے شب و روز معلوم کیے۔ اس کے سونے جاگنے کے معمولات، ازدواجی تفصیلات۔ معلوم ہوا کی چار ماہ قبل ہی شادی ہوئی ہے، شوہر ایک ماہ ساتھ رہنے کے بعد سعودی چلے گئے اور جاتے وقت ایک موبائل اسے بھی دے گئے۔ رات جب پورا گھر سو جاتا ہے، تب شوہر نامدار کا فون آتا ہے۔ دیر رات تک گفتگو ہوتی ہے اور نتیجہ میں نہ رکنے والا سیلان کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں اس سیلان کے علاج میں ناکام رہا اور اپنی ناکامی پر خوش ہوں کہ میں سیلان کا ایک نیا سبب دریافت کرنے میں کامیاب رہا۔ اس سیلان کا اصول علاج یہی بنتا ہے کہ مریضہ سے ’ملٹی میڈیا سیٹ‘ ضبط کرلیا جائے۔ اسے بات کرنے کے لیے سادہ سیٹ دے دیا جائے اور شوہر کو ہدایت کی جائے وہ دیر رات گئے دیر تک فون پر بات نہ کرے۔ اپنی بیوی کی صحت کا خیال رکھے۔ اور ہر چار ماہ بعد پردیس سے گھر آ جایا کرے۔ یا اپنے ہی ساتھ بیوی کو بھی رکھے۔

