برسات کا مہینہ تھا۔ آسمان پر بادل گھرے ہوئے تھے۔ کالے کالے،گہرے گہرے۔ سونیا اور مونی برآمدے میں بیٹھے کھیل رہے تھے۔ امی باورچی خانے میں پوریاں تل رہی تھیں ۔ آپی آلو چنے کی بھابھی بنارہی تھیں ۔ سونیا اور مونی کھیلتے کھیلتے تھک گئے تو سوچنے لگے، اب کیا کر یں؟ یکا یک سونیا کی آنکھیں چپکنے لگیں۔ اسے ایک نیا خیال سوجھا تھا۔
اس نے مونی سے کہا:
’’مونی بھیا، وہ جو سامنے شیخ صاحب کا باغ ہے ناں، اس میں کھمبیاں اگ آئی ہیں ۔کل میں نے دیکھی تھیں ۔‘‘
مونی نے پوچھا: ’’کھمبی کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’ ہوتا نہیں ، ہوتی ہے ۔‘‘
سونیابولی :
’’ تم نے بھی سانپ کی چھتری نہیں دیکھی؟ برسات میں اگتی ہے۔‘‘
’’ارے واہ !‘‘
مونی نے کہا:
’’سانپ کی چھتریاں تو میں نے بہت دیکھی ہیں لیکن انہیں کیا ہوا؟‘‘
’’ ہوا تو کچھ نہیں۔‘‘
سونیا بولی:
’’ چلو توڑ کر لائیں ۔ ان کی بھاجی بڑی مزے دار ہوتی ہے، پوریوں کے ساتھ کھا لیں گے ۔‘‘
مونی جھٹ پٹ اٹھ کھڑا ہوا۔
سونیا آسمان کی طرف دیکھ کر بولی:
’’ کہیں مینہ نہ پڑنے لگے، اپنی چھتری لے لو۔‘‘
مونی نے کہا:
’’واہ! چھتریاں تو باغ میں ڈھیروں مل جائیں گی۔ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟تم بھی نرے بدھو کے بدھور ہے۔ ‘‘
سونیابولی:
’’ ارے میرے بھولے بھیا! وہ تو بہت تھی منی ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں بارش سے کیا بچا ئیں گی ۔ تم اپنی چھتری لے لو، میں اپنی ٹوکری لے لیتی ہوں ۔‘‘
مونی کمرے میں سے چھتری لے آیا اور سونیا نے ٹوکری اٹھالی ۔ دونوں بہن بھائی باغ میں پہنچے اور سانپ کی چھتریاں اکھیڑ اکھیڑ کر ٹوکری میں ڈالنے لگے۔ اچانک بجلی چمکی ۔ پھر زور سے بادل گر جا، گڑ… گڑ… ڑ ، اور ایک دم رم جھم رم جھم برکھا برسنے لگی۔
مونی نے ٹوکری اٹھائی ،سونیا نے چھتری لگائی اور بھاگے گھر کی طرف سر پٹ ۔ راستے میں ایک درخت تھا۔ اس کی شاخیں جھکی ہوئی تھیں ۔مونی اور سونیا درخت کے نیچے سے گزرے تو چھتری درخت کی شاخوں میں الجھ گئی اور اس میں جگہ جگہ سوراخ ہو گئے۔
’’یااللہ !‘‘
سونیا نے کہا:
’’سوراخوں میں سے پانی آ رہا ہے۔ ہم تو بھیگ جائیں گے۔‘‘
’’ مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔‘‘
مونی بولا :
’’اگر ہم دیر سے پہنچے تو امی اور آپی ساری پوریاں کھا جائیں گی ، پھر بھلا ہم کیاکھائیں گے؟‘‘
سونیا جل کر بولی:
تمھیں پوریوں کی پڑی ہے اور مجھےکپڑوں کی فکر ہے۔ یہاں آس پاس کوئی ایسی چیز بھی تو نہیں جس کے نیچے کھڑےہو جائیں ۔‘‘
مونی منہ لٹکا کر بولا :
’’ یہ سانپ کی چھتریاں بھی ہمارے کا م نہیں آسکتیں ۔ ان کے نیچے تو ایک جھینگر ہی بیٹھ سکتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے سر کھجایا ، پھرچٹکی بجا کر بولا:
’’ آئیڈیا! میرے دماغ میںایک ترکیب آئی ہے۔‘‘
اس نے سونیا سے چھتری لی اور اس کے سوراخوں میں سانپ کی چھتریاں لگادیں۔ اب جو سونیا نے چھتری لگائی تو ایک بوند بھی ان کے کپڑوں پر نہیں پڑی۔سانپ کی چھتریوں نے چھتری کے سوراخ بند کر دیے تھے۔
’’اوہ!کبھی کبھی تو تم بھی عقل کی بات کر جاتے ہو۔‘‘
سونیا نے ہنس کر کہا:
’’میں تو تمھیں ذرا بدھو ہی سمجھتی تھی ۔ ‘‘
دونوں بہن بھائی گھر آئے ،تو پور یاں تیار ہو چکی تھیں ۔ابو جان بھی آگئے تھے۔امی نے بچوں کو دیکھا تو بولیں:
’’ارے بھئی !کہاں چلے گئے تھے تم لوگ؟ پوریاں ٹھنڈی ہورہی ہیں ۔‘‘
سونیا بولی:
’’ہم کھمبیاں لینے گئے تھے۔ بس اب انھیں جھٹ پٹ پکالیں۔ پوریوں کے ساتھ کھائیں گے۔‘‘
امی نے کہا:
’’ابھی تو چولہے کے پاس سے اٹھ کر آئی ہوں ،کل پکاؤں گی۔ با در چی خانے میں رکھ آؤا نہیں ۔‘‘
سونیا بولی:
’’ابھی پکائیے! اتنی مصیبت سے تو توڑ کر لائے ہیں ۔‘‘
امی نے ہنس کر کہا :
’’ یہ تم پھٹ پھٹ کیوں کر رہے ہو؟‘‘
مونی بولا :
’’ مجھے سردی لگ رہی ہے ۔ بارش میں بھیگ گیا ہوں ۔‘‘
ابو نے مسکرا کر کہا:
’’ چلیے!بچوں کی بات مان لیجے ،لیکن بھئی، پہلے تم دونوں جا کر کپڑے بدل لو۔ ‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