آج گھر میں بڑی گہماگہمی کا عالم تھا۔ ابو کے نئے دوست ،جنہوں نے حال ہی میں آفس جوائن کیا تھا اور بہت جلد گھل مل بھی گئے تھے،ابو نے دونوں فیملیز کے تعارف اور باہمی مراسم کو مضبوط بنانے کے لئے انہیں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیاتھا۔ امّی صبح سے ہی کچن میں گھسی تھیں۔ڈھیر سارے کام تھے، سو مجھے بھی اپنی کتاب پرے رکھ کر چاروناچار ان کی مدد کے لیے جانا پڑا۔
میرا چھوٹا بھائی ارحم باہر سے کھیل کر پانی کا شور مچاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا ۔ جلد بازی میں ارحم کھڑے ہوکر غٹاغٹ پانی پینے لگا۔
’’ ارحم یہ کیا طریقہ ہے پانی پینے کا؟کم از کم بیٹھ کر تو پیا کرو۔‘‘ امّی کی نظر پڑی تو فوراً ٹوکا۔
ہماری امی ہم دونوں کی تربیت کے معاملے میں کافی سنجیدہ تھیں۔ جتنی شفیق تھیں ،تربیت کے معاملے میں اتنی ہی سختی کا مظاہرہ کرتیں۔
احمد انکل مع اہلِ خانہ تشریف لا چکے تھے۔ امی نے واقعی بڑی پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر امی اور مہمان خواتین کسی فقہی مسئلہ پر تبصرے کر رہی تھیں، جبکہ ابو اور انکل باہر اپنے بزنس پر گفتگو کر رہے تھے۔ اچانک ارحم آ کر انکل سے آئس کریم کھانے کے لئے بیس روپیےکی مانگ کرنے لگا ۔ ارحم کی اس بات سے مجھ سمیت امی اور ابو بھی بری طرح چونکے ۔
’’بیٹا میرے پاس سے لے لو؟‘‘ ابو نے پیسے پکڑانے چاہے لیکن وہ اسی بات پر بضد رہا کہ انکل سے لوں گا۔
’’بیٹا مہمان سے پیسے نہیں مانگتے ۔ آپ ابو سے لے لیںناں۔‘‘ امی نے پیار سے سمجھانا چاہا،مگر ارحم ضد پر اتر آیا۔
’’ارے کوئی بات نہیں حامد بھائی، بچے تو ہوتے ہی ناسمجھ ہیں ۔‘‘ انکل نے ارحم کو پیسے دیئے۔
ارحم خوشی سے ’’تھینک یو انکل ‘‘کہتا ہوا بھاگا، جبکہ امی اور ابو پشیمانی سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔
یوں ہی شام ہو گئی اور مہمانان رخصت ہوئے۔ اب تو وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ وہاں مہمان کی گاڑی پارکنگ سے نکلی یہاں امی اور ابو نے فوراً ارحم کی کلاس لی۔
’’ کیا ہم نے تمہاری ایسی تربیت کی ہے ؟ گھر آئے مہمان سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ تم نے کھلے عام والدین کی نافرمانی کی۔ آج ارحم تم نے ہماری ناک کٹوا دی۔‘‘
ابو اپنی بھڑاس نکالنے لگے۔
’’ میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ جب ابو تمہیں پیسے دینے لگے تو تم نے انکل سے ہی لینے کی کیوں ضد کی؟ ارحم تمہاری مانگی ہوئی رقم کی قیمت بڑی نہیں تھی ،لیکن تمہاری ضد ہم پر گراں گزری۔‘‘ امی نے سخت خفگی سے کہا۔
ارحم بیچارہ کھڑا اپنا قصور تلاش کرنے لگا۔ ابو ٹہلتے ٹہلتے رکے اور یہ فیصلہ سنایا کہ ارحم دو دن تک گھرسے باہر نہ نکلے۔
ارحم کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو امڈ پڑے۔ اس بے ضرر سی حرکت کی ابو اتنی بڑی سزا تجویز کریں گے ،اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ایک تو اس کی تعطیلات چل رہی تھیں ،جس کی وجہ سے اس کا وقت گھر میں کم ، اور باہر دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں زیادہ گزر رہا تھا۔ میں نے ارحم کو روتے دیکھا تو اسے سمجھا بجھا کر چاکلیٹ دے کر چپ کروایا۔
یہی سوال بار بار ذہن میں آرہا تھا کہ امی ابو کو انکل سے پیسے لینا اتنا ناگوار آخر کیوں گزرا، اسی شش و پنج میں بہت سا وقت گزر گیا ۔تسکینِ قلب کے لئے صبح بند کی ہوئی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگی تو اچانک میری نظر اس آیت پر پڑی:
اِنّ اللّٔہ لَا یَغْفِرُ اَن یُّشْرکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء
(بے شک اللہ تعالیٰ اس جرم کو نہیںبخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اس کے سوا جس کو چاہے بخش دے گا۔)
بس اس آیت سے آج گھر میں گزرے ہوئے نادان واقعہ کا معائنہ کرنے لگی۔کسی حد تک میرے والدین کی خفگی بجا لگی،جبکہ اللہ رب العالمین دونوں جہاں کا رب جو ہم سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے وہ اپنی ذات میں شرکت پسند نہیں کرتا، تو پھر یہ تو والدین ہیں جو اپنی نظروں کے سامنے اپنی اولاد کو کسی دوسرے کو فوقیت دینا پسند نہیں کرتے۔ شرک یہ ایسا گناہ ہے جو معافی کے زمرے میں نہیں آتا۔ انسان بڑا ہی کم ظرف ہے ۔ رزق تو اللہ کا عطا کردہ کھاتا ہے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کی امید غیر اللہ سے لگائے رہتاہے۔
آج جو واقعہ ہوا اس نے اللہ کی ناراضگی اور اس کے غیض و غضب سے واقف کرایا۔ ارحم ،ابو سے پیسے لیتا یا انکل سے بات تو ایک ہی تھی لیکن اللہ اور بندے کے درمیان یہ معاملہ نہیں ہوتا۔جب والدین کی شفقت میں اتنی ناراضگی ہے تو اللہ تو پھر محبت بھی بےپناہ کرتا ہے پھر اس کا غضب بھی خوفناک ہوگا۔
غیر سے مانگنا والدین کو گراں گزرا ۔اللہ کے علاوہ کسی سے مانگنا اسے کیسے نہ ناگوار گزرے ۔
والدین بچوں کو کتنا اپنا سمجھتے ہیں کہ ہر ضرورت کی تکمیل پر وہی سامنے کھڑے ہوں۔اللہ بندے کو کتنا قریب رکھتا ہے کہ ہر ضرورت کی تکمیل وہی کرے ۔یہ احساس قربت ہے محبت کرنے والے کو دوری نہیں بھاتا ۔ اللہ آپ کے قریب ہے اور وہ ہر ضرورت ہر بندے کو جواب دیتا ہے۔
آج جو واقعہ ہوا اس نے اللہ کی ناراضگی اور اس کے غیض و غضب سے واقف کرایا۔ ارحم ،ابو سے پیسے لیتا یا انکل سے بات تو ایک ہی تھی لیکن اللہ اور بندے کے درمیان یہ معاملہ نہیں ہوتا۔جب والدین کی شفقت میں اتنی ناراضگی ہے تو اللہ تو پھر محبت بھی بےپناہ کرتا ہے پھر اس کا غضب بھی خوفناک ہوگا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ٢٠٢٢