علاج سیلان الرحم

اصول علاج:اصلی سبب کی طرف توجہ کرکے اصول علاج متعین کریں۔اصل سبب کو معلوم کرکے بروقت تدارک کریں۔ جس مرض کے سبب سے سیلان ہے پہلے اس مرض کا علاج کیا جائے۔ مریضہ کو صاف ستھرا رہنے کی تلقین کریں۔ مقامی صفائی (فرج و مہبل) کا خاص اہتمام کرنے کی تلقین کریں۔ اصلاحِ ہضم و رفع قبض کا خاص خیال رکھیں۔ اس مرض میں مبتلا مریضہ کو اکثر قبض کی شکایت رہا کرتی ہے۔ تمام بدن سے خلط غالب کا تنقیہ کریں۔ رحم سے جو رطوبت بہتی ہو، اس کا علاج یہ ہے کہ مریضہ سے بہنے والی رطوبت کی رنگت اور بو کے تعلق سے دریافت کریں۔اسی سے اندازہ لگائیں کہ بہنے والی رطوبت کا تعلق کس خلط سے ہے۔’’ خلط غالب معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مریضہ سے رطوبت کا رنگ دریافت کریں۔ چنانچہ اسکا رنگ سرخی مائل ہو، اس کے ساتھ حرارت ہو اور قارورہ غلیظ و سرخ ہو تو وہ خون کا غلبہ ہوگا۔ اگر اس کا رنگ زرد ہو رطوبت بدبودار ہو اور تشنگی کا غلبہ رہے تو اس کا سبب صفرا کی زیادتی ہوگی۔ اگر رطوبت کا رنگ سفید ہو اور بلغم کے دوسرے آثار پائے جائیں تو اس کا سبب بلغم کی زیادتی ہوگی اور اگر رطوبت سیاہی مائل غلیظ ہو اور اس کے ساتھ بدن میں خشکی اور لاغری ہو تو اس کا سبب سودا ہوگا۔ (اکسیر اعظم، ص۸۳۵) عموماً سیلان رطوبت کا سبب رحم اور مہبل کے اندر استر کرنے والی بلغمی جھلی کا مزمن ورم ہوا کرتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس ورم کو دور کرنے کی جانب توجہ کی جائے۔ ورم رحم اس مرض میں ایک ضروری سبب ہے۔ اس سلسلے میں حکیم اجمل خاں نے ان الفاظ میں آگاہ کیا ہے:’’ یاد رکھنا چاہیے کہ سیلان الرحم والی مریضہ کو ورم رحم کی خفیف یا شدید شکایت ضرور ہوتی ہے۔ اس لیے سیلان کے علاج کے ساتھ ساتھ ورم رحم کا علاج ضرور کرنا چاہیے۔ (حاذق، ص ۴۸۲) عمومی ضعف و نقاہت کو دور کریں۔اس مرض میں عموماً اعضائے رئیسہ بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ جس سے عمومی نقاہت ہو جاتی ہے۔ جس قدر کمزوری بڑھتی ہے، سیلان کی شکایت بڑھ جاتی ہے اور جس قدر یہ مرض سیلان بڑھتا ہے، کم زوری بڑھتی ہے۔ مریضہ کو کیلشیم کی کمی شدید ہوتی ہے۔ اس لیے علاج میں اس کا بطور خاص خیال رکھیں۔ ایسی دوا ضرور شامل کریں، جس سے کیلشیم کی کمی پوری ہو جو مقوی اعضاء رئیسہ ہوں۔ رحم کی قوت غازیہ کو بڑھائیں۔مرض سیلان کے علاج میں رحم کی قوت غازیہ کو بڑھانا ایک اہم سبب علاج ہے۔ اس قوت کو بڑھانے سے عمل عفونت بے اثر ہوتا ہے اور جلد صحت لوٹتی ہے۔ علاج سیلان میں اگر رحم کی قوت غازیہ کو نہ بڑھایا جائے تو کامل صحت نہیں ہوتی، صرف وقتی آرام ہوتا ہے۔’’ اگر مریضہ کا رنگ زرد ہو قوت کمزور ہو اور رطوبت دورہ سے آئے تو اس کا سبب قوت غازیہ کی کمزوری ہوگی۔‘‘ (اکسیر اعظم، ص ۸۳۵) رحم کی قوت غازیہ کو بڑھانے کے لیے غذا و دوا دونوں کا انتخاب ہونا چاہیے۔ لطیف و سریع الہضم اغذیہ واشربہ سے رحم کی قوت غازیہ میں اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے دودھ ایک مفید غذا ہے اور اس مقصد کے لیے ’معجون مقوی رحم‘ایک اچھا مرکب ہے۔ مجفف رطوبات دواؤں اور غذاؤں کا استعمال کریں۔جہاں عفونت سبب ہے۔ وہاں کے علاج کے ذیل میں یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ عمل عفونت کے لیے حرارت کی ضرورت ہوتی ہےاور حرارت کے ساتھ ساتھ رطوبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رطوبت کے اندر عمل عفونت بہت تیزی کے ساتھ ہوتا ہے۔ کبھی رحم کی طمثی عروق میں مادہ حیض رک کر عفونت اختیار کرلیتے ہیں۔ کبھی التہاب عنق الرحم کے باعث حرارت و رطوبت کی کثرت ہوتی ہے۔ اس لیے بغرض علاج ہم ایسی دواؤں اور غذاؤں کا ہم استعمال کریں جو مجفف رطوبات ہوں۔جو خشکی پیدا کریں اور قابض تاثیر کی حامل ہوں۔کیوں کہ جب رطوبت سوکھ جائے گی تو عفونت دور ہو جائے گی۔ یہ جراثیم وائرس پیراسائٹس فنگس جو اسی رطوبت سے خوراک لیتے ہیں۔ وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اسلئے اس نکتے کو ذہن نشین رکھیں۔ مانعات عفونت ادویہ کو استعمال میں لائیں۔ وہ ادویہ جو عمل تعفن کو روک دیتی ہیں اور تعفن پیدا کردینے والے مادے کو تباہ کردیتی ہیں، ایسی دواؤں کو استعمال میں لائیں۔ زعفران محلل ورم ہے۔ ورم رحم اور ورم جگر کو تحلیل کرتا ہے۔ (تاج المفردات ،ص ۵۹۴)زعفران دافع تعفن ہے۔ (منافع المفردات ،ص ۱۲۸)سیلان الرحم کے علاج میں ’معجون دبید الورد‘کو خاص اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس میں زعفران بڑی مقدار میں شامل ہے۔ اس معجون کے استعمال سے تبھی فائدہ ممکن ہے، جب زعفران پوری مقدار میں شامل ہو۔اگر عفونت عمق رحم میں ہے اور سیلان سے بدبو آتی ہے، ایسی صورت میں جوشاندہ افسنتین کا استعمال نہایت مفید ہے۔خلط غالب کا تنقیہ کریں۔خلط غالب خواہ سودا، صفرا، بلغم و دم ہو۔ میں ان تمام کا تنقیہ نقوع شاہترہ سے کرتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کامیابی ملتی ہے۔ میں نے آج تک کسی بھی مریضہ کو بطور فرزجہ کے استعمال کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا۔ میں محلل اورام دوا تمام سیلان کی مریضہ کو ضرور دیتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے ’معجون دبید الورد‘ ایک چمچہ صبح خالی پیٹ ہلکے گرم پانی سے لینے کی ہدایت کرتا ہوں۔ یہ معجون’ورم جگر ورم معدہ‘ کے ازالے کے لیے مفید ہے۔اور جہاں یہ علامات ملتی ہیں کہ عروق حیض میں مادہ معفنہ رک گیا ہے، اس صورت میں شربت نسوانی جوشاندہ افسنتین کے ساتھ صبح و شام پلاتا ہوں۔ عمومی ضعف و نقاہت کو دور کرنے کے لیے خمیرہ مروارید کا استعمال کراتا ہوں۔ اس سے کیلشیم کی کمی پوری ہوتی ہے اور اعضاء رئیسہ کو طاقت ملتی ہے، کیوں کہ ’’مروارید میں خالص کیلشیم ہوتا ہے‘‘۔(منافع المفردات، ص ۹۳) قابض اور مجفف رطوبات دوا استعمال کراتا ہوں۔ جہاں عفونت مزمنہ پاتا ہوں۔ تو دافع تعفن کے طور پہ دیگر دواؤں کے ساتھ جوشاندہ افسنتین ہمراہ شربت نسوانی پلاتا ہوں۔الحمدللہ عفونت دور ہو جاتی ہے۔ قابض و مجفف رطوبات کے لیے ایک سفوف استعمال کراتا ہوں، جس کا نام میں نے سفوف سیلان رکھا ہے۔

