وہ بظاہر ایک معمولی سی خبر تھی، اور اس طرز کی خبر شاید ہی کبھی اخبار کی شہ سرخی بن سکی ہو۔ ملک کے ایک مؤقر اخبار کے اندرونی صفحات پر اسے محض چھوٹی سی جگہ مل سکی تھی۔ ایک علاقے میں کارپینٹر کا کام کرنے والے ایک شخص نے معمولی جھگڑے کے بعد خود کشی کرلی۔ وہ شام ڈھلے، تھکا ماندہ گھر لوٹا تھا۔ بیوی کے پاس جانے سے پہلے ماں نے راستے میں ہی روک لیا اور نمک مرچ لگا کر بہو کے بارے میں خوب لگائی بجھائی کی۔ وہ نہایت آگ بگولہ ہوکر بیوی کے پاس پہنچا۔ یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ آخر تنگ آکر اس شخص نے خودکشی کرلی۔
گھریلو جھگڑوں میں تشدد، طلاق، یہاں تک کہ قتل کی خبریں اکثر و بیشتر اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ان سب کے پیچھے اگر کوئی وجہ نظر آتی ہے تو وہ لگائی بجھائی اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے کی عادت ہے۔
زندگی دنیا کی ایک قیمتی نعمت ،ہے اور ظاہر ہے کوئی بھی اس میں زہر گھولنا پسند نہیں کرے گا۔
جن خواتین و حضرات نے ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ’’مراۃالعروس‘‘کا مطالعہ کیا ہے، انہوں نے یقیناً اکبری اور اصغری کے قصے کے ساتھ حجن کا کردار بھی پڑھا ہوگا۔ یہ عورت ادھر کی ادھر لگاتی، اور موقع ملتے ہی ٹھگ لیتی۔ حجن بی کی طرح ہی ہمیں ایک اور تصوراتی کردار بی جمالو کا بھی ملتا ہے، بی جمالو کا مشن بھی ایک گھر کی خبر سن کر دوسرے گھر پہنچانا ہے۔ بی جمالو کا کردار اتنا زبان زد عام ہوا کہ کہیں بھی کوئی لگائی بجھائی کرتا ہے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے ’’کیا بی جمالو والی حرکتیں شروع کر دیں!‘‘
پہلے تو بی جمالو کا کردار خواتین تک محدود تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جمالو کا کردارہمارےمعاشرے کے بہت سے افراد نے بھی اپنا لیا ہے ۔یہ وبا اب ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں دکھائی دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے میں نفرت ،عداوت اور رقابت کے جذبات عام ہیں۔ ان جذبات کی بدولت ایسا آدمی دوسرے کو نقصان پہنچانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ ہمارے معاشرے کی بہت سی خرابیوں کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہی لگائی بجھائی ، چغل خوری، غیبت یا پیٹھ پیچھے برائی کرنا بھی ہے۔
ریسٹورنٹ ،ہوٹل یا دفاتر میں آپ کا جانا ہو اور وہاں کے لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیں تو اکثر کسی تیسرے فریق کی برائیوں کا تذکرہ سننے کو ملے گا۔ فلاں بڑا چالاک ہے ، شکل سے معصوم لگتا ہے مگر پتھر دل ہے، فلاں کسی کوہنستا مسکراتا اور خوش نہیں دیکھ سکتا وغیرہ وغیرہ۔
ہمسایہ خواتین بھی غیبت اور چغل خوری میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ ہر محلے میں ایک ،دو یا کئی خواتین ایسی مل سکتی ہیں جو ایک گھر کے داخلی معاملات کی ٹوہ لگا کر اسے بڑھا چڑھا کر دوسرے گھر میں بیان کرتی ہیں۔
یہ وبا ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی پہنچ چکی ہے۔ طالب علم اپنے اساتذہ سے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور اساتذہ طالب علموں سے، طلبہ و طالبات اپنے اساتذہ کے کئی القاب رکھ دیتے ہیں اور پیٹھ پیچھے انہی القاب سے ان کو پہچانا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ القاب اگر متعلقہ استاد کو معلوم ہو ںتو اسے برا ہی محسوس ہوگا، چنانچہ یہ بھی غیبت میں شمار ہوتا ہے۔ نئی نسل کو یہ عادت اپنے بڑوں سے ہی ملی ہے،جب وہ اپنے بڑوں کو اس قبیح عادت میں مبتلا پاتے ہیں۔ ان کےسامنے خاندان کے لوگوں کو برا بھلا کہا جائے، ہمسایوں میں کیڑے نکالے جائیں، حکومتِ وقت اور اربابِ اختیار پر مسلسل تنقید اور طعن و تشنیع کیا جائے تو بچے کیونکر ان افعال کو برا سمجھیں گے، بلکہ وہ تو اسے کوئی اچھی بات سمجھ کر قبول کرلیں گے۔
قران مجیدنے ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہنے اور غیبت کرنے کو اپنے سگے بھائی کا مردار گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اور واقعہ بھی ہمارے لیے قابلِ غور ہے، جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ غیبت اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں کتنی ناپسندیدہ ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا’’ یارسول اللہ !صفیہ( رضی اللہ عنہ) کی برائی کے لئے تو ٰان کا پست قامت ہونا ہی کافی ہے۔‘‘
حضورﷺ نے اس جملے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’ تم نے ایسی بات کی ہے ،اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو وہ بھی آلودہ ہو جائے۔ ‘‘
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ غیبت کا کفارہ یہ ہےکہ تم اس شخص کے لیےدعاء مغفرت ان الفاظ میں کرو،اے اللہ! تو میری اور اسکی مغفرت فرما۔‘‘
غیبت اور چغل خوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دل میں عداوت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسلام یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ایک بندہ مومن اپنے دل میں کسی دوسرے انسان سے نفرت کے جذبات رکھے۔وہ ممکنہ حد تک اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کر سکے تو ضرور کرے، لیکن اس بنا پر نفرت نہ رکھے اور اسے برا نہ کہے۔ اسلام ہم سے یہ توقع رکھتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے محبت والفت کے جذبات رکھیں ۔ کبھی بھی ایسی فضا قائم نہ ہو جو دو دلوں میں فرق ڈال دے اور معاشرے میں فتنہ و فساد کا سبب بن جائے ۔ غیبت و چغل خوری، لگائی بجھائی اور پیٹھ پیچھے برائی کرنا اسلام کے مطلوبہ پرامن معاشرے کی تشکیل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، چنانچہ قرآن وسنت میں اسے سخت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا’’ یارسول اللہ !صفیہ( رضی اللہ عنہ) کی برائی کے لئے تو ٰان کا پست قامت ہونا ہی کافی ہے۔‘‘
حضورﷺ نے اس جملے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’ تم نے ایسی بات کی ہے ،اگر اسے سمندر میں ملا دیا جائے تو وہ بھی آلودہ ہو جائے۔ ‘‘

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