مارچ ۲۰۲۳

میں اپنے والد کی اکلوتی بیٹی ہوں، میرے تین بھائی ہیں ۔مجھے اپنے ابو سے بہت محبت ہے، میرے بچپن میں ہی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا ۔ بچپن سے ہی میری خواہش،رہی ہے کہ میرے والد میرے سر پر شفقت سے اپنا ہاتھ پھیریں ، مجھے بیٹی کہیں، مجھے قریب بٹھائیں ،مجھ سے بات کریں ،لیکن کبھی میرے والد نے بظاہر توجہ نہیں دی، مجھ سے دوری بناکر رکھی ،حالانکہ وہ مجھے پیسے دیتے تھے یا کبھی کبھی رزلٹ پوچھ لیا کرتے تھے۔
ابا نے مجھ سے اتنی دوری بنایا کہ میری وداعی کے موقع پر بھی مجھ دور سے تسلی دے کر رخصت کردیا، جب کہ میری دلی تمنا تھی کہ ماں نہیں تو والد یا بھائی کے کاندھے پر سر رکھ کر رو لوں ۔یہی وجہ سے کہ میں اپنی ہندو سہیلی کے والد کو جب کلوز ہوتے دیکھتی تھی، تو مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی ۔
اب بھی شادی کے بعد میرے شوہر سے ان بن ہوجائے تو ڈپریسڈ ہوجاتی ہوں کہ میرے والد ہاتھ رکھ کر تسلی نہیں دیتے ہیں۔ کئی مسلمان لڑکیوں کو یہ شکایت ہوتی ہے ،اس لیے کبھی کبھی اداسی میں مجھے اسلام سے نفرت ہوتی ہے کہ کیوں ہر مسلمان والد اپنی بیٹی سے ظاہری محبت نہیں کرسکتا؟کیا اسلام باپ بیٹی کے رشتے میں اس کی اجازت بھی نہیں دیتا؟

ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس صاحبہ سے رہ نمائی حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب آئیکن پر کلک کریں۔

Comments From Facebook

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مارچ ۲۰۲۳