سفوف سیلان

یہ نسخہ مفردات کے مطالعہ اور برسہا برس کی ٹھوکروں کے بعد حاصل ہوا ہے۔نسخہ پیش خدمت ہے۔اجزا پر غور کریں۔یہ مجفف بھی ہے اورقوت غازیہ کو بھی بڑھانے والا ہے: سنگھاڑا خشک 1kg۔ مغزم تخم تمر ہندی500 gm۔ سنگجراحت500 gm مبدہ لکڑی 500 gm. مازو بے سوراخ500 gm۔ کشتہ پوست بیضہ مرغ500 gm۔ بھنا ہوا چنا500 gm۔ کچلہ مدبر 200 gm مصطگی50 gm کشتہ صدف 300 gm مروارید ناسقتہ 50 gm شکر 5 کلو۔ یہ سب ملاکر سفوف کریں۔ دس گرام سفوف شام کو ایک کپ دودھ سے۔سفوف سیلان کے نسخے پر غور کریں۔ یہ بحیثت مجموعی مقوی ہے۔ مجفف رطوبات ہے اور قابض بھی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نسخے میں مصطگی بھی شامل ہے۔(مصطگی ہاضم و کاسر ریاح ہے۔ دافع تعفن ہے،منافع المفردات: ص۲۰۶،مصطگی قبض کو دور کرنے والی بے ضرر دوا ہے ،تاج المفردات، ص ۶۸۸) اس سفوف میں مروارید بڑی مقدار میں شامل ہے۔ مروارید،مقوی اعضاء رئیسہ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ حا بس و قابض ہونے کے باعث جریان اور سیلان الرحم میں مفید ہے۔(تاج المفردات، ص ۷۰۱)اس نسخے میں کچلا مدبر شامل ہے۔ جو اپنے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ ’محلل اورام ہے اور مسہل تاثیر پیدا کرتا ہے۔‘ (تاج المفردات، ص ۵۴۴) نسخے میں کچلا مدبر کی شمولیت اس لیے بھی ضرری تھی کہ کہیں حا بس قابض دواؤں کی شمولیت سے قبض شدید نہ پیدا ہو جائے۔ اس سفوف میں جو مفردات شامل ہیں، ان میں غذائی پہلو بھی ہے۔ مجفف رطوبت کے ساتھ یہ قوت غازیہ کو بھی بڑھاتے ہیں۔ رحم کی قوت غازیہ قوت ماسکہ کو بڑھانے کے لیے معجون مقوی رحم ایک چمچہ رات سوتے وقت کھلاتا ہوں۔یہ معجون رحم کو قوت دیتی ہے سیلان رحم کے لیے مفید ہے۔ (قرابا دین مجیدی، ص ۳۴۰) اور ساتھ میں اپنا ایک کیپسول جس میں عمومی ضعف و نقاہت کو دور کرنے والے۔ رحم کی قوت غازیہ کو بڑھانے اور مجفف رطوبات اجزا شامل ہیں۔ اس کیپسول کو میں مفید تر پاتا ہوں۔ دو کیپسول رات سوتے وقت کھلانے کی ہدایت کرتا ہوں۔
کپیسول سیلان نسخہ
یہ نسخہ برسہا برس کی ٹھوکروں سے ترتیب پایا ہے۔ یہ قابض و مجفف رطوبات ہے۔ یہ مقوی اعضاء رئیسہ ہے۔ اس نسخے نے اب تک خطا نہیں کیا ہے۔نسخہ درج ذیل ہے: کشتہ صدف: 20/ گرام کشتہ مرجان: 20 /گرام کشتہ قلعی : 20/ گرام کشتہ فولا د: 20/گرام کشتہ پوست بیضہء مرغ: 20/ گرام سنگ جراہت: 40/گرام تمام کو ملاکر 500/ ملی گرام کے کیپسول میں بھر لیں۔ دو کیپسول رات سوتے وقت ایک کپ دودھ سے لیں۔ کیپسو میں شامل اجزا پر نگاہ ڈالیں۔ کشتہ مرجان یہ مقوی اعضاء رئیسہ ہے۔ ضعف و نقاہت کو دور کرنے کے لیے مفید ہے۔ (بیاض کبیر ،ج دوم ،ص ۱۶۱) کشتہ فولاد خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ منعش حرارت غریزی ہے۔ (بیاض کبیر، ج دوم ،ص ۱۵۹) کشتہ پوست بیض مرغ۔ سیلان منی، سیلان ودی اور سیلان الرحم کے لیے مفید ہے۔ (بیاض کبیر ،ج دوم، ص ۱۵۵)
میرا معمول مطب نسخہ
غالب رطوبات کے تنقیہ کے لیے نقوع شاہترہ مرض کی شدت کا لحاظ کرتے ہوئے کسی کو دس دن تو کسی کو بیس دن تک اورساتھ میں معجون عشبہ ایک چمچہ رات سوتے وقت کھلاتا ہوں۔’’ یہ معجون مصفی خون ہے تمام امراض فساد خون میں مفید ہے۔‘‘ (قرابا دین مجیدی، ص ۳۳۰) جس کسی مریضہ میں عفونت مزمنہ کی روداد پاتا ہوں، انہیں جوشاندہ افسنتین شربت نسوانی کے ساتھ پلاتا ہوں بالعموم جو نسخہ ریر استعمال ہے وہ حسب ذیل ہے:
