تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری
تحسین عامر
دراصل بیچ میں خود پودا اگنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔بیرونی عوامل صرف ذریعہ بنتے ہیں۔ایک اچھی کوالٹی والا بیج جب زرخیز زمین میں بویا جاتا ہے اور مناسب نگہداشت کی جاتی ہے تب وہ بہت تیزی سے نمو پاتا ہے Germinateہوتا ہے اور لہلہانے لگتا ہے ،پھر پھل پھول دیتا ہے ۔ اس پرپرندے اپنا آشیانہ بناتے ہیں ۔وہ آس پاس کے لئے باعث خیر بنتا ہے۔
اسی طرح ایک دین کا شعور رکھنے والی لڑکی دینی مدرسے میں داخل ہوتی ہے، تب وہاں کی تعلیم اسے واقعی Practicing باعمل عالمہ بنا سکتی ہے۔
اگر لڑکی میں دین کا صحیح شعور نہ ہو تب اعلیٰ سے اعلیٰ دینی مدارس ، بڑے سے بڑے استاد بھی اس کی تربیت نہیں کرسکتے۔ مدارس میں صرف علم حاصل ہوسکتا ہے۔ اساتذہ ماحول فراہم کرسکتے ہیں۔ دین کا بنیادی شعور اور تربیت دینا والدین کا فرض ہوتا ہے۔
عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسی طالبات جو دنیاوی تعلیم میں کمزور ہیں یا دلچسپی نہیں رکھتیں ، والدین ان کو دینی مدارس میں داخل کرادیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہاں کی عالمیت کی ڈگری لڑکی کے رشتے کے معاملے میں مددگار ہوگی۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے، جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر شعور کے ساتھ اس کو مانتا ہو۔ اسلام کے معنی خدا کی اطاعت و فرماں برداری کے ہیں۔ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردینا اسلام ہے۔
۳۔لڑکیوں کو صرف Professional تعلیم دینا کافی ہے ؟ یا گھر گرہستی کی تربیت بھی ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں۔ صرف Professional تعلیم کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ گھر گرہستی کی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔اس کاانتظام ضرور ہونا جاہیے تاکہ زندگی میں توازن( Balance)برقرار رہے۔دینی مدارس میں اس کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔اور امارہ اور اس جیسے Cases کے پیش نظر ضرور کیا جانا چاہیے۔
۴۔ کیا چبوترہ Culture کا رخ تعمیری کام کی جانب موڑا جاسکتا ہے؟
جواب : یقیناً چبوترہ کلچر کا رخ تعمیری کام کی جانب موڑا جانا چاہیے۔ یہ کام سخت مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
کم از کم اتنا علم ہر مسلمان کو حاصل کرنا چاہیے کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے، اس کا لب لباب کیا ہے۔ نبی کریمﷺ جس چیز کو مٹانے کے لیے اور جو چیز قائم کرنے کے لیے تشریف لائے،اس کو خوب پہچان لے۔اور وہ اس خاص طریقۂ زندگی سے واقف ہوجائے،جو اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے۔اتنے علم کے لیے بہت زیادہ وقت درکار نہیں، بلکہ روزانہ ایک گھنٹہ کافی ہے۔ یہ کام کسی ایک جماعت کا نہیں، بلکہ اصلاح معاشرہ کی تڑپ رکھنے والی پوری امت مسلمہ کا ہے۔نیزنظام چبوترہ کی از سر نو اصلاح کی ضرورت ہے۔
امارہ کے اس Case سے نظام اعتقاد Belief System کی اہمیت کھل کر سامنے آتی ہے، جسے ہم ایمان کہتے ہیں۔Rossکے مطابق نظام اعتقاد کا کنٹرول حکومت اور اس کے قوانین سے بھی زیادہ مضبوط اور ہمہ گیر ہوتا ہے۔(بحوالہ :اصلاح معاشرہ منصوبہ بند عصری طریقے)
۲۔کیا شادی سے قبل پری میریج کونسلنگ ضروری ہے؟
جواب: تعلیم صرف معلومات نہیں فراہم کرتی ہے بلکہ زندگی گزارنے کا حسن بھی بخشتی ہے۔
مسائل کے حل کی حکمت سکھاتی ہے۔پرانے زمانے میں گھر کے بڑے نانیاں اور دا دیاں تربیت کیا کرتی تھیں۔ اب جدید زمانے میں اگر یہ میسر نہ ہو تب پری میریج کونسلنگ ضروری ہو جاتی ہے۔
توقعات کا بوجھ
شیریں دلوی
درج بالا کیس میں ایک ہفتہ قبل پڑھ چکی ہوں، انہوں نے مجھے پرسنل پر بھیجا تھا، مگر اس میں فیض اور ساس کی زبان و لہجے کو ہو بہو پیش کیا تھا(حیدرآبادی لہجے میں۔) اس کیس کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ساس اور بہو دونوں سیر کو سوا سیر ہیں۔
کسی لڑکی نے علم دین حاصل کر لیا، تو اسے عالمہ کہا جاتا ہے، مگر کیا وہ عاملہ بھی ہے؟ اس نے جو علم حاصل کیا ہے، اگراس کے مطابق عمل نہیں کر رہی ہے، تو علم کا قصور نہیں۔
علم عمل کے بغیر بیکار ہے۔ علم کے ساتھ ساتھ گھر کی تربیت کا اس میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ لڑکی اگر مزاجاً ایسی ہو، تو لفظ عالمہ کی گردان کر کے اس کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ امارہ کی ذاتی غلطیوں اورخامیوں کے لیے یہ کہنا کہ ’’عالمہ کیا ایسی ہوتی ہے؟‘‘غلط جملہ ہے۔
جو ساس اور ان کے شوہر فیض کی زبان سے ادا ہوتا رہا۔ لڑکی نے اگر مکمل علم دین حاصل کیا ہے اور اس پر عمل بھی کرے، تو گھر جنت بن سکتا ہے، خواہ ساس اور شوہر کی شخصیت میں خامیاں ہوں۔ اچھی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ بہو حسن اخلاق سے ایسے معاملات ہینڈل کر سکتی ہے۔
اگر کوئی لڑکی مستند عالمہ نہیں ہے، مگر اس کے گھر کا ماحول دینی ہو،دینی ماحول کی پروردہ ہو، تو فجر کی نماز کبھی قضا نہیں کرے گی، نہ ہی چاقو سے خود کو زخمی کرنے کی کوشش کرے گی۔ نہ اسے ٹی وی یاد آئے گا نہ ہی چبوترہ یاد آئے گا۔ ٹی وی سیریل دیکھ کر وقت گزارنا اور چبوترے پر گپیں کرنا یہ ہماری تہذیب نہیں۔ ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ کا استعمال ٹائم پاس کے لیے، جو لوگ کر رہے ہیں، وہ دنیا میں خسارے میں ہیں اور ان کی آخرت بھی خسارے میں۔
اس کیس میں دونوں جانب کی باتیں پیش کی گئی ہیں۔ رفیعہ نوشین صاحبہ نے من وعن پیش کیا ہوگا، مگر فریقین کس حد تک سچ بول رہے ہیں، وہ جانتے ہیں، یا رب جانتا ہے۔
یہاں والدین کی خاص طور سے والدہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بیٹی کی تربیت اس انداز سے کرے کہ وہ جہاں جائے، اس گھر میں بآسانی ایڈجسٹ ہو جائے۔
عام طور سے ساس کا یہ خیال ہوتا ہےکہ بیس بائیس سال کی بہو، بالکل ان ہی کے انداز میں گھر کی ذمہ داری سنبھال لے گی ،یا سارے کام کر لےگی، تو یہ توقعات غلط ہیں۔ وہ اپنی عمر، تجربہ اور تربیت کے مطابق کی کام کر سکتی ہے۔
ایسے بہت سے کیس سامنے آتے ہیں۔ضروری نہیں کہ قصوروار بہو ہی ہو، کبھی ساس اور شوہر بھی زیادتی کرتے ہیں۔
یہ سب دین سے دوری کے نتائج ہیں۔
اللہ بہتر جانتا ہے۔
آپ کی فرمائش پر ہم نے اپنے تاثرات پیش کر دیے ہیں۔
اس کیس کو بہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
تعمیر کا نیا منصوبہ
صدیقی نسیم السحر عبدالقدیر
ماہنامہ ھادیہ کے جولائی کے شمارہ میں پیش کیا گیا کیس ہمارے سماج کا ایک ایسا المیہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ھادیہ کا اس مسئلےکی جانب توجہ دلانا قابلِ تعریف ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور کا تعلیمی نظام انسان کو تعلیم تو دیتا ہے لیکن تربیت نہیں کرتا ،یا یوں کہیں کہ علم تو دیتا ہے لیکن اس پر عمل کرنا نہیں سکھاتا۔
یقیناً دینی مدارس پر اس کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن ہمیں اس بات کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ صرف دینی مدارس ہی کو نہیں، بلکہ عصری مدارس کو بھی اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرنےہوں گے۔
ہم ایسے اساتذہ کو مدارس کی ذمہ داری دیں، جو صرف پیسہ کمانے کی نیت سے نہیں بلکہ طلبہ و طالبات کے خیر خواہ بن کر، خدا سے ڈرتے ہوئے اپنی ذمہ داری انجام دیں۔ جو صرف علم ہی نہیں بلکہ شعور و عمل کے لحاظ سے بھی بہترین ہوں۔ جو صرف صالحیت ہی نہیں بلکہ صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
پری میرج کاؤنسلنگ کے متعلق میرا یہ ناقص ذہن کہتا ہے کہ یہ ضروری تو ہے لیکن کافی نہیں ہے۔
پری میرج کاؤنسلنگ یقیناً ہونی چاہیے جس میں لڑکے اور لڑکی کو شادی شدہ زندگی سے متعلق اسلامی تعلیمات دی جائیں، انھیں ان کے حقوق و فرائض بتائے جائیں، شادی شدہ زندگی کے مسائل، ان سے اپنی زندگی کو محفوظ رکھنے اور انھیں حل کرنے کے مختلف طریقے بتائے جائیں،لیکن ہمیں یہ بات ماننی ہوگی کہ ایک روزہ ورکشاپ یا کچھ دنوں کی ٹریننگ سے انسان یہ سب سیکھ لے، یہ ممکن نہیں۔
اس کے لیے والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ والدین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ صرف تعلیمی اداروں میں داخل کروا دینے سے ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ اولاد کے ساتھ وقت گزارنا، انہیں مختلف طریقوں سے زندگی گزارنے کا فن سکھانا،انھیں سماج سے جوڑنا، ان کی خوبیوں کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی خامیوں کی بہترین طریقے سے اصلاح کرنا ؛غرض یہ کہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو رب برتر کی ناراضگی سے بچانے کے لیے جو ممکن ہو کرنا ہوگا۔
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاوٴ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘(التحریم: 6)
اسلام گھر کو عورت کا پہلا اور سب سے اہم محاذ قرار دیتا ہے۔ گھر کے کاموں اور معاملات کو خوش اسلوبی سے انجام دینا، گھر کے ماحول کو اسلامی طرز پر ڈھالنا اور بچوں کی اسلامی خطوط پر پرورش کرنا خواتین کا اولین فرض ہے۔
طالبات کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ صرف علم حاصل کر لینا ہمارے لیے کافی نہیں بلکہ جو بھی علم حاصل کریں اس پر عمل بھی کریں اور اسے مخلوقِ خدا کو نفع پہنچانے کا ذریعہ بنائیں،ورنہ اس طرح کی نام نہاد تعلیم یافتہ بے عمل لڑکیاں نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ لوگوں کو تمام تعلیم یافتہ لڑکیوں ہی سے برگشتہ کر دیتی ہیں ۔اسی طرح جن افراد کو ایسی لڑکیوں سے سابقہ پیش آئے انھیں بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے میں اعتدال سے کام لیں۔ کسی گروہ کے کچھ افراد کے طرز عمل کو دیکھ کر پورے گروہ سے برگشتہ ہوجانا کوئی عقلمندی نہیں۔
اس کیس کا آخری سوال توجہ طلب ہے۔ یقیناً ہمیں چبوترہ کلچر کو تعمیری کاموں کی جانب موڑنا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب ہم جیسے تعمیری سوچ کے دعویدار افراد اپنے خول سے نکلیں گے اور اس کام کو انجام دینے کے لیے میدان عمل سنبھالیں گے ۔ سماج کے مسائل میں دلچسپی لیں گے، ان کے حل کی کوشش کریں گے، سماج کے دیگر افراد اور چبوترہ کلچر کی شکار ان لڑکیوں کو برا سمجھنے کی بجائے ان سے دوستانہ روابط قائم کرکے، ان کی خوشی و غم میں شرکت کرکے انھیں اپنائیت کا احساس دلا کر خود کو ان کا خیر خواہ ثابت کریں گے اور اپنی کوششوں کا صلہ اللّٰہ تعالیٰ کی رضا میں تلاش کریں گے۔
اسی سے ہمارے الفاظ میں تاثیر ہوگی، ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی اور سماج میں تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ جس انبیائی مشن کے ہم وارث ہیں وہ ہم سے یہی تقاضہ کرتا ہے کہ ہم تقریر وتحریر کے ساتھ ساتھ میدان عمل کے بھی سپاہی بنیں۔
رب برتر سے التجا ہے کہ بار الٰہا! ہمیں جو علم تونے عطا کیا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ سماج کے مسائل پر سنجیدگی سے سوچنےاور انہیں حل کرنے کی کوشش کرنے والا بنا۔ ہمیں اپنے دین کے کام کے لیے چن لے اور ہم سے راضی ہوجا۔ آمین
ھادیہ ای۔میگزین کا جاری کیا گیا نیا کالم
’’کیس اسٹڈی‘‘پیش کیا جارہا ہے۔ اس کیس پر آپ کی رہ نمائی کیا ہے؟ہمیں لکھ بھیجیں سب سے بہترین رہ نمائی کو میگزین میں شائع کیا جائے گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