ھوالشافی
معجون دبید الورد (ایک چمچہ دس گرام صبح نہار منہ)+سفوف سیلان (آدھا چمچہ) + خمیرہ مروارید (ایک چمچہ شام چار بجے) معجون مقوی رحم (ایک چمچہ) ہمراہ۔کیپسول سیلان (دو عدد رات سوتے وقت) الحمدللہ میرے مریض ٹھیک ہوتے ہیں۔ میں اپنی کسی مریضہ کو ایک Tabletبھی ایلو پیتھ نہیں دیتا۔نہ بطور فرزجہ کچھ میں انھیں نسخوں کے ذریعہ علاج میں ناکام نہیں ہوتا۔ برسہا برس کے مطالعہ اور عملی تجربہ کے بعد ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھا کر حاصل ہونے والے خزینے کو آنِ واحد میں لٹا دیا۔ اطبا اپنے تجربے سے اس نسخے کی تصدیق یا تکذیب یا اصلاح کریں مجھے خوشی ہوگی
مراجع و مصادر
۱۔ ذخیرہ خوارزم شاہی، احمد الحسن الجرانی، اردو ترجمہ حکیم ھادی حسین خان، ادارہ کتاب الشفا، دریا گنج نئی دہلی۔ ۲۔ کامل الصناعہ، ابوالحسن علی ابن عباس، اردو ترجمہ حکیم غلام حسین کنشوری، ادارہ کتاب الشفا، دریا گنج نئی دہلی۔ ۳۔ القانون فی الطب، ابن سینا اعجاز پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی سن اشاعت۲۰۱۰ء۔ ۴۔ ترجمہ کبیر،ج سوم چہارم، حکیم کبیر الدین صاحب، حکمت بک ڈپو، حیدرآباد سن اشاعت درج نہیں ہے۔ ۵۔تجربات طبیب،حکیم عبد الحمید دہلوی، تالیف: حکیم محمد سعید دہلوی، ہمدرد اکیڈمی، کراچی، سن اشاعت۱۹۷۳ . ۶۔ مطب عملی بوسیدہ، انتہائی بوسیدہ، ابتدائی اوراق گم ہیں ۷۔ امراض النساء، حکیم خورشید احمد شفقت اعظمی ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، سن اشاعت ۱۹۸۸ ۸۔ زنانہ امراض کا علاج، حکیم مجید احمد ناروی، دارالحکمت پبلی کیشنز نارہ، الہ آباد، سن اشاعت درج نہیں ہے۔
9. General Practice. Ghanshyam Vimaidya. Bhalani Publishing House porel Mumbai.
۱۰۔ مخزن حکمت،ج اول، ڈاکٹر و حکیم غلام جیلانی صاحب، اعجاز پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی، سن اشاعت ۱۹۹۶ء ۱۱۔ حاذق، حکیم اجمل خاں صاحب، بیسویں صدی پبلی کیشنز، مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی،سن اشاعت ۲۰۰۰۔ ۱۲۔ اکسیر اعظم، حکیم محمد اعظم خاں، مکتبہ دانیال، اردو بازار لاہور۔ ۱۳۔ قرابا دین مجیدی، دفتر جامعہ طبیہ دہلی، قدیم نسخہ، سن اشاعت درج نہیں ہے۔ ۱۴۔ بیاض کبیر،حکیم کبیر الدین، حکمت بک ڈپو ،حیدرآباد سن اشاعت ۱۹۷۷ء۔ ۱۵۔ منافع المفردات، تالیف، ڈاکٹر محمد یوسف انصاری، اعجاز پبلشنگ ہاؤس، دریا گنج، نئی دہلی، سن اشاعت ۲۰۰۹۔ ۱۶۔تاج المفردات، ڈاکٹر و حکیم نصیر احمد طارق، ادارہ الشفاء، دریا گنج نئی دہلی، سن اشاعت جولائی ۲۰۰۴۔

میں ناکام رہا اور اپنی ناکامی پر خوش ہوں کہ میں سیلان کا ایک نیا سبب دریافت کرنے میں کامیاب رہا۔ اس سیلان کا اصول علاج یہی بنتا ہے کہ مریضہ سے ’ملٹی میڈیا سیٹ‘ ضبط کرلیا جائے۔ اسے بات کرنے کے لیے سادہ سیٹ دے دیا جائے اور شوہر کو ہدایت کی جائے وہ دیر رات گئے دیر تک فون پر بات نہ کرے۔ اپنی بیوی کی صحت کا خیال رکھے۔ اور ہر چار ماہ بعد پردیس سے گھر آ جایا کرے۔ یا اپنے ہی ساتھ بیوی کو بھی رکھے۔

1 Comment

  1. Hafiz Akhtar Hussain

    بیماریوں کے متعلق ق علاج و معالج کے بارے میں

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے